Monday, December 26, 2016

گاؤں کی پر سکون زمیں چاہئے مجھے

0 تبصرے

 موجِ سخن فیس بک گروپ کے 166 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔

ختمِ رسل کی شرعِ متیں چاہئے مجھے
فرقوں کی مغز ماری نہیں چاہئے مجھے

مجھ کو سمجھ سکے وہ قریں چایئے مجھے
سیرت سے ہم سفر بھی حسیں چاہئے مجھے

یا رب مجھے بھی آہنی جذبہ نواز دے
خود سے بھی لڑ سکوں وہ یقیں چاہئے مجھے

 دنیا کی جستجو میں تجھے بھول چکا میں
سجدوں میں ہو مگن وہ جبیں چاہئے مجھے

شہروں کے شور و غل سے بہت اوب چکا ہوں
گاؤں کی پر سکون زمیں چاہئے مجھے

مظلومیت کا میں ہوں علَم نام ہے حلَب
انصاف کو عمر سا امیں چاہئے مجھے

  دنیا میں نعمتیں تو بہت تو نے دیں مجھے
عُقبیٰ میں تیری خلدِ بریں چاہیے مجھے

تیری نوازشوں کا طلب گار ہے ظفؔر 
احسان اب کسی کا نہیں چاہئے مجھے

سفاک دیکھنا ہو تو بشار دیکھنا

0 تبصرے
 موجِ سخن فیس بک گروپ کے 165 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔



سفاک دیکھنا ہو تو بشّار دیکھنا
فرعون صفت ظالم و خوں خوار دیکھنا

مسلک الگ ہے ان کا تو مر جانے دیجئے
ہم کو فقط ہے مسند و دستار دیکھنا

مقصد فقط ہے تجھ کو ستانے کا یہ صنم
غصے کے وقت زردیٔ رخسار دیکھنا

دھوکے بہت ملے ہیں اسی کار و بار میں
اب دوستی سے قبل ہے کردار دیکھنا

میرے بغیر تجھ کو سکوں مل سکے گا کیا
میں بھی تڑپ رہا ہوں مرے یار دیکھنا

کردار یاں پہ کون تلاشے ہے ناصحا
اب ہم سفر بھی ہم کو ہے زر دار دیکھنا

جملوں کے شہ سوار نے نوٹوں کو رد کیا
کیا اور گل کھلائے گی سرکار دیکھنا

میں کیا کہوں کہ آج سراپا ہی گوش ہوں
سرگوشیوں میں مجھ کو ہے اظہار دیکھنا

ہنستے ہو تم جو آج ظفؔر پر تو ہنس بھی لو
رسوائی نا ملے سرِ بازار دیکھنا

Friday, December 16, 2016

حلب کا فرقہ کیا ہے؟

0 تبصرے
حلب پر میں کیا کہوں! اور کیا لکھوں!!؟ ویڈیوز دیکھنے کے بعد اب کچھ کہنے کے لئے بچا ہی کیا ہے! 

لوگ اپنے اپنے طرز پر چند پرسوز تحریریں لکھیں گے۔ نئے نئے #ہیش_ٹیگ بنیں گے۔ کچھ ایام تک یوں ہی یہ سلسلہ چلے گا۔ پھر برما کی نسل کشی کی طرح شام بھی جل چکا ہوگا۔ اور تب تک ہم سبھوں کو کوئی نہ کوئی نیا موضوع مل ہی جائے گا۔ اور قوم کی بے حسی میں اضافہ ہوتا ہی جائے گا۔

ہمیں ہر ماہ اپنے مخالف فرقوں پر دھواں دھار تقریریں کرنے کی عادت سی پڑی ہوئی ہے۔ ہم اسی میں بالکل کمفرٹیبل ہیں۔

 گذشتہ چند سالوں میں فیس بک اور ٹویٹر پر یہی ہوتا آرہا ہے۔ ہم اپنی مسندوں کو بچانے کے چکر میں قوم کو خود بانٹ رہے ہیں۔ قوم میں فروعی مسائل پر اتحاد قیامت تک شاید ناممکنات میں سے ہے۔ لیکن ملی اتحاد ممکن ہے۔ جس کی کئی مثالیں ماضی میں موجود ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج شام کی اس بدترین حالت میں ہم فرقہ فرقہ کھیل رہے ہیں! 

ہند میں حال ہی میں مسلم پرسنل لاء کو لے کر جو باتیں ہوئیں۔ اس وقت بھی سب فرقہ فرقہ کھیل رہے تھے۔ بھئی یہ کھیل تو چلتا رہے گا۔ لیکن کھیل کھیل میں دشمن آپ سے کھیل لے گا۔ اور یہ ضرور یاد رکھیں کہ یہ حالات آج شام میں ہیں کل کو آپ کا شہر بھی حلب بن سکتا ہے! پھر بھی کھیلتے رہو! میں بھی خواہ مخواہ بکے جارہا ہوں۔

Friday, November 11, 2016

کیوں ہو پرواہ مجھے سچ ہے وظیفہ میرا

0 تبصرے
تابعِ سنت و قرآں ہے عقیدہ میرا
میں مسلمان ہوں ایماں ہے سلیقہ میرا

نت نئے ہیں یہاں بدعات و خرافات بہت
ان سے نفرت ہے کہ سنت ہے وطیرہ میرا

گرچہ ہے میرا مخالف یہ زمانہ سارا
کیوں ہو پرواہ مجھے سچ ہے وظیفہ میرا

اب تو مسلک کی لڑائی کو ذرا رہنے دیں
ورنہ پھر ڈوب ہی جائے گا سفینہ میرا

مرے انداز پہ انگشت نمائی اس کی
شاید اس نے نہیں دیکھا ہے طریقہ میرا

میری تقدیر میں جو ہے وہ ملے گا مجھ کو
چھین لے گا وہ سمجھتا ہے نصیبہ میرا

ہو میسر مجھے جنت میں نبی کی صحبت
کر لے منظور الہی یہ عریضہ میرا

مرے دشمن کے فریبوں سے ہوئے ہو بد ظن
سچ کو جانو تو سہی پڑھ لو صحیفہ میرا

ان کو بتلا دو ظفؔر میرا نسب کیسا ہے
خیرِ امت ہوں، ہے اسلام قبیلہ میرا

Saturday, November 5, 2016

مجھ کو اونچائی تلک یہ فیصلہ لے جائے گا

0 تبصرے

شیر شاہ آبادی انٹلیکچوئیل گروپ کے طرحی مشاعرے میں پیش کی گئی غزل

ایک دن یہ فخر تیرا مرتبہ لے جائے گا
تجھ سے تیرے دوستوں کا دائرہ لے جائے گا

اس کی محفل میں نہ جانا وہ بڑا بے ذوق ہے
 وہ تری ہر حس ترا ہر ذائقہ لے جائے گا

مت ملانا اس کی نظروں سے کبھی اپنی نظر
اک نظر میں تیرے دل کا جائزہ لے جائے گا

 تو سناتا ہے جسے اپنا سمجھ کر ہر غزل
ہر غزل کا وہ ردیف و قافیہ لے جائے گا

ٹھوکروں سے لے سبق اے شیر شہ آبادی سن
سمتِ منزل تجھ کو تیرا تجربہ لے جائے گا

دوریاں اپنوں سے تیری نا فنا کردیں تجھے
تجھ کو دلدل میں ترا یہ فاصلہ لے جائے گا

اب دیارِ غیر کو میں بھی کہوں گا خیر باد
مجھ کو اونچائی تلک یہ فیصلہ لے جائے گا

پست ہمت ہے وہ خود کیا مشورہ دے گا مجھے
وہ  مشیرِ    کار  میرا  حوصلہ    لے  جائے گا

سنت  و قرآن  ہی  بس  ہے  صراطِ  مستقیم
بابِ  جنت  تک یہی اک  راستہ  لے  جائے  گا

راستے دشوار ہیں پھر بھی ظفؔر چلتا ہی جا
منزلوں    تک  پیر   کا یہ  آبلہ   لے جائے   گا

کچھ آپ بھی تو سیکھئے غیروں کو دیکھ کر

0 تبصرے


پڑھتے ہیں وہ دلوں کو بھی نظروں کو دیکھ کر
سیرت بھی جان لیتے ہیں چہروں کو دیکھ کر

مے کش کو مے کدے کو تو دیکھا کئے مگر
بہکے ہیں ہم تو آپ کے نخروں کو دیکھ کر

کس منہ سے آپ ہم کو نصیحت سنائیں گے
بگڑی ہے نسل آپ کے شہروں کو دیکھ کر

سرحد اجڑ رہی ہے خبر ہے کہ جنگ ہے
تڑپا ہوں میں بھی آج کی خبروں کو دیکھ کر

میں بھی یہیں پہ آؤں گا اک دن یقین ہے
یوں کیوں اداس آج ہوں قبروں کو دیکھ کر

دولت سے علم کے ہی ہوئے ہیں وہ سرخ رو
کچھ آپ بھی تو سیکھئے غیروں کو دیکھ کر

یہ شاعری نہیں ہے سوانح ظفؔر کی ہے
 احوال میرے جانئے شعروں کو دیکھ کر

پہلو میں کوئی دل ہے کہ پتھر ہی رکھا ہے

0 تبصرے
گو  اس  کے  ہر  اک وار  کا   انداز   جدا  ہے
ہر  وار   پہ   یکساں   ہی مگر  زخم  ہوا  ہے

اب دشمنوں  کی صف میں بھی آگے ہی کھڑا  ہے
وہ شخص جو میری ہی نوازش پہ پلا ہے

کس نام سے تجھ کو میں بھلا یاد کروں گا
تجھ  سے  تو  فقط  یار مجھے درد  ملا ہے

تنہائی  نے خاموش مزاجی بھی سکھا دی
یہ  شہرِ خموشاں  مجھے  اپنا  ہی  لگا ہے

کہتا تھا مجھے وہ کہ بہت بولتا ہوں میں
اب  خامشی بھی اس کے لئے ایک سزا ہے

ہم  راز  مرے  چند منافق  بھی  ہوئے ہیں
ان  ہی کے  فریبوں نے مجھے  زیر کیا  ہے

مجھ کو ہے یقیں اس کو ندامت ہی ملے گی
جو طیش میں آکر کے جدا مجھ سے ہوا ہے

زخموں  پہ مرے تیری یہ مسکان ہے کیسی
پہلو میں کوئی دل ہے کہ پتھر ہی رکھا ہے

سچ   بولنا  تو   آج   ظفؔر  جرم   ہے   گویا
 کل تک جو فدا تھا وہی اب مجھ سے خفا ہے



Thursday, September 8, 2016

ہماری آپ کی آزادیاں بھی ایک جیسی ہیں

0 تبصرے



چمن بھی ایک جیسے، تتلیاں بھی ایک جیسی ہیں
زمینیں صورتِ جنت نشاں بھی ایک جیسی ہیں

ہمارے درد و غم دشواریاں بھی ایک جیسی ہیں
مسیحاؤں میں اب عیاریاں بھی ایک جیسی ہیں

سنا ہے آپ بھی اب خوف کے عالم میں جیتے ہیں
ہماری آپ کی آزادیاں بھی ایک جیسی ہیں

ہمارے ہاں صنم پجتے ہیں تم قبروں کو پوجو ہو
لگے ہے کیرتن قوالیاں بھی ایک جیسی ہیں

جلائی جاتی ہیں دونوں ہی جانب مال کی خاطر
ہماری اور تمھاری بیٹیاں بھی ایک جیسی ہیں

ذرا سی بات پہ تم خون کی ندیاں بہاتے ہو
یہاں ترشول کی شربازیاں بھی ایک جیسی ہیں

زبانیں اور تہذیبیں یہ خور و نوش   ہیں یکساں
یہ موسم اور یہ پروائیاں بھی ایک جیسی ہیں

ہوئے ہو کیوں الگ تم جب سبھی ہم ایک جیسے ہیں
ہماری باہمی دل داریاں بھی ایک جیسی ہیں

غبن سے اور رشوت سے یہاں ہم بھی پریشاں ہیں
سیاسی لیڈروں کی چوریاں بھی ایک جیسی ہیں

ظفؔر ان کی بھی آنکھیں جاگتی رہتی ہیں راتوں کو
ہمارے خواب اور کم خوابیاں بھی ایک جیسی ہیں

(نوٹ: مطلع اول محترم شوکت پرویز صاحب کا عنایت کردہ ہے۔ جس کے لئے میں ان کا بے حد ممنون ہوں۔ )

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Wednesday, September 7, 2016

کہ درد و میر کا غالب کا ہم زباں ہوں میں

0 تبصرے


3 ستمبر 2016  کو منعقد "موجِ سخن" فیس بک گروپ کے 150 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرہ میں لکھی گئی غزل۔

مصرعِ طرح:  تری نگاہ سے لیکن ابھی نہاں ہوں میں....  (عبد الحمید عدؔم)



میں خود میں گم ہوں کہیں آج لا مکاں ہوں میں
مجھے خبر  ہی نہیں ہے  کہ اب   کہاں  ہوں  میں

خوشی کی جستجو میں تو مجھی سے روٹھا ہے
 سکون  میں  ہوں ترا سن کہ  جانِ جاں ہوں میں

میں    تم    پہ   اور   بھلا   کیسے  اعتبار   کروں
مری   نظر   سے  گرے   ہو  کہ بد  گماں ہوں میں

مجھے   تو  ناز  ہے  اردو  کا  میں بھی طالب ہوں
کہ  درؔد  و میؔر  کا   غالؔب   کا  ہم  زباں ہوں  میں

امیرِ    شہر    کی    معصو میت   پہ    مت  جانا
انہی  کے    ظلم  کی  اک  تازہ  داستاں  ہوں میں

وہ   پوچھتے   ہیں  مرا   مسلک  آخرش  کیا  ہے؟ 
 انہیں  کوئی  تو    کہے  ایک   مسلماں  ہوں میں

گناہ    کر    کے   تری   رحمتوں  کا     طالب  ہوں
نہ  ہو   اگر   تری  بخشش  تو  رائیگاں ہوں  میں

قدم   قدم   پہ ہیں  در  پیش  نت    نئے   طوفاں
بھنور   کے  بیچ   ظفؔر   زیرِ  امتحاں   ہوں   میں

ظفؔر شیر شاہ آبادی
کٹیہار، ہندوستان 🇮🇳
;

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Saturday, September 3, 2016

وفا میں جفا بھی تو درکار ہے

0 تبصرے
سید عبدالستار مفتی میموریل فیس بک گروپ کے 54 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔

مصرعِ طرح: "یہاں ریشۂ گل بھی تلوار ہے"



کہیں پر تو پھولوں کی بوچھار ہے
 کہیں یہ زباں مثلِ تلوار ہے 

 یہ آنکھوں کی سرگوشیاں اف صنم
  یہ شاید محبت کا اظہار ہے  

جفاؤں پہ اپنی وہ گویا ہوئے
 وفا میں جفا بھی تو درکار ہے

مری دھڑکنوں سے دھڑکتا تھا جو
ہے افسوس اب مجھ سے بے زار ہے

بھٹکتا تھا جو در بہ در کل تلک
سیاست میں آکر وہ زردار ہے

بناوٹ کے چہروں سے اب ہوشیار
یہ ملت فروشوں کا بازار ہے

 کہ چہرے کی رونق کی بنیاد پر
کسی کو سمجھنا تو دشوار ہے

  جو سب کچھ وطن پر نچھاور کرے
 اسی کو تو کہتا ہے غدار ہے؟ 

ظفر کو نہ سمجھا ئیو ناصحا
خمارِ محبت سے سرشار ہے



;

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

بنی نوع انساں کا سردار ہے

0 تبصرے
سید عبدالستار مفتی میموریل فیس بک گروپ کے 54 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرے میں لکھی گئی نعت نبی ﷺ ۔

مصرعِ طرح: "یہاں ریشۂ گل بھی تلوار ہے"


بنی  نوعِ انساں   کا سر دار ہے
وہ مونس غریبوں کا غم خوار ہے

وہ رحمت سراپا بہ ہر انس و جاں
عظیم ان کا اخلاق و کردار ہے

لبوں سے جھڑے موتیوں کی لڑی
وہ شیرین لب نرم گفتار ہے

حسیں خُلق سے سب مسخر ہوئے
 بہت   خوب صورت یہ تلوار ہے

ضلالت کے طوفاں میں میرا نبی
ہدایت کی کشتی کا پتوار ہے

اگر شرک و بدعت سے خالی نہیں
تو  لا ریب  ہر کار    بے کار ہے

رفاقت نصیب ان کی جنت میں ہو
نگاہوں کو   بس شوقِ  دیدار ہے

ظفؔر کے قلم کو دے رعنائیاں
نہ شاعر نہ کوئی    قلم کار ہے




۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Friday, September 2, 2016

ان سے آیا نہ گیا ہم سے بلایا نہ گیا

0 تبصرے
فیس بک گروپ "قوسِ قزح" میں 30 اگست 2016 کو عالمی سطح پر ایک فی البدیہہ طرحی مشاعرہ منعقد ہوا۔ 
مشاعرہ میں میر تقی میر کی مشہور غزل کا مصرع "سر بھی تسلیمِ محبت میں ہلایا نہ گیا" طرح مشاعرہ قرار پایا۔
اسی مشاعرے میں لکھی گئی ایک مختصر برجستہ غزل!




دل کے احوال کو تم سے ہی چھپایا نہ گیا
لاکھ  چاہا   تھا  مگر تم کو  ستایا نہ گیا

فاصلے ایسے  بڑھے ان سے غلط فہمی میں
ان سے آیا نہ گیا ہم سے بلایا نہ گیا

خوں جلا کر کے بہایا تھا  پسینہ ہم نے
وہ پسینہ تو کبھی خون  کہایا نہ گیا

چند ٹکڑوں پہ اصولوں کو بھی قربان کریں؟ 
یہ کسی درس میں ہم کو تو  سکھایا نہ گیا

تری ہر یاد مٹانے کی بہت کوشش کی
چاہ کرکے بھی تجھے ہم سے بھلایا نہ گیا

روپ رہبر کا ہے پر اصل میں وہ  رہزن ہیں
قوم لٹ جائے گی گر پردہ ہٹایا نہ گیا

خود کو کس منہ سے ظفؔر  خادمِ اردو کہہ دوں
مجھ سے اک  شعر سلیقے کا سنایا نہ گیا

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Tuesday, August 30, 2016

تری بزم سے اب نکلنا پڑے گا

0 تبصرے
بزم انوار ادبی فورم فیس بک گروپ میں 29 اگست 2016 کی شام کو ایک  آن لائن فی البدیہ طرحی مشاعرہ منعقد ہوا۔
مشاعرے کی ابتداء میں جناب اشفاق اسانغنی صاحب کا ایک مصرع طرح کے لئے متعین ہوا۔ مصرع یوں ہے: 
           *اچھالوگے پتھر تو سر پر گرے گا*

چند متفرق اشعار میں نے بھی کہے۔ انہیں یک جا کیا تو ایک غزل ہوگئی۔ تفریح طبع کے لئے پیش خدمت ہے۔ 

                                 📝 *غــــــزل*
 پڑی جو ضرورت تو یہ مر مٹے گا
بہ جُز حکمِ رب سر کبھی نا جھکے گا

ہے ارض و سما کا وہ مالک اکیلا
کہ ذکر اس کا ہر سو ہمیشہ رہے گا

مرا دل جلا کر کے خوش ہونے والے
تری ہر خوشی کا محل بھی جلے گا

تو ذلت کی کھائی میں بھی جا چکا ہے
میں حیرت زدہ ہوں تو کتنا گرے گا

تری شوخ نظروں کی ان شوخیوں نے
مجھے کہہ دیا ہے کہ تو کیا کہے گا

چلاؤ نہ نینوں سے تم تیر مجھ پر
کہ کم ظرف دل ہے مچلتا رہے گا

یہ بے گانگی مجھ سے بتلا رہی ہے
تری  بزم سے اب نکلنا   پڑے گا

 ہو نفرت کی آندھی میں دم چاہے جتنا
چراغِ محبت کبھی نا بجھے گا

مرے نام سے دل دھڑکتا ہے اب بھی
 بتا مجھ سے کیسے تو نفرت کرے گا

تجارت کا ساماں نہیں دل ظفؔر کا
جو پیسوں کی خاطر کہیں بھی بکے گا




۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Monday, August 29, 2016

بڑی مدت سے ہم پیاسے بہت ہیں!

0 تبصرے
27 اگست 2016 کو "موج سخن" فیس بک گروپ کے آن لائن فی البدیہ طرحی مشاعرے کی دوسری غزل۔


ہمارے زخم جو گہرے بہت ہیں
ستم گر کے ستم سہتے بہت ہیں

اگر چہ وہ ہمیں دشمن کہے ہیں
ہمیں وہ یاد بھی کرتے بہت ہیں

ہمیں بھی سرخ ہونٹوں سے پلادے
بڑی مدت سے ہم پیاسے بہت ہیں

محبت کے صنم خانے میں اب تک
بتانِ یار کچھ پجتے بہت ہیں

ہرے رہنے دے دل کے زخم سارے
انہیں ہم دیکھ کر جیتے بہت ہیں

ہماری کام یابی پہ کیوں اکثر 
ہمارے یار ہی جلتے بہت ہیں

نہیں آساں محبت کو نبھانا
محبت میں گلے شکوے بہت ہیں

پریشاں ہوں کسے اسلام سمجھوں
ہوئے اب دین میں فرقے بہت ہیں

ادب کی یہ ظفؔر "موجِ سخن" ہے
یہاں پر چاہنے والے بہت ہیں



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

سنا ہے آپ کے چہرے بہت ہیں

0 تبصرے
مورخہ 27 اگست کو "موجِ سخن" نامی فیس بک گروپ کے 149 ویں آن لائن عالمی طرحی فی البدیہ مشاعرے میں شرکت کا موقع ملا۔ 

میں نے بھی اس محفل میں چند برجستہ اشعار کہنے کی کوشش کی تھی۔ اسی کی یک جا شکل میں پہلی غزل حاضر ہے۔

 برجستہ شعر گوئی کا یہ پہلا تجربہ ہے۔ اہل فن سے خامیوں کی نشان دہی کی امید ہے۔


محبت آپ سے کرتے بہت ہیں
مگر اظہار سے ڈرتے بہت ہیں

پتہ ہے کیوں ہمی کٹتے بہت ہیں؟ 
ہمارے باہمی جھگڑے بہت ہیں

منافق سے ہمیں ہے سخت نفرت
سنا ہے آپ کے چہرے بہت ہیں

انہیں کیسے میں اپنا یار کہہ دوں
جو میرے درد پہ ہنستے بہت ہیں

غزل کی شکل میں ہم زخم لکھیں
مریضِ عشق ہیں روئے بہت ہیں

فقط اک تو نہیں ہے اس جہاں میں
کہ ہم پہ اور بھی مرتے بہت ہیں

بہانے لاکھ ہیں گر دل نہ چاہے
وگرنہ وصل کے رستے بہت ہیں

مرے مولی خطائیں بخش دینا
مرے اعمال بھی گندے بہت ہیں

ظفؔر ہر ملک کی حالت یہی ہے
ذرا سی بات پہ دنگے بہت ہیں



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Saturday, August 27, 2016

حسرتوں کی میں اک کتاب لکھوں

0 تبصرے
مورخہ: 26 اگست 2016

حسرتوں کی میں اک کتاب لکھوں
چا ہتو ں کا حسین با ب لکھو ں

ترے چہرے کو میں گلاب لکھوں
آ صنم تجھ کو ما ہتا ب لکھوں

زیرِ دند ا ن حرکتِ لب کو
لب لکھوں یا کہ پھر شباب لکھوں

پھر ترے لب سے اک سوال اٹھا
 اب قریب آ کہ میں جواب لکھوں

ہے کشش یا ہے نشہ آنکھوں میں
ان کو میں کاسۂ شراب لکھوں

اپنی حالت جو میں لکھوں ہم دم
غم و اندوہ اور عذاب لکھوں

و ہ محبت کو جر م کہتے ہیں
میں ا سے با عثِ ثواب لکھو ں

ایک دن ہم بھی مل ہی جائیں گے
اس کو حسرت لکھوں یا خواب لکھوں

یوں تو کہنے کو اب ظفؔر خوش ہے
اس خوشی کو بھی میں سراب لکھوں



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Wednesday, August 24, 2016

عزت

0 تبصرے
عزت اللہ کی دی ہوئی ایک نعمت ہے!  جو دیگر نعمتوں کی طرح ہی ہے۔ اگر اس کی ناقدری ہوئی تو یہ کسی بھی لمحے چھن سکتی ہے! 
اس لئےعقل مندوں کے مطابق اگر عزت ملی ہو تو اسے اپنی جاگیر سمجھ کر کسی کو کم تر سمجھنا سب سے بڑی حماقت ہے۔ اور اس سے بڑی حماقت یہ ہے کہ وہ سمجھے کہ ایک کم تر شخص اس کے رتبے کو نہیں پہونچ سکتا ہے! 

بعضوں میں یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ تعلیم کے اعلی مراتب عزت کے ضامن ہیں۔ ایسی عزت پانے سے تو ہم رہے! کیوں کہ اس کے لئے ہمیں افلاطون بننا پڑے گا۔ اب اتنی ٹیڑھی کھیر ہمارے بس کا روگ نہیں ہے! 
پھر سوچتا ہوں کہ کئی بار گاؤں کا ایک ماسٹر یا مولوی عزت کا جو مقام پالیتا ہے وہ ایک پروفیسر یا انجینئر بھی نہیں حاصل کرپاتا ہے۔ تو امید سے رہنے میں برائی کیا ہے؟! 

یوں تو ہر کوئی سمجھتا ہے کہ میں معزز ہوں! کوئی اپنی تحریر  کی مقبولیت کو اپنی عزت کی معراج سمجھتا ہے، کوئی اپنی صلاحیت کو! لیکن بڑے بزرگ کہہ گئے ہیں کہ عزت حسن اخلاق سے ہوتی ہے! عزت فرد کے برتاؤ کی بہ دولت ہوتی ہے۔  اب بزرگوں کے قول زریں سے اختلاف کرون اتنا بڑا جگر نہیں ہوا ہے۔ اس لئے سرجھکا کر اسی کو ماننا پڑتا ہے۔

 ہمارے محلے کے ڈاکٹر صاحب ایک دن ہم پر عزت جمانے لگے! اررے ہاں، مطلب عزت کا دھونس جمانے لگے!  اور ہم کو سکھانے لگے کہ عزت کیسے کی جاتی ہے۔ ہم سوچنے لگے کہ عزت مآب کو آخر بھیک میں عزت کیسے دیں! خیر وہ تو دفع ہوگئے لیکن یہ نکتہ ذہن میں جم گیا کہ بھیک یا رشوت والی عزت ہم ہضم نہیں کرپائیں گے۔ بس اسی روز سے وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء کا ورد کئے جاتے ہیں! اس مید سے کہ ایک نہ ایک دن تو دعا قبول ہوگی! پھر ہم بھی معزز کہلائیں گے!
ظفؔر شیر شاہ آبادی



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Tuesday, August 23, 2016

فرح جانِ ظفؔر

0 تبصرے
 ایک نظم فرح بٹیا کے نام!


9 اگست 2016


تو مری جان ہے اے لخت جگر
مری پہچان ہے تو نور نظر

مری منت مری چاہت ہے تو
توہی غم خوار ہے تو جانِ پدر

تری مسکان سے مسکاتا ہوں
تو جو غم گین ہو روئے ہے جگر

مری برکت کا سبب تو ہی ہے
اے مری جان تو ہے لعل و گہر

تجھ سے جو دور ہوں میں جانِ فرح
بڑی مشکل سے گزرتے ہیں پہر

جب خیال آیا لکھوں تجھ پہ غزل
بڑے شرمائے سے ہیں ماہ و مہر

مری ہر ایک دعا میں تو ہے
تو سر افراز ہو اے جانِ جگر

دونوں عالم میں ملے تجھ کو خوشی
ہو فرح نام کا تجھ پہ بھی اثر

مرے اللہ سلامت رکھنا
نہ ہو مشکل میں فرح جانِ ظفؔر



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Thursday, August 18, 2016

ظفؔر اندر سے گھائل ہے وہ بالکل کٹ چکا ہے اب

0 تبصرے


اشارے آنکھ کے شامل نہ  ہوں پھر  گفتگو کیا ہے
دعاؤں میں نہ ہو تیری طلب تو جستجو کیا ہے؟

سراپا ہی ترا ہے عنبریں یا میں نشے میں ہوں
گزرگاہوں پہ تیری اے صنم یہ مشک بو کیا ہے؟

اصولوں پر کسی کو فوقیت میں دے نہیں سکتا
ضرورت پڑنے پر ہے جان بھی حاضر لہو کیا ہے

خریدے گا مجھے،  اور تو؟ خیالِ خام ہے تیرا
بہت آئے گئے اس کام کو دل بر سو تو کیا ہے

ترا اقرار سچ ہے یا کہ یہ بھی وہم ہے میرا
اگر وہ تو نہیں ہے پھر وہ تجھ سا ہو بہو کیا ہے

مجھے اب تو پلادے ساقیا نظروں کے پیمانے
نشہ نظروں سے چڑھ جائے تو یہ جام و سبو کیا ہے

ہمیں جو بھی گزند پہنچا وہ اپنوں سے ہی پہنچا ہے
تو پھر سمجھائے کوئی مجھ کو مفہومِ عدو کیا ہے

ہوا قاتل ہی جب منصف امیدِ منصفی کیسی
مجھے چڑھنا ہی ہوگا دار پر اب آرزو کیا ہے

ظفؔر  اندر سے گھائل ہے وہ بالکل کٹ چکا ہے اب
اسے جو مندمل کردے وہ مرہم وہ  رفو کیا ہے؟



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Monday, August 15, 2016

कैसे मैं यह मान लूं मेरा देश अभी आज़ाद है

0 تبصرے
स्वतंत्रता दिवस के अवसर पर एक गीत लिखने का प्रयास किया किया हूं।
कृपया कुछ भूल चूक हो तो हमें सुझाव दें।

👇👇👇

आतंकी, अपराधी देशद्रोही अब आज़ाद है
निर्दोषों का निर्मम हत्यारा भी अब आज़ाद है
देश का बटवारा करने को योगी भी आज़ाद है

देश को तोड़ने वाला तो बस कायर की अौलाद है
कैसे मैं यह मान लूं मेरा देश अभी आज़ाद है।

गली गली में धर्म के नाम पे लड़ने वाले मिलते हैं।
चौक चौक पर आपस में लड़वाने वाले मिलते हैं।
फूलों की बगया में भी अब नफरत के गुल खिलते हैं।

कहीं पे आतंकी हमला है कहीं पे जातिवाद है!
कैसे मैं यह मान लूं मेरा देश अभी आज़ाद है!

चंद टकों की खातिर मां बहनों की इज्ज़त बिकती है।
मानव के करतूत देख कर मानवता भी सिसकती है।
बात बात पे देश में अब नफरत की आग भड़कती है।

निर्भयता किस चीज़ का नाम है हर सू आतंकवाद है।
कैसे मैं यह मान लूं मेरा देश अभी आज़ाद है।

गाय के नाम पे इनसानों की बली यहां पर चढ़ती है
धर्म के नाम पे देश में मानवता की होली जलती है।
राजनीति के नाम पे अब तो ग़ुंडा गरदी चलती है

शैतानों के काम करे है वह जो आदम ज़ाद है।
कैसे मैं यह मान लूं मेरा देश अभी आज़ाद है।


          ✒ ज़फ़र शेरशाह आबादी

Friday, August 12, 2016

کون کہتا ہے کہ آزاد ہوں میں؟

0 تبصرے
*یوم آزادی اور ہند کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں ایک تازہ ترین غزل*



اب     فقط    نام    کو    آباد      ہوں    میں
ہاں    یہی    سچ    ہے  کہ   برباد  ہوں   میں

قتل    و خوں   عام   ہے   دہشت   ہے    یہاں
کون    کہتا    ہے     کہ     آزاد     ہوں    میں

میں    ہی     معمارِ     وطن      ہوں     لیکن
وائے    ناکامی    کہ     برباد      ہوں     میں

ہے   مجھے   جان    سے   پیاری   یہ    زمیں
 اک    اسی    بات    پہ     آباد    ہوں    میں

 نہیں    کچھ     بیر     وطن     سے    لیکن
 ترے    انصاف    سے    ناشاد    ہوں    میں

تو     مرے     عزم     کو    کیا    توڑے   گا
کام     آساں  نہیں      فولاد     ہوں     میں

تم     بس     اک    حرفِ     تمنا     تو   کہو
نہر     لے     آؤں   گا     فرہاد     ہوں    میں

آنکھ    میں    اب    یہ    نمی   کیسی   ہے
کیا    تمہیں    آج    تلک    یاد    ہوں   میں

جال   میں    اپنے   ہی   پھنسنا   نہ  کہیں
تجھ  سے کچھ  کم  نہیں صیاد  ہوں  میں

سچ   کو  میں سچ  ہی لکھوں گا   اے  ظفؔر
سوچ     آزاد     ہے      آزاد      ہوں     میں




۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Sunday, August 7, 2016

آج محبوب رو بہ رو ہے کیا؟

0 تبصرے
غمزۂ چشم گفتگو ہے کیا؟
تری چاہت ہی جستجو ہے کیا؟

اور بھی ہم سفر ملیں گے مجھے
مری دنیا میں صرف تو ہے کیا؟ 

اس کی آمد سے میں معطر ہوں
یہ مرا یار مشک بو ہے کیا؟

مرا رب کاش یہ کہے مجھ سے
تو بتا تیری آرزو ہے کیا؟

میں تو تیری رضا کا طالب ہوں
تو نہ خوش ہو تو جستجو ہے کیا؟

مجھے بدنام کر رہا ہے جو
اس کی عزت اور آبرو ہے کیا؟

مری خوشیوں سے کیوں فسردہ ہے
یہ بتا تو مرا عدو ہے کیا؟

کیوں ظؔفر آج ہے بہت فرحاں
آج محبوب رو بہ رو ہے کیا؟



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Tuesday, August 2, 2016

کوئی بھی بشر آپ ﷺ سے بہ تر نہیں آیا

0 تبصرے
نعت نبی ﷺ

دنیا میں محمد سا موقر نہیں آیا
کوئی بھی یہاں آپ سے برتر نہیں آیا

ہر دور ہر اک قوم میں آئے تھے پیمبر
جو رہبر ِعالم ہو وہ رہبر نہیں آیا

تاریخ کے اوراق پلٹ کر کبھی دیکھو
یاں آپ سا رحمت کا پیمبر نہیں آیا

طائف کے مکینوں نے ہراساں جو کیا تھا
جز حرفِ دعا کچھ بھی زباں پر نہیں آیا

فرعون کے اخلاف ہر اک دور میں آئے
بولہب و  ابوجہل سا   کم تر نہیں آیا 

اوصاف حمیدہ کے ہیں اغیار بھی قائل
کوئی بھی بشر آپ سے بہ تر نہیں آیا

ہے نعت کا لکھنا بھی  ظؔفر ایک سعادت
مسعود کو یہ فن ہی میسر نہیں آیا



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Wednesday, July 27, 2016

तानाशाही की ओर बढ़ता भारत

0 تبصرے
कुछ आपिए चिल्ला रहे हैं कि राजस्थान DCW के अधिकारी बलात्कार के आरोपी के साथ सेलफ़ी ले रहे हैं, फिर भी कोई FIR नहीं, जबकि स्वाती मालीवाल के विरुद्ध FIR है। 

पता नहीं ये आपिए कब समझेंगे कि संविधान और कानून मात्र उन लोगों के लिए होता है जिन से भ्रष्ट सरकार को ख़तरा हो।



व्यापम वाले मंत्री पद पर अब तक बिराजे हैं, पनामा वाले चैन से सो रहे हैं, एक बलातकारी के चरित्रहीनता के कारण "आसा" के साथ "राम" लिखना भी अनुचित लगता है, और गजब तो यह है कि अब तक "सवामी" जैसे पवित्र शब्द को उसके नाम से जोड़ कर अपवित्र किया जारहा है। और आप मात्र एक सेलफ़ी के लिए FIR की अपेक्षा करते हैं। पगला गए हैं का?!

सच तो यह है कि यह सब को पता है। फिर भी नहीं मानेंगे। क्यूंकि अब राजनीति ही ऐसी है।

इस राजनीति को जो अब तक लोकशाही समझते हैं वह अब तक लॉलीपॉप खाने वाले दौर में हैं। अभी इनका अंगूठा चूसने वाला समय समाप्त नहीं हुआ है। 

आप मानें या ना मानें अब भारत तानाशाह बन चुका है। जहां सत्तारूड़ दल का प्रमुख ही सब कुछ होता है। पोलिस, सेना, और न्यायालय तक इनके साथ दिखाई देते हैं। भला ऐसी स्थिति में मीडिया कैसे इस दल के विरुद्ध हो। उसे भी तो अपनी रोज़ी रोटी की चिंता है। 
यह सब मैं यूंही नहीं कह रहा हूं। आप भले ही मुझे भाजपा विरोधी होने का दोषी मानें, लेकिन तथ्य तो यही बता रहे हैं। 

मैं उदाहरण स्वरूप कुछ घटनाओं के बारे में बताऊंगा। फिर यातो आप मुझे दलील देकर मना लीजिए, या फिर आप भी मान लीजिए। वरना हमें मानना पड़ेगा कि आप भी एक अंधभक्त हैं। 

दिल्ली में आम आदमी पार्टी के एक नेता को मात्र इस लिए गिरफ़तार कर लिया कि उन्होंने अपने दसतावेज़ में अपने विश्वविद्यालय का पूर्ण नाम नहीं लिखा था। लेकिन केंद्रीय मंत्री स्मृति ज़ुबीन ईरानी समेत अन्य बहुत से नेताओं की डिगरी ही फरज़ी बताई गई है। लेकिन अब तक वह अपने अपने पदों पर बिराजमान हैं! 

दिल्ली के ही एक मंत्री पर भ्रष्टाचार का मात्र आरोप लगा, बस वावेला मच गया। उन्हें मंत्री पद से निकलना पड़ा। लेकिन व्यापम जैसे महाघोटाले के आरोपी अब तक मंत्री पद पर चिपके बैठे हैं।

ज़ाकिर नाइक को एक झूटी ख़बर के आधार पर देशद्रोही तक कह डाला। और कुछ तथाकथित देशभक्त सड़क पर उतर कर देशभक्ति का प्रमाण देने लगे, लेकिन मुसलिम मुक्त भारत का नारा देने वाली "महान, सुशील, शालीन ओर भद्र" साधवी जी अब तक सच्ची देशभक्त बनी बैठी हैं। देशभक्ति का हाल यह है कि एक निर्दोष व्यक्ति के सिर काट कर लाने पर इसने 50 लाख की राशि घोषित किया है। लेकिन मीडिया वालों की मजाल नहीं कि उस पर कोई सठीक ख़बर बनाएं। 

यह तो मात्र उदाहरण है, वरना पता नहीं कितने भोगी हैं जो योगी के नाम पर कलंक हैं, कितने तथाकथित समाजसेवक हैं जो समाज को लूट रहे हैं। कितने पंडित, मुल्ला और अन्य धर्मगुरु हैं जो धर्म के नाम पर अधर्म को बढ़ावा दे रहे हैं।
और कहीं न कहीं से यह सब इस तानाशाही से जुड़े हुए हैं।

ज्यादा बोलना खतरे से खाली नहीं। इस कलम को अभी बहुत कुछ लिखना है। इस लिए इसे सुरक्षित रखना भी अवश्य है। आप समझदार हैं। खुदै समझ जाएंगे। 
😜 


ज़फ़र शेरशाबादी



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
आपकी राय हमारे लिए महत्वपूर्ण है। 

Saturday, July 23, 2016

میں حمد کیا بیاں کروں گناہ گار ہوں بہت

0 تبصرے


تو   خالقِ  حیات   ہے   بَلند  تیری  ذات  ہے
ترے  وجود  پر  گواہ   ساری   کائنا ت   ہے
                            میں حمد کیا بیاں کروں گناہ گار ہوں بہت

رؤوف  تو رحیم   تو،  غفور    تو   حلیم تو 
ہے صاحبِ جلال   تو،  حکیم   تو  علیم  تو
                         سعادتوں کا  نور  دے   سیاہ  کار  ہوں  بہت

تری  قضا  پہ  منحصر   امورِ  کا ئنا ت  ہیں
ہماری کیا بساط  ہے کہ  ہم تو بے ثبات  ہیں
                       تو ہی عزیز کر مجھے ذلیل و خوار ہوں بہت

تری عطا ہے زندگی تجھی سے کتنا دور ہوں
ملی ہیں تیری نعمتیں تومیں نشےسےچورہوں
                    گناہ میرے بخش دے میں اشک بار ہوں بہت

کتا بِ زند گی مر ی   گنا ہ   کی  کتا ب  ہے
جو نیکی ظاہرا بهی ہے وہ خواب ہے سراب ہے
                  تو میرے دل کو صاف کر میں داغ دارہوں بہت

مری   ہے  ایک  التجا  الہی  تو   قبول  کر
ظفر  کو  باغ خلد میں   مرافقِ  رسول   کر
                  قبولیت  کا شرف  دے  کہ خاک سار  ہوں بہت



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی