Wednesday, July 24, 2013

فخر امت


کیا آپ اس عظیم شخصیت کو پہچانتے ہیں؟       دور حاضر کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں!!!
ان کے بعض کارنامے:

  • افریقہ میں دعوت اسلامی کی 29 سالہ مدت میں ان کے ہاتھوں 11.2 ملین سے زیادہ افراد نے اسلام قبول کیا۔
  •  تقریبا 5700 مساجد تعمیر کروائے۔
  • تقریبا 15000 یتیموں کی کفالت کی۔
  • پینے کے پانی کے لئے تقریبا 9500 کنویں کھدوائے۔ 
  • 860 مدارس بنوائے۔
  •  4 جامعات قائم کئے۔
  •  204 اسلامی مراکز قائم کئے۔
یقین نہیں آتا ہے ناں !!!
جی ہاں یہ عظیم شخص کویت کے  دکتور عبدالرحمن السمیط ہیں۔
اللہ ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین
مزید معلومات کے لئے اس لنک پر جائیں: دکتور عبدالرحمن السميط 
۔

Saturday, July 13, 2013

حرمین کی 20 رکعات تراویح سے استدلال

 
بیس رکعات تراویح میں مکہ کو دلیل بنانے والے کیا مکہ کو دیگر مسائل میں حجت سمجھتے ہیں؟؟؟
 
۱۔ مکہ میں رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین کیا جاتا ہے۔

۲۔ مکہ میں اذان سے قبل و بعد مروجّہ درود نہیں پڑھا جاتا۔
۳۔ مکہ میں تکبیر اکہری کہی جاتی ہے ۔
۴۔ مکہ میں ہر نماز کے بعد اجتماعی دعا نہیں کی جاتی۔
۵۔ مکہ میں نمازیں اوّل وقت میں ادا کی جاتی ہیں۔
۶۔ مکہ میں خانہ کعبہ میں نمازِ جنازہ پڑھے جاتے ہیں، جب کہ ۲۰ پڑھنے والے اس کے منکر ہیں۔
۷۔ مکہ میں نمازِ جنازہ میں ثناء نہیں پڑھی جاتی، لیکن احناف نمازِ جنازہ میں ثناء پڑھتے ہیں۔
۸۔ مکہ میں نمازِ جنازہ میں ایک طرف سلام پھیرا جاتا ہے، لیکن احناف ا س کے منکر ہیں۔
۹۔ مکہ میں جو نمازِ جنازہ پڑھی جاتی اس میں سورۃ فاتحہ پڑھی جاتی ہے، لیکن احناف نمازِ جنازہ میں اس کی مخالفت کرتے ہوئے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتے۔
۱۰۔ مکہ میں نمازِ فجر سے قبل بھی ایک اذان کہی جاتی ہے۔
۱۱۔ مکہ میں نمازِ فجر اندھیرے میں ادا کی جاتی ہے، جب کہ احناف اجالے میں فجر پڑھتے ہیں۔
۱۲۔ مکہ والے ایک رکعت وتر کے قائل ہیں، جب کہ احناف اس کے منکر ہیں۔
۱۳۔ مکہ میں عورتوں کو مساجد میں آنے کی اجازت ہے، جب کہ احناف اپنی عورتوں کو اس سے منع کرتے ہیں۔
۱۴۔ مکہ میں نمازِ عید کےخطبہ سے قبل کوئی وعظ و نصیحت نہیں کی جاتی، لیکن احناف اس کی مخالفت کرتے ہوئے خطبہ عید سے قبل وعظ و نصیحت کرتے ہیں۔ ۱۵۔ مکہ میں نماز عید میں کل بارہ تکبیرات کہی جاتی ہیں، جب کہ احناف صرف چھ تکبیرات پڑھتے ہیں۔
۱۶۔ مکہ میں عیدین میں مرد و عورت جماعت کے ساتھ عیدین پڑھتے ہیں، لیکن احناف عورتوں کو جماعت میں حاضر آنے کی جازت نہیں دیتے۔
۱۷۔ مکہ میں روزہ کی نیّت زبان سے نہیں کی جاتی، جب کہ احناف " وبصوم غد نويت من شهر رمضان " کی خود ساختہ نیّت کرتے ہیں۔
۱۸۔ مکہ میں افطار صحیح وقت پر کیا جاتا ہے، لیکن احناف اس کی مخالفت کرتے ہوئے احتیاطً کچھ منٹ دیر سے افطار کرتے ہیں۔

تراویح میں مخالفت:

۱۹۔ مکہ میں تراویح کے ساتھ تہجد الگ سے نہیں پڑھی جاتی، جب کہ احناف کے نزدیک تراویح اور تہجد الگ الگ پڑھنی چاہیئے۔
۲۰۔ مکہ کی بیس تراویح میں پاوؤں سے پاؤں اور کندھے سے کندھا ملا کر مقتدی کھڑے ہوتے ہیں۔
۲۱۔ مکہ کی بیس تراویح میں امام ہاتھ سینے پر یا کم از کم ناف سے اوپر باندھتے ہیں ناف کے نیچے نہیں۔
۲۲۔ مکہ کی بیس تراویح میں امام کے پیچھے فاتحہ پڑھی جاتی ہے، لیکن احناف اس کے منکر ہیں۔
۲۳۔ مکہ کی بیس رکعت تراویح میں امام اور مقتدی دونوں بلند آواز سے آمین کہتے ہیں۔
۲۴۔ مکہ کی بیس رکعت تراویح میں رفع الیدین کیا جاتا ہے۔
۲۵۔ مکہ کی بیس رکعت تراویح میں وتر فصل کر کے پڑھا جاتا ہے یعنی دو رکعت پڑھ کر امام سلام پھیر دیتا ہے اس کے بعد ایک وتر الگ سے پڑھا جاتا ہے۔ احناف اس کے منکر ہیں۔
۲۶۔ مکہ کی بیس رکعت تراویح میں وترمیں قنوت سے قبل رفع الیدین نہیں کیا جاتا ہے، جب کہ احناف کا اس پر عمل ہے۔
۲۷۔ مکہ کی بیس رکعت تراویح میں قنوت رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے، جب کہ احناف رکوع سے پہلے پڑھتے ہیں۔
۲۸۔ مکہ کی بیس رکعت تراویح میں قنوت میں ہاتھ اٹھا کر دعا کی جاتی ہے، جب کہ احناف کا اس پر عمل نہیں ہے۔
۲۸۔ مکہ کی بیس رکعت تراویح میں قنوتِ نازلہ پڑھی جاتی ہے، جب کہ احناف کا اس پر عمل نہیں۔
۳۰۔ مکہ کی بیس رکعت تراویح میں ایک رات میں قرآن ختم نہیں کیا جاتا ہے، جب کہ احناف شبینہ میں ایک رات میں قرآن ختم کرتے ہیں۔

مکہ کی بیس رکعت تراویح کو حجت سمجھنے والے ان 30 مسائل میں بھی مکہ کی پیروی کیوں نہیں کرتے ؟؟

یاد رہے ہم نے یہاں صرف 30 مسائل نماز سے متعلق نقل کیئے ہیں جن میں احناف اہل مکہ کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سینکڑوں مسائل موجود ہیں جن میں احناف کا اہل مکہ سے اختلاف ہے، ہم نے اختصار کے پیشِ نظر ان کا تذکرہ نہیں کيا۔
 
(براردم اے. آر. سالم فریادی کی فیس بک نشریات سے مأخوذ)

Wednesday, July 3, 2013

کاظم کو لکھے گئے ایک جوابی خط کا اقتباس ....

    آداب !!ساتھ ساتھ تسلیمات بھی!!
   کہیں یہ ارمِ فردوس تو نہیں !!! جسے آپ اچھی طرح جانتے  ہیں؟ اگر نہیں تب تو وضاحت مطلوب ہے۔اصل میں آپ کی پیشانی پر لفظِ ارم دیکھ کر مجھے تو کچھ پل کے لئے  بد ہضمی سی ہوگئی۔پھر خیال گذراکہ آخر "دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں" اور پھر بحال ہو کر دادا جان کا دل ہی دل میں شکریہ بھی ادا کیا کہ ان کی اس ایجاد نے کم از کم میری ایک پریشانی تو حل کردی۔
   اور ایک شکایت بھی ہے تم سے، یہ آنکھ مچولی کھیلنا کہاں سے سیکھ گئے؟ معلوم نہیں کب چپکے سے آتے ہو اور چلے بھی جاتے ہو۔ خیر سے کبھی ملوگے بھی یا  یوں ہی اپنا جلوہ  دکھاؤگے؟
   میں نے ایک عجیب فون دیکھا ہے!! معلوم ہے؟؟؟ ارے ہاں یا ناں کچھ تو بولوگے؟!!؟  ٹھیک ہے تمھاری مرضی ،ہم تو اپنی بکواس جاری رکھیں گے ۔ہاں تو میں کہہ رہاتھا ایک فون ہےجس میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ وہ  انڈے بھی دے سکتا ہے!؟!!کہیں تمھارا فون بھی ایسا ہی تو نہیں ہے؟؟! کبھی اگر انڈے دینے سے فرصت مل جائے  تو اسے کہئے گا کہ ایک بار میرے یہاں آواز لگاجائے۔
والسلام
        ظؔفر ابنِ ندوی

سائبر مجاہدین اور صوفیاء

     
        دور حاضر کے سائبر مجاہدین اور صوفیوں میں چنداں فرق نہیں ہے۔جس طرح اسلام کا چولا پہن کر صوفیاءسادہ لوح مسلمانوں کےایمان  کو برباد کرتے تھے، ٹھیک اسی طرح یہ سائبر جہادی بھی جہاد کا خوب صورت مکھوٹہ لگاکر منافقین کی طرح چھپ چھپاکر بے چارے سیدھے سادھے  مسلمانوں کا ایمان لوٹ رہےہیں۔ان کے اسلاف میں سے بعض صوفیاء نے نبوت کا دعویٰ کر دیا  پھر بھی وہ ان جہادیوں کے نزدیک مسلمان ہو سکتے ہیں !؟!ان جہادیوں نے توصرف  بچوں  کویتیم ہی کیا ہے نا؟؟؟؟
     بعض صوفیاء نے تو (معاذاللہ )الوہیت تک کا دعویٰ  کر دیا پھر بھی وہ   ان جہادیوں کی شریعت میں پکےمؤمن ہو سکتے ہیں !؟!ان جہادیوں نے توصرف بوڑھوں کوقتل ہی کیا ہے نا؟؟؟؟
      بعض صوفیاء نے تو (نعوذباللہ )اللہ اور اس کے رسول  کی طرف زنا کی نسبت تک کردیا (تعالی اللہ عما یصفون)پھر بھی وہ  پکےمؤمن ہو سکتے ہیں !؟! ان جہادیوں نے توصرف غریبوں کا گھرہی اجاڑا ہے نا ؟؟؟؟
      بعض صوفیاء نے تو (نعوذباللہ ) اغلام بازی ،زناکاری اور فحاشی جیسے کبائر کو جائز  کہنے پر ہی بس نہیں کیا بلکہ  ان پر عمل بھی کر کے دکھایا!!؟؟ اس کے باوجود اگر وہ  اولیاء اللہ ہو سکتے ہیں !؟! ان جہادیوں نے توصرف بے قصور عورتوں کوبیوہ ہی کیا ہے نا؟؟؟؟
      اگر ان مجاہدین کی لغت میں اسلام ،ایمان اور ولایت کا یہی مفہوم ہے تو مبارک ہو ان کو ان کا یہ اسلام!!!ہم تو ایسے ایمان اور ولایت سے پناہ مانگتے ہیں۔
      منافقین  ہر دور میں اسلام کے خلاف اپنی ناپاک سازشوں سے اسلام کو نقصان پہچانے کی ناکام کوششیں کرتے رہیں گے،   لیکن....................
       طریقہ کار مختلف ، مکھوٹے نئے نئے، مقاصد یکساں.....

                       دعاؤں کا طالب
                       ظفؔر ابن ندوی

من ذكری ميبايور

إلى الأخ الفاضل الأستاذ شيخ أشرف علي (نائب رئیس الكلية )

   في حیاتي .............
جاء كثير من الأصدقاء
.............
عِشتُ معهم مُدۃً
............. وعاشوا معي ............. والآن أعيش مع ذكراهم
 وفي حیاتي .............
جاء كثير من ناصري
.............
أحبّوني وأحببتُهم ..... وفكَّروا في أمري ..... ونصروني .....
والآن لا أستطيع النصر لهم إلا بالدعاء.
و
في حیاتي .............
جاء كثير من الأساتذة .............
علموني بحبٍّ وإخلاص ..... وارشدوني ..... والآن أعيش بدعائهم ..... وهم أيضاً في قلبي ودعائي.

و
في حیاتي .............
 جاء كثير من الوقائع والحوادث .............
وقعت فی حياتي فانقلبتها وغیَّرتها ..... حاولتُ كثيراً أن أنساها

..... ولكن ..... كأني أراها كلَّها.

وأنت يا صديقي ..... من أصدقائي ، عشتُ معك مدّۃً ..... ولكن بعد قليل أنت ستكون في ذكراي!!!
وأنت من ناصري ..... أحببتني وفكّرتَ في أمري ..... ونصرتني متى احتجتُ ..... ولكنّني أنا الفقير  لا أستطيع لك إلا بالدعاء!!!
وأنت كأستاذي ..... علمتني كثيراً مالم أعلم، وارشدتني ..... ولكن الآن أنت في قلبي ودعائي!!!
وهٰذه القرية
............. میبایور!!!
كالحوادث ..... جئتُ إلیها وسكنت فيها ..... وقعت فيها واقعة ..... التي انقلبت في حياتي وغيرتها ..... حاولت أن أنساها ..... ولكن ظننت بأني لا أستطيع أن أنساها أبداً.


ظفر ابن ندوی
09-09-09 م

Tuesday, July 2, 2013

بھٹکتی روحوں کا راز !!!!


       قُلْ أَعُوذُ بِرَ‌بِّ النَّاسِ ﴿١﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿٢﴾ إِلَـٰهِ النَّاسِ ﴿٣﴾ مِن شَرِّ‌ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ﴿٤﴾ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ‌ النَّاسِ ﴿٥﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿٦﴾

      انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان رجیم ہے۔ بسا اوقات سننے میں آتا ہے کہ فلاں کی روح بھٹک رہی ہے۔ فلاں شخص کا یہ دوسرا جنم ہے، پہلے جنم میں اس نام یہ تھا۔

       اس طرح کی کچھ خبریں آپ نے بھی پڑھی ہوں گی۔ تو کیا جس شخص نے یہ دعوی کیا کہ میں فلان بن فلاں کا دوسرا جنم ہوں۔ یا میں فلاں کی روح ہوں۔ اس کی بات کو مان کر اپنا ایمان خراب کرلیا جائے؟؟

        دراصل شیطان اپنے ازلی حریف انسان کو بہکانے کی ہرممکن کوشش کرتاہے۔ انہی کوششوں میں اس کا یہ دعوی کہ میں فلاں کی روح ہوں۔ یا فلاں  بن فلاں کی دوسری زندگی جی رہا ہوں۔ ورنہ حقیتاً وہ کسی کی روح نہیں ہے بلکہ وہ جن ہوا کرتا ہے جو لوگوں کو پریشان کرتا رہتا ہے۔ اور آخر میں یہ باور کراتا ہے کہ میں فلاں کی روح ہوں فلاں کام جب تک نہیں کروگے مجھے آزادی نہیں ملے گی۔

      بالکل اسی طرح کے واقعات اس وقت بھی رونما ہوتے ہیں جب کہیں کوئی پل وغیرہ تعمیر ہورہا ہوتا ہے۔ وہاں کا سرکش جن حاضر ہوکر کہتا ہے کہ ہمیں اس کام کے لئے ایک بچے کی جان چاہئے۔ اور اندھی حکومت ان کے اس جھانسے میں آکر معصوم بچوں کو چرانے کے لئے خفیہ طور پرسرکاری یا غیر سرکاری لوگوں کو بھیج دیتی ہے۔ اور معصوم بچوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔

      یہ سب صرف شیطان کی جعل سازی ہے جس کا شدت سے انکار لازمی ہے۔ ورنہ کہیں وہ ہمارا عقیدہ ہی نہ بگاڑ دے

      اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین۔

ظؔفر ابن ندوی
2،دسمبر 2011