Sunday, January 20, 2019

#10YearsChallenge

0 تبصرے

       سال 2019کی شروعات ہوتے ہی سوشل میڈیا میں گزشتہ دس سالوں کی ایک جھلکی دکھانے کے لیے ایک ہیش ٹیگ چلا۔ تو مجھے بھی دس سال قبل کی ایک تصویر ملی، اور اس کو دیکھ کر ماضی میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگا۔ ایک ایک  کر کے واقعات نظروں کے سامنے آتے گئے، اور میں انہی میں کھو سا گیا۔
       ان دس سالوں میں زندگی کے بہت سے نشیب و فراز سے رو بہ رو ہوا۔ بہت سے تلخ و شیریں تجربات ہوئے۔ کچھ نئے رشتے وجود میں آئے، کچھ بچھڑ گئے۔ وجوہات میں کچھ میری نادانیاں اور جگر پاروں کی کچھ غلط فہمیاں بھی ہیں۔
میرے لئے اس طویل عرصے میں کئی قیمتی اسباق ہوئے۔ جن میں سے چند اسباق پیش ہیں:
٭           مالی اعتبار سے آپ کے حالات جب تک مضبوط ہوں گے، تب تک آپ کے گرد چاہنے والوں کا ہجوم ہو گا۔ اور جب معاشی اعتبار سے کمزور ہو جائیں گے، تو آپ کی معمولی ترین غلطی ایک جرم عظیم ہو جایا کرے گی۔
٭           خواہشات کو محدود کر لیں تو پھر تنخواہ کے معیار پر آپ کا کوئی کام منحصر نہیں ہو گا۔
٭          جتنا آپ کو ملنا ہے اتنا مل کر رہتا ہے۔ اسے آپ سے کوئی بھی چھین نہیں سکتا ہے۔ اور جو آپ کو نہیں ملنا ہے، اس  کے لیے آپ لاکھ کوشش کریں وہ کسی صورت نہیں مل سکتا ہے۔
٭         جب آپ آزمائشوں میں گھرتے ہیں تو بسا اوقات وہ تمام افراد آپ کے خلاف ہوتے ہیں آپ کے جگر پارے ہیں۔
٭          آپ کے خلاف اگر ایک الزام لگا،  اور وہ محض الزام تھا، پھر بھی آپ گرد سارا زمانہ سازشوں اور افواہوں کا بازار لگا دیتا ہے۔ پھر آپ کے ذریعے کیا ہوا ہر مثبت کام بھی اسی الزام کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف صبر ہی ایک کار آمد ساتھی ہے، جس کے ذریعے آپ اپنے غموں کو ہلکا کر سکتے ہیں۔
٭          اگر آپ تعلیم حاصل کرتے وقت بے غرض ہو کر تعلیم سے صرف علم کے لئے محبت کا تعلق قائم کرتے ہیں تو وہ علم  ہر مشکل وقت میں آپ کا مدد گار ثابت ہو تا ہے۔
٭          شادی کے بعد زندگی کے حالات اور لوگوں سے تعلقات یکسر بدلنے لگتے ہیں۔ کیوں کہ  ایک نئے رشتے سے منسلک ہونے کی وجہ سے جہاں مصروفیت بڑھتی ہے، وہیں آپ کی محبت اور کمائی بٹنے لگتی ہے۔ اس نئی تبدیلی اور اس کی ضرورت کو جو سوجھ بوجھ کے ساتھ سمجھتے ہیں وہ واقعی اس تبدیلی سے شاکی نہیں ہوتے ہیں۔ لیکن جو بھی اسے سمجھ نہیں پاتے وہ اس  تبدیلی کو قبول نہیں کر پاتے ہیں۔ اور پھر طعن و تشنیع، اور بدگمانیوں کا وہ لا متناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ جہاں صرف اور صرف نفرت اور غیض و غضب کو بڑھاوا ملتا ہے۔
٭          زندگی جینے کے کچھ اصولوں کو حالات کے پیش نظر طوعاً و کرهاً بدلنا ہی پڑتا ہے۔
٭          کسی پریشانی یا مصیبت کے وقت اس سے ابھرنے کی حتی الامکان کوشش تو  ہونی چاہیے۔  لیکن ایسے حالات میں تناؤ اور ٹینشن سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے، بلکہ مزید پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔
٭          غلط فہمی کبھی کبھی اتنی مہلک ہوتی ہے کہ طویل عرصے کی رفاقت کو ختم کر دیتی ہے۔
#10YearsChallenge