Friday, June 15, 2018

چاند برائے فروخت

0 تبصرے
#چاند_برائے_فروخت
15 جون 2018

یہ لو! اب مفتیان کرام کا سیلاب امڈ پڑا ہے! 
یار "گجب گجب" اصول بتائے اور بنائے جارہے ہیں!
درجن بھر افراد کی گواہی تو گئی بھاڑ میں! اب "بھکت " یہ سوال داغے جارہے ہیں کہ "کیا آپ نے بہ ذات خود چاند دیکھا؟"
" آپ کے علاقے میں کسی نے دیکھا؟"

تصویر: گوگل


اماں یار جنھوں نے دیکھا ان گوشت پوست کے پیکروں کو تو "بزرگانِ دین" نے "مردہ" اوہ معاف کیجئے گا "کالعدم" ہی "گھوشت" کردیا ہے۔ اب دیگروں کو کیا مرنے کا شوق چڑھا ہے جو اوکھلی میں سر رکھیں!؟ 
ایک بھکت نے تو یہاں تک ارشاد فرما دیا: 
"چوں کہ شعبان 29 دن کا تھا اس لئے رمضان 30 کا ہی ہوگا۔" 
وہ جناب اسی پر نہیں ٹھہرے بلکہ پھر فقہ کا ایک "ہلالی اصول" بیان فرما دیا اور گویا ہوئے: 
"پے در پے دو ماہ 29 دن کے نہیں ہوتے!" 
سبحان اللہ! مفتی صاحب اب تک کس غار میں پردہ فرمائے ہوئے تھے؟ اب تک کے سارے جھگڑے ختم ہوگئے ہوتے اگر آپ پہلے ظہور فرماتے!
خیر! یہ چاند بھی نا بڑا بے حس نکلا! 
اسے ذرا بھی خیال نہ آیا کہ "خیر امت" اس کے ایک دیدار کے لئے "سماجی روابط کے جادوئی جال میں "تختۂ کلید " جیسے ترقی یافتہ اسلحے سے ایک دوسرے کی عزت اور شہرت اور نہ جانے کس کس چیز کو تار تار کرنے کو تیار ہے۔ اور چاند ہے کہ اسے نخرے کی پڑی ہے! اسی اثناء کسی نے کہہ کیا دیا کہ ہم نے اس ظالم کی ایک جھلک کا دیدار کر لیا ہے۔ بس اب کیا تھا! جنگ جاری ہوگئی! جو ہنوز جاری ہے۔
"کیا تمھیں کل ہی چہرہ دکھانا ضروری تھا! ایک شام اور انتظار ہوجاتا تو کون سی قیامت آجاتی!"
 اس سرزنش پر اس بے حس کو کچھ بھی فرق نہیں پڑا۔ مغرب سے قبل جلوۂ حسن کا ظہور ہوا تھا جو دیر عشاء تک "خیر امت " کا منہ چڑانے میں لگا رہا۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ "لو دیکھ لو! میرے دیدار کے لئے مرے جارہے تھے!"
خیر، "ان کا حسن ان کی مرضی!"
 آج جی بھر کے دیدار کا شرف حاصل ہوگیا! مجھے لگا کہ شاید قصہ یہیں تمام ہوگا! 
لیکن نہیں جناب عمر تمام ہوجائے گی پر یہ قصہ نا تمام ہی رہے گا! 
پھر اب اسکرین سیاہ کرنے کا فائدہ نہیں ہے! آپ ایک عدد فیس بک اور ایک عدد واٹس اپ لے آئیں۔ اور اس ناتمام قصے کو تختۂ کلید کی مدد سے تمام کرتے رہیں! 
#عید_سعید
تحریر: ظفر شیر شاہ آبادی