Monday, December 26, 2016

گاؤں کی پر سکون زمیں چاہئے مجھے

0 تبصرے

 موجِ سخن فیس بک گروپ کے 166 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔

ختمِ رسل کی شرعِ متیں چاہئے مجھے
فرقوں کی مغز ماری نہیں چاہئے مجھے

مجھ کو سمجھ سکے وہ قریں چایئے مجھے
سیرت سے ہم سفر بھی حسیں چاہئے مجھے

یا رب مجھے بھی آہنی جذبہ نواز دے
خود سے بھی لڑ سکوں وہ یقیں چاہئے مجھے

 دنیا کی جستجو میں تجھے بھول چکا میں
سجدوں میں ہو مگن وہ جبیں چاہئے مجھے

شہروں کے شور و غل سے بہت اوب چکا ہوں
گاؤں کی پر سکون زمیں چاہئے مجھے

مظلومیت کا میں ہوں علَم نام ہے حلَب
انصاف کو عمر سا امیں چاہئے مجھے

  دنیا میں نعمتیں تو بہت تو نے دیں مجھے
عُقبیٰ میں تیری خلدِ بریں چاہیے مجھے

تیری نوازشوں کا طلب گار ہے ظفؔر 
احسان اب کسی کا نہیں چاہئے مجھے

سفاک دیکھنا ہو تو بشار دیکھنا

0 تبصرے
 موجِ سخن فیس بک گروپ کے 165 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔



سفاک دیکھنا ہو تو بشّار دیکھنا
فرعون صفت ظالم و خوں خوار دیکھنا

مسلک الگ ہے ان کا تو مر جانے دیجئے
ہم کو فقط ہے مسند و دستار دیکھنا

مقصد فقط ہے تجھ کو ستانے کا یہ صنم
غصے کے وقت زردیٔ رخسار دیکھنا

دھوکے بہت ملے ہیں اسی کار و بار میں
اب دوستی سے قبل ہے کردار دیکھنا

میرے بغیر تجھ کو سکوں مل سکے گا کیا
میں بھی تڑپ رہا ہوں مرے یار دیکھنا

کردار یاں پہ کون تلاشے ہے ناصحا
اب ہم سفر بھی ہم کو ہے زر دار دیکھنا

جملوں کے شہ سوار نے نوٹوں کو رد کیا
کیا اور گل کھلائے گی سرکار دیکھنا

میں کیا کہوں کہ آج سراپا ہی گوش ہوں
سرگوشیوں میں مجھ کو ہے اظہار دیکھنا

ہنستے ہو تم جو آج ظفؔر پر تو ہنس بھی لو
رسوائی نا ملے سرِ بازار دیکھنا

Friday, December 16, 2016

حلب کا فرقہ کیا ہے؟

0 تبصرے
حلب پر میں کیا کہوں! اور کیا لکھوں!!؟ ویڈیوز دیکھنے کے بعد اب کچھ کہنے کے لئے بچا ہی کیا ہے! 

لوگ اپنے اپنے طرز پر چند پرسوز تحریریں لکھیں گے۔ نئے نئے #ہیش_ٹیگ بنیں گے۔ کچھ ایام تک یوں ہی یہ سلسلہ چلے گا۔ پھر برما کی نسل کشی کی طرح شام بھی جل چکا ہوگا۔ اور تب تک ہم سبھوں کو کوئی نہ کوئی نیا موضوع مل ہی جائے گا۔ اور قوم کی بے حسی میں اضافہ ہوتا ہی جائے گا۔

ہمیں ہر ماہ اپنے مخالف فرقوں پر دھواں دھار تقریریں کرنے کی عادت سی پڑی ہوئی ہے۔ ہم اسی میں بالکل کمفرٹیبل ہیں۔

 گذشتہ چند سالوں میں فیس بک اور ٹویٹر پر یہی ہوتا آرہا ہے۔ ہم اپنی مسندوں کو بچانے کے چکر میں قوم کو خود بانٹ رہے ہیں۔ قوم میں فروعی مسائل پر اتحاد قیامت تک شاید ناممکنات میں سے ہے۔ لیکن ملی اتحاد ممکن ہے۔ جس کی کئی مثالیں ماضی میں موجود ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج شام کی اس بدترین حالت میں ہم فرقہ فرقہ کھیل رہے ہیں! 

ہند میں حال ہی میں مسلم پرسنل لاء کو لے کر جو باتیں ہوئیں۔ اس وقت بھی سب فرقہ فرقہ کھیل رہے تھے۔ بھئی یہ کھیل تو چلتا رہے گا۔ لیکن کھیل کھیل میں دشمن آپ سے کھیل لے گا۔ اور یہ ضرور یاد رکھیں کہ یہ حالات آج شام میں ہیں کل کو آپ کا شہر بھی حلب بن سکتا ہے! پھر بھی کھیلتے رہو! میں بھی خواہ مخواہ بکے جارہا ہوں۔