Thursday, December 17, 2015

اسلامی فوجی اتحاد- وقت کی ضرورت

0 تبصرے
دور حاضر میں نت نئے مسائل جنم لے رہے ہیں، لیکن اس دور کا سب سے عظیم اور گمبھیر مسئلہ دہشت گردی ہے۔ آئے دن کہیں نہ کہیں سے خود کش حملہ آوروں کی کسی کارستانی کی خبر ملتی رہتی ہے۔ اور افسوس تو یہ ہے کہ جانے انجانے میں کافروں کے علاوہ خود مسلمان بھی ان میں ملوث نظر آتے ہیں۔
کچھ موقع پرست اور مطلب پرست افراد سادہ لوح مسلمانوں کی ذہن سازی کرکے انہیں ایسے قبیح جرم پر آمادہ کرتے ہیں، اور ان بے چارے کے دماغ کو اس قدر مختل کردیتے ہیں کہ وہ اس گھناؤنے جرم کو عین نیکی کا کام سمجھنے لگتے ہیں۔ 


وہیں مشرکین اور اہل کتاب کی بہت ساری خفیہ تنظیمیں کرایے پر اپنے چنندہ افراد کی منظم تربیت کرتے ہیں۔ اور نفاق کے ہر گُر سکھا کر ظاہری طور پر انہیں مسلمان بنا کر اس قسم کی واردات کو انجام دیتے ہیں۔ اور اسلام کو بدنام کرنے کے لئے دہشت گردی کے واردات کی ذمہ داریاں قبول کر لیتے ہیں۔ اور میڈیا انہیں ہاتھوں ہاتھ لیتا ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میڈیا کا سارا عملہ انہیں کی ملکیت ہے۔ اس لئے انہیں یہ پیغام عام کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی ہے۔  وطن عزیز  ہندوستان میں بے شمار ایسے واقعات ہیں جن میں غلطی سے یہ بات سامنے آگئی کہ کسی حادثے میں ہندو شدت پسند تنظیم کا ہاتھ ہے۔ کچھ میڈیا والے اسے کچھ لمحے کے لئے نشر تو کردیتے ہیں، لیکن پھر وہ ٹھنڈے بستے میں چلا جاتا ہے۔ 

اس میں علماء اسلام کی ایک بھیانک غلطی بھی ذمہ دار ہے۔ اور وہ ہے میڈیا سے دوری۔  ایک عرصے تک ہم نے میڈیا کو شجر ممنوعہ کے طور پر جانا، اور اس کے خلاف فتاوے صادر کئے۔ اور جمعہ کے خطبوں سے لے کر جلسوں اور کانفرنسوں تک ہم اس بات کو عام کرنے کی کوشش میں لگے رہے کہ یہ جہنم کا راستہ ہے۔ اور جب تک غلطی کا احساس ہوتا کافی دیر ہوچکی تھی۔ اور ہم قوم کو اس دوڑ میں سب سے پیچھے لا چکے تھے۔
دنیا کی تقریبا ہر ایجاد کے ساتھ نفع و نقصان جڑا ہوا ہے۔ اسی لئے عموما یہ جملہ مشہور ہے کہ سائنس رحمت بھی ہے اور زحمت بھی۔ اور میں اس کلیہ سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں۔  وہ تو شکر ہے کہ ہم نے موبائل کی ایجاد کے وقت اس کے خلاف فتوی صادر نہیں کیا۔ ورنہ شاید اب منظر کچھ اور برا ہوتا۔  خیر ایک عرصے سے عرب ممالک میں علماء میڈیا کا استعمال کررہے ہیں۔ اور الحمد لله برصغیر میں بھی کچھ عرصے سے یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سب اپنے اپنے مسلک کو پھیلانے میں لگے ہیں۔  

یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ اسلام میں دہشت گردی کے متعلق کیا احکام ہیں۔ بس مختصراً یہی کہوں گا کہ اسلام کا مطلب ہی امن ہے، وہ تو دشمنوں کی سازش اور اپنی کچھ خامیاں ہیں جس کی وجہ سے ہمیں بار بار یہ بتانا پڑتا ہے کہ اسلام دہشت گردی کے بارے میں کیا کہتا ہے!

دنیا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 34 اسلامی ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس مشن کا واحد مقصد دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والے تمام ذرائع کا خاتمہ اور امن کی بحالی ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جسے بہت پہلے ہی انجام دینا چاہئے تھا۔ خیر، دیر آید درست آید!
 اس مشن میں شامل ممالک:
1. سعودی عرب
2. متحدہ عرب امارات
3. مصر
4. یمن
5. قطر
6. کویت
7. بحرین
8. فلسطین
9. لبنان
10. لیبیا
11. سوڈان
12. ترکی
13. تیونس
14.اردن
15. پاکستان
16. بنگلہ دیش
17. ملیشیا
18. صومالیہ
19. موریتانیہ
20. چاڈ
21. ٹوگو
22. بینن
23. سینگال
24. گینی
25. گبون
26. مراکش
27. مالی
28. مالدیپ
29. نائجر
30. نائجیریا
31. کیمروز
32. جبوتی
33. سیرالیون
34. ساحل العاج( آئیوری کوسٹ)۔
اس فہرست میں ایران شامل نہیں ہے۔ کیوں کہ ایران اور خلیجی ممالک اپنے مختلف مفاد کو لے کر ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ اور خلیج میں بدامنی اور دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات میں بالواسطہ ایران کا ہاتھ ہے۔ الحمد لله یہ ایک مثبت اقدام ہے۔ ایران تو خود دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ اس لئے اگر اس کا نام اس فہرست میں ہوتا تو یہ اتحاد ایک مذاق بن جاتا۔

اللہ اس اتحاد کو کامیاب کرے، اور دشمنان اسلام کو غارت کرے۔ آمین۔


۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Sunday, November 22, 2015

دہشت گردوں کی علامتیں!

0 تبصرے
دور حاضر میں دشمنان اسلام کے پروپیگنڈوں نے اسلام پر گویا یلغار کردیا ہے۔ الحمد للہ اس کے باوجود اسلام دنیا کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔



یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے، اور اس کے خلاف ہے۔ اسلام کا مطلب ہی امن و شانتی ہے۔ بس میں یہاں احاديث میں بیان کردہ صفات کے مطابق دہشت گردوں کی چند علامتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ 

میرے ایک دوست حماد اکرم نے مجھے یہ مواد فراہم کیا ہے۔ جس کسی بھائی نے یہ مرتب کیا ہے، اللہ اسے جزائے خیر سے نوازے۔ آمین۔ 

احادیث کی روشنی میں دہشت گرد (خارجیوں) کی علامات
۔ مجموعی تصویر


1. أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ.

’’وہ کم سن لڑکے ہوں گے۔‘‘


بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066

.......................


2. سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ.

’’دماغی طور پر ناپختہ ہوں گے۔‘‘


بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066

.......................


3. کَثُّ اللِّحْيَةِ.

’’ گھنی ڈاڑھی رکھیں گے۔‘‘


بخاري، الصحيح، کتاب المغازي، باب بعث علی بن أبي طالب وخالد بن الوليد إلی اليمن قبل حجة الوداع، 4 : 1581، رقم : 4094

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 742، رقم : 1064

.......................


4. مُشَمَّرُ الْإِزَارِ.

’’بہت اونچا تہ بند باندھنے والے ہوں گے۔‘‘


بخاری، الصحيح، کتاب المغازی، باب بعث علی ابن أبی طالب و خالد بن الوليد، إلی اليمن قبل حجة الوداع، 4 : 1581، رقم : 4094

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 742، رقم : 1064

.......................


5. يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ.

’’یہ خارجی لوگ (حرمین شریفین سے) مشرق کی جانب سے نکلیں گے۔‘‘


بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، باب قراء ة الفاجر والمنافق وأصواتهم وتلاوتهم لا تجاوز حناجرهم، 6 : 2748، رقم : 7123

.......................


6. لَا يَزَالُوْنَ يَخْرُجُوْنَ حَتّٰی يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ.

’’یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔‘‘


نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب من شهر سيفه ثم وضعه في الناس، 7 : 119، رقم : 4103

.......................


7. لَا يُجَاوِزُ إِيْمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ.

’’ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔‘‘


بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066

.......................


8. يَتَعَمَّقُوْنَ وَيَتَشَدَّدُوْنَ فِی الْعِبَادَةِ.

’’وہ عبادت اور دین میں بہت متشدد اور انتہاء پسند ہوں گے۔‘‘


أبويعلی، المسند، 1 : 90، رقم : 90

عبد الرزاق، المصنف، 10 : 155، رقم : 18673

.......................


9. يَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ.

’’تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا۔‘‘


بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب من ترک قتال الخوارج للتألف وأن لا ينفر الناس عنه، 6 : 2540، رقم : 6534

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 744، رقم : 1064

.......................


10. لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ.

’’نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘


مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066

.......................


11. يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرائَتُکُمْ إِلَی قِرَاءَ تِهِمْ بِشَيءٍ.

’’وہ قرآن مجید کی ایسے تلاوت کریں گے کہ ان کی تلاوتِ قرآن کے سامنے تمہیں اپنی تلاوت کی کوئی حیثیت دکھائی نہ دے گی۔‘‘


مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066

.......................


12. يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ.

’’ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘


بخاری الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2540، رقم : 6532

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وقتالهم، 2 : 743، رقم : 1064

.......................


13. يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُوْنَ أَنَّهُ لَهُمْ، وَهُوَ عَلَيْهِمْ.

’’وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ اس کے احکام ان کے حق میں ہیں لیکن درحقیقت وہ قرآن ان کے خلاف حجت ہوگا۔‘‘


مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066

.......................


14. يَدْعُونَ إِلَی کِتَابِ اﷲِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْئٍ.

’’وہ لوگوں کو کتاب اﷲ کی طرف بلائیں گے لیکن قرآن کے ساتھ ان کا تعلق کوئی نہیں ہوگا۔‘‘


أبو داود، السن، کتاب السنة، باب في قتل الخوارج، 4 : 243، رقم : 4765

.......................


15. يَقُوْلُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ.

’’وہ (بظاہر) بڑی اچھی باتیں کریں گے۔‘‘


بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066

.......................


16. يَقُوْلُوْنَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَوْلًا.

’’ان کے نعرے (slogans) اور ظاہری باتیں دوسرے لوگوں سے اچھی ہوں گی اور متاثر کرنے والی ہوں گی۔‘‘


طبراني، المعجم الأوسط، 6 : 186، الرقم : 6142

.......................


17. يُسِيْئُوْنَ الْفِعْلَ.

’’مگر وہ کردار کے لحاظ سے بڑے ظالم، خونخوار اور گھناؤنے لوگ ہوں گے۔‘‘


أبوداود، السنن، کتاب السنة، باب في قتال الخوارج، 4 : 243، رقم : 4765

.......................


18. هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ.

’’وہ تمام مخلوق سے بدترین لوگ ہوں گے۔‘‘


مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب الخوارج شر الخلق والخليقة، 2 : 750، الرقم : 1067

.......................


19. يَطْعَنُوْنَ عَلٰی أُمَرَائِهِمْ وَيَشْهَدُوْنَ عَلَيْهِمْ بِالضَّلَالَةِ.

’’وہ حکومت وقت یا حکمرانوں کے خلاف خوب طعنہ زنی کریں گے اور ان پر گمراہی و ضلالت کا فتويٰ لگائیں گے۔‘‘


ابن أبي عاصم، السنة، 2 : 455، رقم : 934

هيثمي، مجمع الزوائد، 6 : 228، وقال : رجاله رجال الصحيح.

.......................


20. يَخْرُجُوْنَ عَلٰی حِيْنِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ.

’’وہ اس وقت منظرِ عام پر آئیں گے جب لوگوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہو جائے گا۔‘‘


بخاری، الصحيح، کتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام، 3 : 1321، رقم : 3414

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 744، رقم : 1064

.......................


21. يَقْتُلُوْنَ أَهْلَ الإِسْلَامِ وَيَدْعُوْنَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ.

’’وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔‘‘


1. بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، باب قول اﷲ تعالی : تعرج الملائکة والروح إليه، 6 : 2702، رقم : 6995

2. مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب ذکر الخوارج وصفاتهم، 2 : 741، رقم : 1064

.......................


22. يَسْفِکُوْنَ الدَّمَ الْحَرَامَ.

’’وہ ناحق خون بہائیں گے۔‘‘


مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066

.......................


23. يَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ وَيَسْفِکُوْنَ الدِّمَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ مِنَ اﷲِ وَيَسْتَحِلُّوْنَ أَهْلَ الذِّمَّةِ. (من کلام عائشة رضي اﷲ عنها)

’’وہ راہزن ہوں گے، ناحق خون بہائیں گے جس کا اﷲ تعاليٰ نے حکم نہیں دیا اور غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے۔‘‘ (یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔)


حاکم، المستدرک، 2 : 166، رقم : 2657

.......................


24. يُؤْمِنُونَ بِمُحْکَمِهِ وَيَهْلِکُونَ عِنْد مُتَشَابِهه. (قول ابن عباس رضی الله عنه).

’’وہ قرآن کی محکم آیات پر ایمان لائیں گے جبکہ اس کی متشابہات کے سبب سے ہلاک ہوں گے۔‘‘ (قولِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ)


1. طبری، جامع البيان فی تفسير القرآن، 3 : 181

2. عسقلاني، فتح الباری، 12 : 300

.......................


25. يَقُوْلُوْنَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ. (قول علي رضی الله عنه)

’’وہ زبانی کلامی حق بات کہیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘ (قولِ علی رضی اللہ عنہ)


مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 749، الرقم : 1066

.......................


26. ينْطَلِقُوْنَ إِلَی آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْکُفَّارِ فَيَجْعَلُوْهَا عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ. (من قول ابن عمر رضی الله عنه)

’’وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کریں گے۔ اس طرح وہ دوسرے مسلمانوں کو گمراہ، کافر اور مشرک قرار دیں گے تاکہ ان کا ناجائز قتل کر سکیں۔‘‘ (قولِ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مستفاد)


بخاری، الصحيح، کتاب، استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539

.......................


27. يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ.

’’وہ دین سے یوں خارج ہو چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔‘‘


بخاری، الصحيح، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم، 6 : 2539، رقم : 6531

مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 746، رقم : 1066

.......................


28. اَلْأَجْرُ الْعَظِيْمُ لِمَنْ قَتَلَهُمْ.

’’ان کے قتل کرنے والے کو اجرِ عظیم ملے گا۔‘‘


مسلم، الصحيح، کتاب الزکاة، باب التحريض علی قتل الخوارج، 2 : 748، رقم : 1066

.......................


29. خَيْرُ قَتْلَی مَنْ قَتَلُوْهُ.

’’وہ شخص بہترین مقتول (شہید) ہوگا جسے وہ قتل کر دیں گے۔‘‘


ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة آل عمران، 5 : 226، رقم : 3000

.......................


30. شَرُّ قَتْلَی تَحْتَ أَدِيْمِ السَّمَاءِ.

’’وہ آسمان کے نیچے بدترین مقتول ہوں گے۔‘‘


ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة آل عمران، 5 : 226، رقم : 3000

.......................


31. إِنَّهُمْ کِلَابُ النَّارِ.


’’بےشک وہ ( خوارج) جہنم کے کتے ہوں گے۔‘‘

ترمذی، السنن، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة آل عمران، : 226، رقم : 300

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی