Friday, March 1, 2019

جملے باز

0 تبصرے
17 ستمبر 2017

ہند کی سیاست میں لفظ "جملہ" ایک اصطلاح بن چکا ہے۔ اور یہ اصطلاح اس وقت "ایجاد" ہوئی جب حالیہ حکومت نے اپنے کئے ہوئے کئی وعدوں کو محض "جملہ" قرار دیا۔ اسی وقت سے عموما "جملہ باز" سے مراد حالیہ حکومت کے نمائندوں کو لیا جاتا ہے۔
ایک کہاوت ہے کہ جھوٹ کو اتنی بار بولو کہ وہ سچ ہوجائے۔ اور یہ کہاوت زندہ مثال بن کر اس وقت سامنے آئی جب ہندوستان میں وزیر اعظم کو مشتہر کیا جارہا تھا تو اسی طرح قسم ہا قسم کے جھوٹ کو ان کی طرف منسوب کرکے انہیں مشہور کرنے کی مذموم حرکت ہند کے چند نمایاں لیکن زر خرید ذرائع ابلاغ نے کیا۔ اور ان جھوٹے اور معدوم اوصاف کی اس قدر تشہیر ہوئی کہ آج ہر کوئی ان باتوں کو سچ ماننے لگا ہے! 
مثلا: ذرائع ابلاغ پر ایمان کی حد تک یقین رکھنے والی عوامِ ہند نے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ "مودی چائے بیچنے والا ایک بہت ہی عام آدمی ہے۔" جب کہ تحقیقات بتاتے ہیں کہ یہ بھی ایک "جملہ" کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسی طرح نریندر مودی کو "کنوارا" کہا گیا۔ اور اتنی بار کہا گیا ہے اب "یشودا بین مودی" کے ہزاروں جتن کے باوجود کوئی محترمہ کو مودی کی بیوی ماننے کو تیار ہی نہیں! 
ہم مسلمان بھی کچھ کم نہیں۔ ہم بھی بہت سے جملے بازوں کی جملے بازی کو ایمان کی حد تک سچ مانتے آئے ہیں۔ اور ایسے افراد کو قوم و ملت کی ناخدائی سونپ دی جو بہ ظاہر تو امت کے خیر خواہ ہیں لیکن پس پردہ ان میں قوم و ملت کی بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
ایک عرصے سے ہمارے یہاں بعض طفلان مکتب نے جمہوریہ ایران کو "امت مسلمہ کا سب سے بڑا خیر خواہ" تسلیم کیا ہوا ہے۔ کیا مجال کہ ایران کے خلاف ان کے سامنے کوئی بات کہہ دیں۔ فورا آپ پر "ریالی"، "سعودی ایجینٹ"، "امریکہ یا یہود کا غلام" جیسے بے شمار القاب و فتاوے چسپاں ہوجائیں گے۔ اس کی وجہ بھی ایران کی "جملہ بازی" ہے۔ ایک عرصے تک ایران امریکہ اور پورپ کو بہ ظاہر للکارتا رہا۔ اور ہیرو اور اسلام و مسلمین کا نمائندہ بننے کا ڈھونگ کرتا رہا۔ لیکن پس پردہ اس کی اسلام دشمنی کو کسی نے نہیں دیکھا۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ ان کی خفیہ ملاقات گوکہ بعض ذرائع ابلاغ نے ظاہر کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں کون تسلیم کرتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات منقطع ہونے کی خبر کو وہ غلط مانتے ہیں لیکن ایران کے اسرائیلی تعلقات پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
ایک زمانے میں یرغمالی "مرسی" بھی امیر المؤمنین ہوا کرتے تھے۔ ان پر "سیسی" نے جو کیا میں اس کی حمایت تو ہرگز نہیں کرتا۔ لیکن اب بھی بعضوں کے لئے وہ خلیفة المسلمین ہیں۔ اور اب ایک نئے خیر خواہ کی آمد آمد ہے۔ جو مسلمانوں کے تمام معاملوں میں ایران کی طرز پر اپنی موجودگی اور نمائندگی درج کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے۔ اللہ کرے کہ وہ شخص ویسا ہی ہو جس کی امید لوگوں کو ہے۔ لیکن بعض تحقیقات اور ماضی کے احوال کے مطالعے سے یہ بھی ایک بھیانک منظر نامے کی طرف پیش قدمی لگتی ہے۔ ترکی کے بارے میں پہلے جان لیں کہ وہاں کے لوگ کس قسم کے ہیں، کیسے مسلم اور کیسے اسلام دوست ہیں۔ پھر شوق سے ترکی کو دار الخلافہ قرار دیں! 

در اصل جملوں پر یقین کرنے والے ہر دو "بھکت" کی حالت یکساں ہے۔ وہ بھی اپنے "گرو" کی باتوں کو حرف آخر مانتے ہیں، اور انہیں اپنے "بھگوان" کا "اوتار" تک بنا دیتے ہیں۔ اور یہاں ہم بھی اپنے مرشد کو امیر المؤمنین کے رتبے تک پہونچا دیتے ہیں۔

دونوں طرف تحقیق کا فقدان ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے ہم مسلمان ہونے کے باوجود "بھکتی" کے میدان میں مودی کے "اندھ بھکتوں" سے کچھ بھی کم نہیں ہیں!