Saturday, July 23, 2011

بہت ضروری ہے

شرافتوں سے سنورنا بہت ضروری ہے
خودی میں تیرا نکھرنا بہت ضروری ہے

جہاں کے ظلم سے فرعونیت بھی شرمائے
خلاف  ظلم   بپھرنا  بہت ضروری  ہے

ہے  آخرت  کی  قبر ہی  تو منزل  اول
عذاب قبر سے ڈرنا بہت ضروری ہے

محبتوں کا  حقیقت  میں  لطف جو  چاہو
تودوستوں سے بچھڑنا بہت ضروری ہے

جاری ہے .....



۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook


۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی



Friday, July 22, 2011

یاد ماضی


یادِ ماضی عذ ا ب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

          جب بھی منصورہ کی دلکش یادیں دل کے الجھے ہوئے تاروں کو چھیڑتی ہیں  تو بے ساختہ یہ شعر یاد آجاتا ہے ۔
وہ سہانے پل اب کسے نصیب ؟ شیخ منصور کاانوکھا پن !! ڈاکٹر افضال کا خلوص وپیار کے ساتھ کبھی برہم ہونا تو کبھی خوشی سے قہقہہ زار ہوجانا۔ منصورہ کے عمومی نانا شیخ شفیق کی شفقت!!!!

جمعرات کی ان حسین شاموں کو بھَلا کون بھُلاسکتا ہے۔ ثقافت کی وہ پر لطف  راتیں، تقریر کی باریاں، عصر کے بعد کا کھیل ، صبح کے ترانے۔ ۔ ۔ پندرہ اگست کا مرغا ٹورنامنٹ ،ثقافتی ہفتہ ، سالانہ انجمن اور سالانہ اسپورٹس۔۔۔ نہ جانے کیا کیا؟؟

یہ تو صرف عناوین ہیں جن کا یہ حال ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتیں ،کیا کیا بتاؤں ان سنہرے لمحات کے متعلق؟؟کہنے  لگوں تو الف لیلیٰ کی کہانی  ہوجائے !  اس پاک سرزمین میں بسر شدہ ہر دن ایک کہانی سے وابستہ ہے۔ ہر دن کی کہانی مختلف،کردار انوکھے   اورکہانی من موہنی۔  آہ  ! تجھے کرب زدہ یہ  دل آواز دیتا ہے۔ تیرے بغیر یہ انجمن  اور یہ محفل ِ دنیا اداس کیوں ہے؟ میں نے کتنی بار اس نادان  کوسمجھایا بھی کہ نہ پکار اسے  ۔ پر دل ہے  کہ مانتا ہی نہیں!

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

بکھرے خیالات

نظم
میں آج  نکل آیا ہوں جب اپنے  شہر  سے
کر دور  ہراک قسمِ  بلا  تو  مرے سرسے
ہرلمحہ میں تیری  ہی عبادت میں رہوں گم
مولی   تو   بچانا   مجھے  شیطاں کے ضرر  سے
گستا خیاں جو  احمدِ  مرسل   کی  کرے  ہے
یا رب  نہ  بچا  اس کو کبھی  اپنے  قہر  سے
ممکن  ہی   نہیں  چھولے  اسے  نار   جہنم
وہ آنکھ جو  پر نم  ہو کبھی  نار کے  ڈر سے
موسی ابھی حیران وپریشاں ہی کھڑےتھے
آواز  جو  آئی  تھی  تری  ایک  شجر  سے
ممتاز  کیا  تو نے  ہی  یوں  پیارے  نبی  کو
پتھر  کے  تکلم  سے ، کبھی  شقِّ  قمر  سے
بس ایک دعا  وردِ زباں  ہے  مرا ہر  پل
ہر  شر، ہر اک  بلا ہو سدا دور ظؔفر سے

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

حمد



حمد

فضل تو نے کیا دے کے راہ ِ ھُدا
رشک اس پر کرے ہر غنی و گَدا

حمد  میں  ہیں  مگن  اہل  ارض  و سما
                         نعمتوں  پر  تری  ہر کوئی  ہے   فدا

وَ ا شکُرُوا لِي  تو  تُو نے کہا  ہے مگر
شُکر کیا   میں  ترا  کر سکوں  گا   ادا

یوں ظؔفر  کو دیا تو نے فرح  و سرور
ناز کم  ہے  جو کرتا  رہے  وہ  سدا




۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook



۞۞۞
Follow me on Facebook
۞۞۞
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

ماضی کے دریچوں سے

میرے ماضی کا ایک "خوبصورت" حادثہ

     ایک معتدل سی شام کی بات ہے، حسبِ عادت مغرب کے بعد مسجد کے برآمدے میں بیٹھ کر  اپنی پڑھائی کر رہا تھا۔ میرے فرشتوں کو بھی نہیں معلوم  ہوا ہوگا کہ آج میرے خلاف ایک گھناؤنی سازش  کی بنیاد رکھی جائے گی۔ اتفاق سے کسی ضرورت کے تحت شمال کی جانب بیٹھے ہوئے اپنے ہم سبق کاظم کی طرف نظرگئی تو وہ وہاں موجود نہ تھا، تلاشتا ہوا اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ  تمام ہی ہم جماعت ایک جگہ حلقہ بنائے ہوئے ہیں، قریب پہونچا تو دیکھا کہ ناظمِ محترم تشریف فرما ہیں ، سعادت مندی سمجھ کر بیٹھ گیا۔ گفتگو چوں کہ پہلے سے ہی جاری تھی اس لئے  مجھے اس کے سیاق و سباق کا علم نہیں ہے۔
آپ لو گ اپنے مسائل بتائیں!!
آپ لوگ خاموش کیوں ہیں؟؟
میں اس جامعہ کا نیا ناظم ہوں اور آپ لوگ پرانے طالب ہیں، جب تک آپ لوگ ہمیں یہ نہیں بتائیں گے کہ کیا کیا خامیاں ہیں میں کیسے سدھاروں گا ان خامیوں کو؟؟
آپ لوگ بولتے کیوں نہیں؟؟
دیکھئے آپ لوگ کس بات سے خائف ہیں ؟؟  بلاجھجھک کہیں میں آپ ہی کا ایک محمدی بھائی ہوں مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔
چوں کہ اس سے ایک ہفتہ پہلے انھوں نے گھنٹیوں میں  ردوبدل کروایا تھا اور ہم تمام ساتھی اس سے خائف تھے۔ہم نے یہی کہا کہ ہماری شکایت کھانے پینے یا کسی دیگر ضمنی مسئلے کو لے کر نہیں ہے ۔ بلکہ گھنٹیوں کی تبدیلی سے ہے۔
بحث کی طوالت میں نہیں جانا چاہتا ہوں بعد میں محترم ناظم نے ہمیں بہت ہمدردی سے مشورہ دیا کہ آپ لوگ ایک  شکایت نامہ ناظم تعلیمات کے نام لکھیں تاکہ اس پر کارروائی کی جاسکے،اتنا بھولا انداز تھا ،فرمارہے تھے کہ دیکھئے ایسے انداز سے لکھئے گا کہ اساتذہ کی دل آزاری نہ ہو اورآپ کا کام بھی ہوجائے۔
ہفتہ عشرہ کے بعد میں نے  جماعت والوں سے پوچھ کر شکایت نامے کا ایک مسودہ تیار کیا، سب اس سے متفق ہوئے تو اب اسے لکھنے کی باری آئی ۔ چوں کہ جماعت میں صرف دو ہی طالب تھے جن کو کتابت کا ذوق تھا، اور انہی بد نصیبوں میں میرا بھی نام تھا، میں نے اپنے دوسرے ساتھی سے اس کی پیش کش کی وہ کسی صورت راضی نہ ہوااور ساتھیوں کے اصرار پر میں نے اس شکایت نامہ کو تحریر کردیا۔
ناظم صاحب نے یہیں سے وعدہ خلافیوں کا آغاز شروع کیا۔ کہا تھا کہ یہ شکایت نامہ اساتذہ کو نہیں دکھایاجائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر لازماً  بعض اساتذہ  ہمیں نشانہ بنانے لگے۔ فضیلت ثانی میں ایک محترم استاذ نے تو طلباء کو مارنا شروع کردیا۔ مجھ پر بھی ہاتھ اٹھایا تو میں نے  یہ گستاخی کردی کہ ان کا ہاتھ روک کر گویا ہوا کہ محترم میری غلطی مجھے بتادیں میں اپنا سر آپ کے پیروں کے نیچے رکھ دوں گا لیکن بغیر کسی غلطی کے مجھے ہر گز نہ مارئے گا۔...  بس کیا تھا لعنتوں کی بارش شروع ہوگئی۔ مجھے کافی افسوس ہے میرے استاذ پر کہ انھوں احادیث کے ساتھ خیانت کی۔ صحیح مسلم میں کتاب القسامۃ والمحاربین  کی اکثر احادیث کے استدلال کا رخ صرف میری طرف ہواکرتاتھا۔
خیر یہ پندرہ  دن ایک پہاڑ کی طرح  گذرے ، وہ آتے جاتے ہم پر لعنتیں برساتے۔ پندرہ دن کے بعد ناظمِ محترم  کا ارشاد ہوا کہ آپ لوگوں کی درخواست ناقابل قبول ہے کیوں کہ اس کے پیچھے کسی سازش کا ہاتھ ہے۔ آپ جائیے اور اپنے اساتذہ سے معافی مانگ لیجئے۔ چوں کہ تحریر میری تھی اور جامعہ کا تقریباً  ہر استاذ  میری تحریر سے واقف تھا۔ اسی لئے میں ہی اس  سازش کا ایک اہم حصہ قرار دیاگیا.........
 میں نے ناظمِ محترم سے کہا بھی کہ محترم اگر یہ کسی سازش کا نتیجہ ہے تو وہ تو خود آپ ہی کی سازش ہوگی۔ کیوں کہ آپ ہی کے حکم اور اصرار پر ہم نے یہ شکایت نامہ لکھاتھا!!! جب کوئی جواب نہ بن پڑا  تو  ارشاد فرمایا کہ دیکھو بیٹا یہ میرا مشورہ ہے اسے مان لو۔ میں یہ فیصلہ فی الحال نہیں کرسکتا۔ پھر میں نے یہی کہا کہ جب آپ کا مشورہ ہے تو مان لیتا ہوں۔ اور اس رات کی میٹنگ میں فلمی انداز میں بس تین یا چار احباب کووہ بھی فرداً فرداً ایک کمرے میں بلاکر تفتیش کی گئی۔ میں جان بوجھ پہلے نہ جاکر تیسرے نمبر پر گیا۔ تعجب تو تب ہوا جب میرے بعد کسی اور کو نہیں بلایا گیا۔ مطلب میں ہی تھا ان کا نشانہ۔
خیر! اللہ اللہ کرکے 16 اگست کی صبح  کو جماعت میں وہی استاذِ حدیث مسلم شریف پڑھا رہے تھے۔ اور جان بوجھ کر کئی کئی الفاظ کا ترجمہ و تشریح کئے بغیر ہی آگے بڑھ رہے تھے کہ عادتا میں کچھ بولوں۔ اور جیسے ہی میں نے کہا کہ شیخ! فلاں لفظ کی تشریح میں سمجھ نہیں سکا۔ واللہ اس کے بعد استاذ محترم نے جو کچھ میرے اور میرے والدِ محترم کے خلاف موشگافیاں فرمائی انہیں میں آپ کے سامنے  بولنا نہیں چاہتا۔ تمام طلبا کے سامنے میری اور میرے والدِ محترم  کی عزت کی دھجیاں اڑاکر رکھ دیں۔
یہی میرا آخری دن تھا۔
میں نے گھر جاکر فوراً اپنافیصلہ سنایا کہ  ان اساتذہ سے میں یہی سیکھوں گا؟؟ کیا یہی غلیظ سیاست دین کے نام پر سیکھوں گا؟  مجھے ملّا نہیں بننا ہے۔ اگر آپ مجھے جامعہ سے نکلنے کی اجازت نہ دیں تو میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑ کر جہاں میرا دل کہے چلا جاؤں گا۔

(اور یہی وجہ ہے  کہ مدینہ یونیورسٹی سے میری  منظوری آنے کے بعد بھی میں نہیں گیا۔ کیوں کہ اس میں بھی میرے بعض مخلصین نے سیاست کی تھی، اللہ ہی بچائے ان گندی سیاستوں سے۔ آمین۔)
والد محترم نے مکمل حال سنا پہلے تو مجھے ڈانٹا کہ مجھ سے چھپاکر یہ شکایت نامہ کیوں لکھا؟ مجھے معلوم ہے شکایت کا یہی حشر ہوتا ہے۔ پھر انھوں نے غور کرکے یہ فیصلہ کر دیا کہ ٹھیک ہے فضیلت ثانی کا سال سہی  اگر تمہارے ساتھ یہی ہوتا ہے روزانہ تو تم ہرگز نہیں پڑھ سکتے۔
مجھے اپنے  والد محترم کے فیصلے پر ناز ہے کہ آج میں فکری طور پر آزادہوں۔ لیکن ایک بات ہے میں ان اساتذہ کو قیامت تک نہیں بھول سکتا ہوں جنھوں نے میرے اور میرے والدین کے مکمل ہوتے ہوئے خواب کو چکنا چور کردیا۔

ظفؔر شیر شاہ آبادی

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Wednesday, July 20, 2011

پندرہ شعبان کی بدعات



         إن الحمد للہ والصلوۃ والسلام علیٰ رسول اللہ۔ أمابعد ۔فإن خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وشرالأمور محدثاتھا وکل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ
 اللہ نے ہمیں جس عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا ہے وہ   ہے اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر ایک اللہ کی عبادت  ۔ یہاں ایک اصول ذہن نشین کرلیں کہ اسلام نے جن اوقات اور جن صفات کے ساتھ عبادتوں کا حکم دیا ہے ان کے علاوہ کسی مخصوص صفت یا مخصوص وقت میں  کوئی بھی مخصوص عبادت حرام اور ناجائز ہے، چاہے اسے کتنے ہی خلوص کے ساتھ کیوں نہ انجام دیا جائے ۔ایسی عبادتیں کرنے والا ثواب سے محروم اور عذاب کا حقدار ہوگا۔
اس اصول کوسمجھنے کے لئے ایک عام سی مثال ہی کافی ہوگی کہ اگر کوئی شخص فجر میں 2 کی جگہ 4 رکعت پڑھنا چاہے، یا  ظہر کی نماز کو  زوال سے  پہلے ہی پڑھ لے تو کیا ایسے شخص کی نماز ہوگی؟؟  ہرگز نہیں  ۔بلکہ ایسا شخص گنہ گار ہوگا۔کیوں کہ  اس سے  یہی لازم آتا ہے کہ یا تو شریعت ناقص ہے نعوذباللہ یا پھر یہ اپنے آپ میں رسول ﷺ سے زیادہ پرہیزگار ہونے کا دعوی کررہاہے۔ اور یہی چیز بدعت ہے کہ  کسی بھی ایسے کام کو دین سمجھ کر انجام دینا جو شریعت میں نہیں ہے۔ اور اسکی سنگینی کی وجہ سے شریعت نے بدعت کا زبردست رد کیاہے۔ کیوں کہ ایک  زانی یا کسی اور مرتکبِ کبیرہ کی بہ نسبت  ایک بدعتی کو توبہ کی توفیق جلدی نہیں ہو تی کیوں کہ وہ تو اس کو نیکی سمجھ کر کرتا ہے۔ جس کی بنا پر اس کے دل میں توبہ کا خیال آنا مشکل امر ہے ، جب کہ  کبیرہ کا مرتکب اپنا کام گناہ سمجھ کر انجام دیتاہے ، وہ اسے غلط سمجھتا ہے اسی لئے وہ اسے چھپا کر انجام دیتا ہے ۔اور بعد میں اسے افسوس بھی ہوتاہے۔ اور ایسے شخص کے ذہن میں توبہ کا خیال آنا ایک فطری بات ہے۔
جس اسلامی مہینے  سے ہم اور آپ گذر رہے ہیں  یعنی شعبان کا مہینہ ایک ایسا مہینہ ہے جس کی پندرہویں تاریخ میں چند عجیب و غریب بدعات انجام دی جاتی ہیں۔اور اس  رات کو مبارک تصور کیا جاتاہے۔
تو سب سے پہلے ان بدعتیوں کے دلائل اور ان کا استدلال پیش کیا جائے گا ساتھ ہی میں ان کا رد بھی کیا جائے گا اور بعد میں اس  تاریخ میں انجام دئے جانے والے بعض افعال اور عقائد کا ذکر ہوگا۔
پندرہ شعبان کے متعلق روایتیں اور ان کاجائزہ
1: حضرت علی کے واسطے سے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کی جانے والی  ایک موضوع حدیث جس میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : إذا کانت لیلۃ نصف من شعبان فقوموا لیلھا وصوموا نھارھا  ۔ ۔ الخ ۔ ۔ یعنی اس رات کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کیوں کہ اس رات میں مغرب کے بعد سے ہی اللہ تبارک و تعالیٰ دنیاو ی آسمان پر نزول فرماتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ : ألا من مستغفر فأغفر لہ۔ ۔ الخ۔۔ یعنی ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ میں اسے معاف کردوں، ہے کوئی روزی کا طلب گار کہ میں اسے روزی عطاکروں ۔۔۔  یہ سلسلہ صبح تک چلتا رہتا ہے۔
ابن ماجہ کی یہ روایت موضوع ہے کیوں کہ  اس کا ایک راوی  ابوبکر بن عبداللہ بن محمد(ابن ابی سبرۃ) کذّاب اور وضّاع ہے۔
2: ام المؤمنین عائشہ  صدیقہ ؓ کی مشہور روایت جو ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : إن اللہ عزوجل ینزل کل لیلۃ النصف من شعبان  فیغفر الذنوب أکثر من شعر غنم کلب۔
         یعنی اس رات میں اللہ کا نزول ہوتا ہے اور وہ قبیلۂ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد میں گناہ معاف کرتاہے۔اس کے ایک راوی حجاج بن أرطاط جمہور کے نزدیک ضعیف اورمدلس ہیں۔اور امام ترمذی نے فرمایا کہ میں نے امام بخاری کو اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے سنا ہے۔
3: رسول اللہ ﷺ کی  طرف منسوب ایک موضوع اور من گھڑت روایت: من صلی لیلۃ النصف من شعبان ثنتی عشرۃ رکعۃ یقرأ فی کل رکعۃ  قل ھو اللہ احد ثلاثین مرۃ لم یخرج حتیٰ یری مقعدہ من الجنۃ۔  یعنی جو شخص پندرہویں شعبان کی رات کو اس طرح 12 رکعتیں پڑھے کہ ہر رکعت میں 30 مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے تو وہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی جنت  میں اپنا مقام دیکھ لے گا۔
 یہ حدیث انتہائی درجے کی موضوع ہے۔ اس کو علامہ ابن القیم ، علامہ سیوطی اور علامہ ابن الجوزی نے موضوع قرار دیا ہے۔
روایتیں تو بہت ساری ہیں، جو یا تو موضوع ہیں یا ضعیف، اس سلسلے میں کوئی ایک روایت بھی اس قابل نہیں ہے کہ کسی طرح اس کو قابل عمل  مانا جائے۔ علامہ ابن القیم الجوزی نے فرمایا کہ : لایصح منھا شیئ  یعنی اس موضوع میں کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے۔ خود احناف کےبعض  معتبر  علماء نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس مسئلے میں کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے۔جن میں سر فہرست ملا علی قاری اور مولانا تقی عثمانی صاحب ہیں۔
اس رات  کے متعلق بعض گمراہ کن عقائد اور اعمال
1:  سب سے گمراہ کن عقیدہ یہ کہ اس رات میں روحیں اپنے گھروں میں آتی ہیں اور اپنے من پسند چیزوں کو استعمال بھی کرتی ہیں۔یہ سراسر گمراہی ہے اور ہندوانہ عقیدہ ہے جس کا کتاب و سنت سے کوئی  ثبوت نہیں ہے۔
 2: یہ فاسد عقیدہ بھی ہے کہ اس رات کو بندوں کے اعمال  اٹھائے جاتے ہین اور بہت سارے اہم فیصلے کئے جاتے ہیں۔ اوراس کی دلیل کے لئے سورہ دخان کی آیت: إنا أنزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ  کا سہارا لیتے  ہیں۔ کیوں کہ اس کی ایک شاذ تفسیر ہے کہ اس رات سے مراد 15 شعبان کی رات ہے۔جب کہ جمہور مفسرین کے نزدیک اس مراد لیلۃ القدر ہے۔
اولاً تو یہ تفسیر شاذ ہے ۔ اس پر مزید یہ کہ قرآن کی دوسری آیتیں اس کی وضاحت کردیتی ہیں۔ کیوں کہ سورہ بقرہ میں ہے : شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن. جس سے یہ بات واضح ہے کہ قرآن کا نزول رمضان میں ہوا اس لئے لیلۃ مبارکۃ  بھی رمضان ہی کی کوئی رات ہے نہ کہ کسی اور مہینے کی۔
 3: اس رات میں چراغاں کیا جاتا ہے،پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں جوکہ ہندؤوں  اور اہل کتاب کی مشابہت ہے جوکہ صراحتاً ممنوع ہے۔
4: عورتوں کا سج سنور کر قبرستان جانا  جب کہ عورتوں کے لئے  اس طرح زینت کا ظاہر کرنا ممنوع ہے اور اسی طرح قبر کی زیارت کی اجازت صرف مردوں کو دی گئی ہے۔عورتوں کے لئے  وہ بدستور حرام ہے۔
 5: اس رات کا سب سے اہم عمل صلاۃ الفیہ یا سورکعتی نماز جوکہ سراسر بدعت ہے ۔جس روایت سے استدلال کرتے ہیں وہ نہایت درجے کی موضوع  روایت ہے۔ یہ نماز آپ ﷺ کی وفات کے تقریباً 400 سال بعد بیت المقدس میں ایجاد ہوئی ۔ اس نماز کے بارے میں امام نووی ؒ نے فرمایا کہ : یہ ایک مذموم،منکر  اور بدعت ہے۔
اور بہت سارے اعمال ہیں جن کا تذکرہ یہاں باعث تطویل ہوگا۔ مثلاً حلقے بناکر ورد کرنا، لاالہ الااللہ کی ضربیں لگانا وغیرہ اعمال جن کا شریعت سے کوئی بھی ثبوت نہیں ہے۔
یوں تو تمام بدعات اپنی جگہ ایک سنگینی رکھتی ہیں لیکن  یہ  بدعت  تباہ کن ہے۔کیوں کہ اس بدعت نے شریعت کی ایک مبارک ترین رات لیلۃ القدر کی اہمیت کو مٹاکر رکھ دیا۔ جو اہتمام اس رات کے لئے کرنا تھا وہ اب اس بدعت کے سپرد ہوگیا۔اللہ کے رسول اسی بنیاد پر اکثر خطبوں میں یہی فرمایا کرتے کہ : ان کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار۔
اللہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو بدعت جیسی گمراہی سے بچائے۔آمین

.


۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook



۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی