Friday, November 11, 2016

کیوں ہو پرواہ مجھے سچ ہے وظیفہ میرا

0 تبصرے
تابعِ سنت و قرآں ہے عقیدہ میرا
میں مسلمان ہوں ایماں ہے سلیقہ میرا

نت نئے ہیں یہاں بدعات و خرافات بہت
ان سے نفرت ہے کہ سنت ہے وطیرہ میرا

گرچہ ہے میرا مخالف یہ زمانہ سارا
کیوں ہو پرواہ مجھے سچ ہے وظیفہ میرا

اب تو مسلک کی لڑائی کو ذرا رہنے دیں
ورنہ پھر ڈوب ہی جائے گا سفینہ میرا

مرے انداز پہ انگشت نمائی اس کی
شاید اس نے نہیں دیکھا ہے طریقہ میرا

میری تقدیر میں جو ہے وہ ملے گا مجھ کو
چھین لے گا وہ سمجھتا ہے نصیبہ میرا

ہو میسر مجھے جنت میں نبی کی صحبت
کر لے منظور الہی یہ عریضہ میرا

مرے دشمن کے فریبوں سے ہوئے ہو بد ظن
سچ کو جانو تو سہی پڑھ لو صحیفہ میرا

ان کو بتلا دو ظفؔر میرا نسب کیسا ہے
خیرِ امت ہوں، ہے اسلام قبیلہ میرا

Saturday, November 5, 2016

مجھ کو اونچائی تلک یہ فیصلہ لے جائے گا

0 تبصرے

شیر شاہ آبادی انٹلیکچوئیل گروپ کے طرحی مشاعرے میں پیش کی گئی غزل

ایک دن یہ فخر تیرا مرتبہ لے جائے گا
تجھ سے تیرے دوستوں کا دائرہ لے جائے گا

اس کی محفل میں نہ جانا وہ بڑا بے ذوق ہے
 وہ تری ہر حس ترا ہر ذائقہ لے جائے گا

مت ملانا اس کی نظروں سے کبھی اپنی نظر
اک نظر میں تیرے دل کا جائزہ لے جائے گا

 تو سناتا ہے جسے اپنا سمجھ کر ہر غزل
ہر غزل کا وہ ردیف و قافیہ لے جائے گا

ٹھوکروں سے لے سبق اے شیر شہ آبادی سن
سمتِ منزل تجھ کو تیرا تجربہ لے جائے گا

دوریاں اپنوں سے تیری نا فنا کردیں تجھے
تجھ کو دلدل میں ترا یہ فاصلہ لے جائے گا

اب دیارِ غیر کو میں بھی کہوں گا خیر باد
مجھ کو اونچائی تلک یہ فیصلہ لے جائے گا

پست ہمت ہے وہ خود کیا مشورہ دے گا مجھے
وہ  مشیرِ    کار  میرا  حوصلہ    لے  جائے گا

سنت  و قرآن  ہی  بس  ہے  صراطِ  مستقیم
بابِ  جنت  تک یہی اک  راستہ  لے  جائے  گا

راستے دشوار ہیں پھر بھی ظفؔر چلتا ہی جا
منزلوں    تک  پیر   کا یہ  آبلہ   لے جائے   گا

کچھ آپ بھی تو سیکھئے غیروں کو دیکھ کر

0 تبصرے


پڑھتے ہیں وہ دلوں کو بھی نظروں کو دیکھ کر
سیرت بھی جان لیتے ہیں چہروں کو دیکھ کر

مے کش کو مے کدے کو تو دیکھا کئے مگر
بہکے ہیں ہم تو آپ کے نخروں کو دیکھ کر

کس منہ سے آپ ہم کو نصیحت سنائیں گے
بگڑی ہے نسل آپ کے شہروں کو دیکھ کر

سرحد اجڑ رہی ہے خبر ہے کہ جنگ ہے
تڑپا ہوں میں بھی آج کی خبروں کو دیکھ کر

میں بھی یہیں پہ آؤں گا اک دن یقین ہے
یوں کیوں اداس آج ہوں قبروں کو دیکھ کر

دولت سے علم کے ہی ہوئے ہیں وہ سرخ رو
کچھ آپ بھی تو سیکھئے غیروں کو دیکھ کر

یہ شاعری نہیں ہے سوانح ظفؔر کی ہے
 احوال میرے جانئے شعروں کو دیکھ کر

پہلو میں کوئی دل ہے کہ پتھر ہی رکھا ہے

0 تبصرے
گو  اس  کے  ہر  اک وار  کا   انداز   جدا  ہے
ہر  وار   پہ   یکساں   ہی مگر  زخم  ہوا  ہے

اب دشمنوں  کی صف میں بھی آگے ہی کھڑا  ہے
وہ شخص جو میری ہی نوازش پہ پلا ہے

کس نام سے تجھ کو میں بھلا یاد کروں گا
تجھ  سے  تو  فقط  یار مجھے درد  ملا ہے

تنہائی  نے خاموش مزاجی بھی سکھا دی
یہ  شہرِ خموشاں  مجھے  اپنا  ہی  لگا ہے

کہتا تھا مجھے وہ کہ بہت بولتا ہوں میں
اب  خامشی بھی اس کے لئے ایک سزا ہے

ہم  راز  مرے  چند منافق  بھی  ہوئے ہیں
ان  ہی کے  فریبوں نے مجھے  زیر کیا  ہے

مجھ کو ہے یقیں اس کو ندامت ہی ملے گی
جو طیش میں آکر کے جدا مجھ سے ہوا ہے

زخموں  پہ مرے تیری یہ مسکان ہے کیسی
پہلو میں کوئی دل ہے کہ پتھر ہی رکھا ہے

سچ   بولنا  تو   آج   ظفؔر  جرم   ہے   گویا
 کل تک جو فدا تھا وہی اب مجھ سے خفا ہے