Saturday, November 30, 2013

لطیفہ گوئی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

    حامداً ومصلیا امابعد!
    رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے
     
      « وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ بِالحَدِيثِ لِيُضْحِكَ بِهِ القَوْمَ فَيَكْذِبُ، وَيْلٌ لَهُ وَيْلٌ لَهُ»

حكم الألباني : حسن
        رواہ الترمذي: أبواب الزھد
                          باب: بَابٌ فِيمَنْ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ يُضْحِكُ بِهَا النَّاسَ
    مفہوم: بربادی ہے اس شخص کے لئے جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے گفتگو کرتا ہے، پھر وہ جھوٹ  بولتا ہے، اس کے لئے بربادی ہے، اس کے لئے بربادی ہے۔


افسوس کی بات ہے کہ ہم دوسروں کی وقتی خوشی کے لئے اپنی عاقبت خراب کررہے ہیں، اکثر احباب فیس بک پر قسم ہا قسم کے لطائف پیش کرتے ہیں، ان سے میں چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔

أ. کیا ہمیں پتہ ہے کہ ہم نے جو لطیفہ پیش کیا ہے وہ کوئی سچا واقعہ ہے؟

ب. کیا ہم جانتے ہیں کہ ہمارا پیش کردہ لطیفہ اگر جھوٹا واقعہ ہے تو اسے پڑھ کر جتنے لوگ فیس بک یا کسی اور جگہ پیش کریں گے ان کا گناہ ہمیں بھی ملے گا؟

ج. کیا ہمارے پاس اتنے نیک اعمال ہیں کہ اس عمل سے بروز قیامت ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا؟

د. یا ہمارے پاس جھوٹے لطائف پیش کرنے کے جواز پر کوئی دلیل ہے؟

آخر کیا وجہ ہے کہ صرف داد وتحسین کے لئے ہم اپنے اعمال کے مسکین جھولے کو خالی کررہے ہیں؟

میرے بھائیو یہ عقل مندی نہیں ہے۔ شاید ان باتوں کو پڑھ کر ہم یہ سوچنے لگیں کہ کیا اب دنیاوی کاروبار چھوڑ کر بالکل صوفی وراہب بن جائیں؟ نہیں میرے دوستو نہ ہی یہ رہبانیت ہے اور نہ ہی صوفیت۔ یہ ہماری آخرت کا معاملہ ہے۔


مزاح کی شرعی حیثیت اور طریقہ:

شریعت اسلامیہ میں خوش کلامی اور ظریفانہ گفتگو جائز اور ممدوح ہے۔ خندہ پیشانی سے پیش آنا اور مسکرانے کو صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ اور وقتاً فوقتاً آپ ﷺ بھی مذاق کیا کرتے تھے، لیکن اس کا ایک طریقہ اور اصول ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس گفتگو میں جھوٹ اور کذب بیانی نہ ہو، کسی کی بے عزتی نہ ہو، اور لغویات یا فحش کلامی نہ ہو۔

کیا آپ ﷺ نے کبھی مذاق میں " جھوٹ " کا استعمال کیا؟
کیا آپ ﷺ نے کبھی کسی کو بے عزت کرنے کے لئے مذاق کیا؟
 کیا آپ ﷺ نے کبھی مذاقا کوئی لایعنی اور فضول کلام کا استعمال کیا؟

جواب تو یقیناً نفی میں ہی ہوگا
اسی لئے لطیفہ گوئی کی شرعی حد یہی ہے کہ اس میں جھوٹ اور واہیات اور منکرات نہ ہوں، بلکہ حقائق کو ہی اس انداز سے بیان کیا جائے جس سے سامعین مسکرا اٹھیں۔

واللہ اعلم بالصواب


اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطاء فرمائے۔ اور ان بے ہودہ اور جھوٹے لطائف سے بچائے۔
والسلام
دعاؤں کا طالب
ظفر ابن ندوی
۞۞۞
۔




۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook

۞۞۞
Follow me on Facebook
۞۞۞

Wednesday, November 27, 2013

فیس بوکیات !!!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید کہ احباب بخیر ہوں گے۔ 

طویل عرصے کی غیرحاضری کے بعد آج حاضر ہوا ہوں۔ وہ بھی ایک ضروری گفتگو کے ساتھ

آج کل سماجی تعلقات یعنی سوشل نیٹ ورکنگ ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔ اور اب تو یہ اتنی عام سی بات ہے کہ ایک ان پڑھ شخص بھی اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دور حاضر میں شہروں میں رہنے والا ایک عام سا نوجوان اگر یہ کہے کہ اس کا فیس بک اکاؤنٹ نہیں ہے تو شاید لوگ تعجب کریں۔ خیر سے بہت سے پڑھے لکھے احباب صرف اسی خوف سے فیس بک پر کود پڑے ہیں کہ کہیں ان پر دقیانوسیت کا طعنہ نہ پڑ جائے۔ 

لیکن وہیں بہت سے احباب کئی وجوہات کی بنیاد پر اس سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کو اس کنویں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہی نہیں نظر آتا۔ اور ایسے ہی احباب کے لئے آج یہ مضمون لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

عموماً یہ مشہور ہے کہ فیس بک اکاؤنٹ کو مکمل طور پر حذف نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے۔ بالکل اگر آپ فیس بک سے اس قدر نالاں ہیں کہ اسے حذف کردینا چاہتے ہیں تو اس کا بھی طریقہ ہے۔ 

لیکن مناسب یہ ہے کہ پہلے ان وجوہات پر روشنی ڈالوں جن کی وجہ سے کوئی اکاؤنٹ مکمل طور پر مٹانا چاہتا ہے۔

1۔ ای میل میں کثرت سے فیس بک اطلاعات:

بہت سے احباب اس بات سے پریشان ہوتے ہیں کہ ان کے ای میل پر فیس بک کی ہر نرم و گرم اطلاع موصول ہوتی رہتی ہے۔ اور ان اطلاعات کی تعداد اس قدر ہوتی ہے کہ بسا اوقات بہت ضروری ای میل آدمی کی نظر سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ اور اس سے بچنے کے لئے بہت سے لوگ نیا ای میل بناتے ہیں۔ جب کہ اس مسئلے کا حل موجود ہے۔
نیچے دئے رابطے کو کھولیں:
یہ صفحہ نمودار ہوگا
  
تصویر میں دکھائے ہوئے نقطے پر کلک کریں۔ اب آپ کے ای میل پر فیس بک سے بس پاسورڈ اور اکاؤنٹ کی چند ضروری معلومات کے ای میل ہی موصول ہوں گے۔

2 ۔ پروفائل پر غلط اشیاء کا نشر ہونا:

بہت سے احباب اس بات سے پریشان ہیں کہ فیس بک پر ان کی مرضی کے بغیر ہی بہت ساری چیزیں نشر ہوجاتی ہیں۔
 اس کا بھی حل موجود ہے۔ اس کے لئے آپ کو اپنے پروفائل کی حفاظتی ترتیبات میں تبدیلی کرنی ہوگی۔  اس کے لئے اس لنک پر کلک کریں اور تصویر میں دی گئی ہدایات پر عمل کریں:

3. دوسروں کی طرف سے پریشانیوں کا سامنا:


عموما نئے اور کم عمر احباب فیس بک پر جڑتے ہی نئے نئے دوست بنانا شروع کردیتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ یہ بس ایک تفریح ہے۔ لیکن یہ خیال انتہائی غلط اور بھیانک ہے۔ اس کے کافی نقصانات ہیں۔ بسااوقات ایسے لوگ کبھی بڑی مشکل میں پڑجاتے ہیں۔ اور معاملہ عدالت تک پہونچ جاتا ہے۔ اس لئے میرا مشورہ ہے (اور خود فیس بک کا بھی یہی مشورہ ہے) کہ آپ صرف انہیں لوگوں کو اپنے حلقۂ احباب میں شامل کریں جنہیں آپ بلاواسطہ یا بالواسطہ جانتے ہوں۔ انجان لوگوں کو اور خاص کر غیر محرم اور انجان لڑکیوں کو اپنے حلقۂ احباب میں شامل نہ کریں۔
اگر غلطی سے ایسے اشخاص آپ کے احباب کی فہرست میں شامل ہوچکے ہوں جو آپ کو کسی بھی طریقے سے پریشان کرتے ہوں تو آپ ان کو احباب کی فہرست سے نکال سکتے ہیں۔ اگر پھر بھی کچھ ایسے عناصر ہوں جو آپ کی فہرست سے نکلنے کے باوجود آپ کو پریشان کرتے ہیں تو آپ انہیں بلاک کرسکتے ہیں۔ جس سے یہ ہوگا کہ آپ دونوں ایک دوسرے کی پروفائل کو نہیں دیکھ سکیں گے، اور نہ ہی کسی نشریے (پوسٹ) پر ایک دوسرے کے تبصروں کو دیکھ سکیں گے۔
بلاک کیسے کریں:
جس کسی کو بلاک کرنا ہو آپ اس کے پروفائل پر جائیں اور تصویر کے مطابق عمل کرتے جائیں۔
اس کے بعد تصویر کے مطابق بلاک پر کلک کریں اور کنفرم کرنا نہ بھولیں:

 فیس بک اکاؤنٹ بند کرنا

یہ تین اہم وجوہات ہیں۔ اور بھی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ خیر ان تینوں مسائل کا حل تو آپ کے سامنے ہے۔ اس کے باوجود اگر کسی کو اپنا فیس بک اکاؤنٹ بند کرنا ہو تو اس کے لئے میرا مشورہ ہے کہ آپ عارضی طور پر اپنا اکاؤنٹ بند کریں۔ تاکہ دوبارہ کبھی بھی آپ اپنے احباب سے جڑنا چاہیں تو راہ ہموار رہے۔ عارضی طور پر بند کرنے سے فیس بک پر آپ کا نام دوسروں کی لسٹ سے حذف تو نہیں ہوگا۔ البتہ آپ کے اکاؤنٹ کی چیزیں کوئی بھی نہ دیکھ سکے گا۔اس کے لئے لنک پر کلک کریں اور تصویر میں بتائے گئے طریقے کے مطابق آگے بڑھتے جائیں:

آخر میں کنفرم کرنا نہ بھولیں۔

فیس بک اکاؤنٹ کو مکمل طور پر حذف کرنا

اور اگر کسی وجہ سے آپ کو مکمل طور پر فیس بک اکاؤنٹ بند کرنا ہو تو اس بھی طریقہ موجود ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ اگر ایک بار کسی اکاؤنٹ کو حذف کر دئے ہوں تو دوبارہ کسی بھی صورت اس کی کسی بھی نشریے کو حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے اکاؤنٹ کو مکمل طور پر حذف کرنے سے پہلے آپ اس میں موجود ضروری نشریات، تصاویر اور ویڈیو وغیرہ کو محفوظ کرلیں۔ اس کے بعد ہی حذف کریں۔
خیر جب آپ اپنے اکاؤنٹ کو مکمل طور پر حذف کرنا ہی چاہتے ہیں تو آخر میں ہی کیوں گریز کروں۔ لیجئے میں لنک دیے دیتا ہوں

نوٹ: اپنے اکاؤنٹ آپ اپنی ذمہ داری سے حذف کریں۔  مضمون نگار اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی ذمہ داری نہیں لے سکتا ہے۔



اب آپ اپنی ذمہ داری سے اپنے اکاؤنٹ کو حذف (Delete) کررہے ہیں۔ Delete My Account پر کلک کرتے ہی ایک پوپ اپ کھلے گا۔ اور نیچے کی تصویر کے مطابق اس میں آپ کو اپنا پاسورڈ اور تصویری حفاظتی کوڈ لکھنا ہوگا۔ پھر اوکے کرتے ہی آپ کا اکاؤنٹ مکمل طور پر حذف ہونے کے لئے نامزد ہوجائے گا۔

اور اگلے 14 دنوں کے اندر اگر آپ نے اپنی درخواست کینسل کردی تب تو آپ کا اکاؤنٹ دوبارہ فعال ہوسکتا ہے۔ بصورت دیگر 14 دنوں بعد آپ کا اکاؤنٹ مکمل طور پر حذف ہوجائے گا۔ جائیے اب آرام فرمائیے، اور خوش رہئے۔

اللہ حافظ
آپ کا بھائی
ظفر ابن ندوی
 ۔



۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook

۞۞۞
Follow me on Facebook
۞۞۞