Friday, June 21, 2013

سفید پوش لوگ





باغ   کا  نقشہ  بدلو  یا پھر چھین  لو  ہم  سے  تابِ نظر
سب کچھ دیکھیں کچھ نہ کہیں ہم اس کے لئے تیار نہیں

”ناظم صاحب! میں ایک نومسلم عورت ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے ایک اہل حدیث ادارے میں پڑھیں۔ لیکن میرے قبول ِاسلام سے ناراض ہوکر شوہر نے طلاق دے دیا، کوئی ذریعۂ معاش نہیں۔مجھے اپنی فکر نہیں ہے میں کسی طرح گھر گھر جاکر کچھ کام کرکے اپنا پیٹ پال لوں گی،آپ بس ان بچوں کی ذمہ داری لے لیجئے۔“
ہرسال کی طرح یہ بھی ایک نیا سال تھا۔ داخلے زور وشور سے جاری تھے۔اور لوگ اپنے فیس کے معاملات کے لئے  ادارے کے ناظم کا رخ کررہے تھے۔اور بدقسمتی سے میں بھی وہاں موجود تھا۔
”محترمہ ! اگر آپ کے بچوں کی فیس معاف کردوں تو آپ کے پیچھے اور دس لوگوں کی قطار لگ جائے گی فیس معاف کروانے کے لئے ! اور بھی مدارس ہیں۔ آپ ان میں کوشش کیجئے۔“
میرا دل تڑپ کر رہ گیا۔ میں نے اسی وقت یہ فیصلہ کیا کہ چاہے  کچھ بھی ہو اس بے یار ومدد گار کو یوں ہی نہیں چھوڑا جاسکتا۔کسی طرح  بھی ہو میں اس کی کفالت کی ذمہ داری لے لوں گا۔ورنہ کل قیامت کو اللہ مجھ سے پوچھ لے تو کیا جواب دوں گا؟ میں وہاں سے اس عورت کو تلاشتا ہوا باہر نکلا تو کہیں نظر نہ آئی۔ میرے نکلنے تک بہ مشکل دو منٹ کا وقفہ ہوا  ہوگا، لیکن وہ کہیں نظر نہ آئی۔ بھاگتا ہوا گیٹ کا رخ کیا۔ دربانوں نے کہا کہ کافی دیر سے نہ کوئی عورت اندر آئی ہے اور نہ باہر گئی ہے۔
یہ جواب سن کر میں لرز گیا کہ کہیں اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش تو نہیں ہے یہ؟؟اللہ تو مجھے معاف کردینا۔
 یہ تھے ہمارے ایک نہایت ہی معزز ترین استاذ کے الفاظ!!!
جن ساتھیوں کو ان محترم استاذ کایہ واقعہ معلوم ہے ، ان سے گذارش ہے کہ  ان کا نام نہ ظاہر کریں۔

شکریہ
        ظؔفر ابن ندوی




۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook



Follow me on Facebook
۞۞۞
آپ کی رائے  جان کر ہمیں خوشی ہوگی 

Monday, June 17, 2013

اعتماد

   اعتماد بہت قیمتی چیز ہے،اسی لئے جب کوئی بہت ہی قابل اعتماد شخص، اعتماد کے شیش محل کو چکنا چور کردیتا ہے توبہت تکلیف ہوتی ہے۔ کبھی کبھی اپنا وجود بھی دھوکا سا لگنے لگتا ہے۔ ایسے حالات میں کبهی کبهی خود اپنے آپ پر اعتبار کرنا بهی مشکل سا لگنے لگتا ہے۔لیکن پهر دل کے کسی گوشے سےآواز آتی ہے کہ خود کو مزید رسوانہ کرو،  یہ  تو ایک خوش آئند بات ہے،کیوں کہ زندگی کے تلخ ابواب میں ایک اور کارآمد تجربہ شامل ہوگیا۔
 
زندگی اسی طرح جیے جارہا ہوں۔ اور تجربات کی جهولی میں قسمہا قسم کے تجربات جمع کئے جارہا ہوں کہ  خود اپنی زندگی میں ان سے فائده بھلے ہی نہ حاصل کرسکوں لیکن عمر کے آخری مرحلے میں یہ گٹھری  شاید کسی کے کام آجاوے۔
ظفر ابن ندوی




Friday, June 14, 2013

ہا ئے کیا چیز غریبُ الوَ طَنی ہو تی ہے

....غُربَت....
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہا ئے  کیا  چیز غریبُ  الوَ طَنی  ہو تی  ہے
ابوالاثرحفیؔظ جالندھری
غربت بڑی ہی ظالم  ہے۔ اس کے پاس دینے کے لئے بس تلخیاں اور ماضی کے حسین لمحات کی قاتل یادیں ہی  ہیں۔غربت میں تقدیر سے ایک پرسکون اور اطمینان بخش کام مل  تو گیا، لیکن  وطن کی حسین مٹی اور اس سے وابستہ یادوں کی کمی کو کسی بھی قیمت پر نہیں خرید سکتا۔
          آم کا موسم ہے۔ خیال ہوا کہ آم کھا کر وطن سے دوری کے احساس  میں شاید کچھ حد تک کمی آجائے۔ بازار کا رخ  کیا۔
قسم ہا قسم کے آم!!
جیسے آم ویسے  دام!!!
اس کے لئے نہ  کوئی خاص نہ عام!!!
خیر سے جب دام دیکھے تب جاکریہ راز کھلا کہ آخر اسے پھلوں کا راجا کیوں کہتے ہیں۔ 25 سے 30 ریال کے ایک کلو۔ یعنی ایک کلو آم کے تقریباً 400 روپئے بنتے ہیں۔ اور ایک غریب الوطن کے لئے ایسے شاہی پھل بس ایک خواب کی طرح ہیں۔
            اہل وطن! آم کھائیے، اور اللہ کی اس نعمت پر شکر ادا کیجئے۔




۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Sunday, June 9, 2013

پہلے بندر انسان تھے !!!


     انسان  بھی ایک مخلوق ہے،  ایک عجیب و غریب مخلوق ۔ ایک اور مخلوق ہے جسے بندر کہتے ہیں۔ ان دونوں میں گویا چولی دامن کا ساتھ ہے۔بچپن سے اب تک  یہ ربط مسلسل دیکھتا آرہا ہوں۔بچپن کی شرارتوں پر کوئی کہتا "بندر کہیں کے" تو تعجب ہوتا۔ پھر جب اسکول گئے تو وہی بندر!!  اب کی بار تو ان کو ہمارا جدِّ اَمجد بتایا گیا تب جا کر اس  معمے کا حل نکلا کہ آخر "بندر کہیں کے" کیوں کہا جاتا ہے۔ پھر مسجد جانے کا شعور ہوا تو وہاں بھی وہی بندر!!!    یہاں علم کے کوزے میں ایک نیا اضافہ ہوا۔ وہ یہ کہ "جب کوئی شرارت کرتا ہے تو اللہ اسے سزا کے طور پر بندر بنا دیتے ہیں۔" پھر ذہن الجھ گیا!!! ہماری شرارت پر تو ماسٹر صاحب ہمیں "مرغا" بناتے ہیں!! تب شاید بڑی شرارتیں کرنے پر بندر بناتے ہوں گے!!!

خیر عمر بڑھتی گئی ، اور مختلف خیالات آتے  اور جاتے رہے۔ لیکن ان بندروں نے پیچھا نہیں چھوڑا۔ اور اب مجھے یقین ہوچلا ہے کہ پہلے انسان بندر تھا یا نہیں لیکن اب تو ضرور ہے۔ کیوں کہ آج کےترقی یافتہ نوجوانوں میں اور بندروں میں کوئی امتیاز ایک مشکل امر ہے۔  انداز، اخلاق، طرز زندگی، بالکل یکساں۔ بس ایک فرق ہے لباس کا۔ شاید کسی زمانے میں وہ بھی اتر جائے۔ پھر تو بندر اپنے پیغمبر ' ڈارون" کے احسان کو کبھی نہ بھول پائیں گے۔اور اپنے اسکولوں میں ایک سبق ضرور رکھیں گے " پہلے بندر انسان ہوا کرتے تھے "

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی