Saturday, April 25, 2020

#رافضی_رضاکار

0 تبصرے
ایک عرصے سے سلمان و بن سلمان پر جو لوگ ستّو پانی باندھ کر طوفان بدتمیزی کا محاذ کھولے ہوئے ہیں، آج رافضیت کے ہاتھوں بہت معمولی قیمت پر صحابہ کو مجرم کہنے والے اور طعن و تشنیع کرنے والے سلمان کے خلاف ان کی زبانیں گنگ ہوگئی ہیں! آج ہزار مصلحتوں، تقدسات اور تبرکات کا حوالہ دے رہے ہیں. جب کہ یہی لوگ سلمان اور بن سلمان کا اصولی دفاع کرنے پر بھی لوگوں کو ریالی کہتے نہیں تھکتے ہیں.

Friday, April 24, 2020

گرگٹ کے سارے رنگ دیکھوں تجھ میں!

0 تبصرے



 یہ ہیں #اعجازخان! جو کچھ عرصے سے طرح طرح کی ویڈیوز بناکر قوم کو*#ـوتیا بنانے کے فراق میں ہیں! گذشتہ انتخابات میں #MEP کے دربار میں نظر آئے. نوہیرا سے فائدہ نہیں ہوا تو قوم کے درد کا ڈھنڈورا لے کر مجلس سپریمو بیریسٹر اسد الدین اویسی کے پاس آئے. اور جناب نے یہ خوش فہمی پال لی کہ ایک بیرسٹر کو*#ــوتیا بنا لے جائیں گے!
مہاشَے کی بیان بازی سے مجھے کبھی نہیں لگا کہ یہ قوم کے لیے کوئی خاص درد رکھتے ہیں. یہ کیسا درد ہے کہ ٹکٹ نہ دینے پر پارٹی سے بغاوت اور پھر اسی قوم کے ایک اور فرد کے سامنے آخر اداکار جو ٹھہرے؟
اتنا درد ابل رہا تھا نومنیشن بھر کر قوم کی واٹ لگا رہے ہیں؟!! اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں تو کسی ایسی جگہ سے نومنیشن رجسٹر کراتے جہاں سے کوئی مسلم دشمن کھڑا ہے! یا کم از کم کوئی غیر مسلم ہے!!


سخاوت کی سیلفی

0 تبصرے
یہ میرا اپنا خیال ہے، آپ مکمل اختلاف کر سکتے ہیں!
میرے خیال سے سیلاب یا دیگر آفات کے وقت راحت اور امداد رسانی کی جو انفرادی سیلفیاں سوشل میڈیا پر چسپاں کی جاتی ہیں، اسکی چنداں ضرورت نہیں ہے. آپ اجتماعی تصویر ہی نشر کردیں یہی کافی ہوگا. انفرادی تصویریں بہت پریشان کن ہیں. اس سے جہاں ریاکاری کا پہلو غالب ہوتا ہے، وہیں امداد لینے والے کی عزتِ نفس بھی مخدوش ہوتی ہے. خدا را امدادی جمعیات کے ذمہ داران اس کاخیال رکھیں!
انفرادی تصاویر آپ جمعیات کے حوالے کردیں. اور بہ طور ثبوت وہ ان تصاویر کو اپنی حفاظت میں رکھیں! سوشل میڈیا میں ان کی نمائش کی کوئی وجہ نہیں ہے.
اللّٰه مجھے عقلِ سلیم دے!

غلامی

0 تبصرے
کئی روز سے مسلسل مختلف گروپوں میں یہ پیغام نشر ہورہا ہے کہ بابری مسجد فیصلے کی وجہ سے کسی قسم کا بیان آگیا تو ہماری واٹ لگ جائے گی! اس لیے احتیاطاً گروپوں میں پوسٹ کےآپشن کو بلاک کیا جا رہا ہے. بلکہ بلاکنگ کی ہوڑ لگی ہوئی ہے. حالاں کہ سرکار کی طرف سے ایسا کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہے، اور یہ ایک افواہ ہے کہ تمام کال ریکارڈ ہوں گے.
اور اس مزاج کو ہوا دینے میں ملی قائدین پیش پیش ہیں! ان کا بے جا احتیاطی بیان دینا اور حالات پر کسی قسم کی گفت و شنید کو جرم قرار دینے کو دیکھ کر لگتا ہے گویا انھوں نے بھی اب تسلیم کر لیا ہے کہ ہم اب آزادی سے غلامی کی دہلیز تک پہنچ گئے ہیں.