Saturday, December 31, 2011

امتِ مسلم جاگ ذرا !!!


  
     افسوس کس بات پر کریں؟ 
      ایک طرف فلسطین زخموں سے کراہ رہا ہے!!! وہاں کی ہر مظلوم آواز کو اٹھنے سے پہلے ہی کچلنے کی کوششیں ہورہی ہیں، دوسری طرف افغانستان لہولہان ہے،   وہاں لوگ روٹی، کپڑا  اور مکان سے زیادہ بم ،بندوق اور میزائل سے واقف ہیں۔اگر یہ زخم گنائے جائیں تو شاید ان گنت صفحات سیاہ ہوجائیں گے۔
      افسوس اس بات پر ہے کہ اب مسلم قوم کی اکثریت اس قدر بے حس ہو چکی ہے کہ  ظلم کا بدلہ تو دور کی بات ہے اس ظلم پر افسوس کرنا بھی برا لگتا ہے!!!کس منہ سے کہتے ہیں کہ ہم اہل فلسطین پر ڈھائے جانے والے ظلم پر غم زدہ ہیں جب کہ  کرسمس کے موقع پر  انہیں ظالموں کوخوش وخرم ہوکر مبارکبادیاں  دیتے ہیں۔
       کس منہ سے دعویٰ کرتے ہیں کہ افغانستان میں ظلم کی چکی میں پس رہے مظلوم ہمارے بھائی ہیں، جب کہ ہم ان پر ظلم کرنے والی دشمن قوم کے منافع میں حصہ دار ہیں؟!!
       کیسے ہمارا نفس گوارا کرتا ہے کہ ہم ہر چیز میں ان دشمنوں کی تقلید کرتے ہیں۔ آج ہم اعتراض کرتے ہیں کہ آخر کیا مضائقہ ہے  نئے سال کے جشن میں؟!!
      اللہ کے لئے اب اپنے طرز عمل کو بدلیں، دنیا کو اس نظر سے نہ دیکھیں جس نظر سے امریکہ و یورپ والے دکھانا چاہتے ہیں، بلکہ اس رب کے فرمان کو دیکھیں جس نے امریکہ ویورپ کو ڈھیل دی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی انہیں لوگوں میں شامل ہوجائیں جنہیں اللہ ایک مختصر وقت کے لئے ڈھیل دے رکھی ہے۔
                                                        اللہ ہمیں صحیح سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook



۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی


Monday, November 21, 2011

.....ماں.....


جن کی ماں نہیں ہوتیں.......................!!!!!

اللہ ہمارے والدین کی حفاظت فرمائے۔ آمین
وقتا فوقتا  کہیں نہ کہیں یہ پڑھنے یا سننے کو مل جاتا ہے کہ بیٹا جب کام کے لائق ہوا  تو اپنی بیوی کو لے کر والدین سے الگ ہو گیا۔ سن کر اور پڑھ کر عجیب سا لگتا ہے۔ کبھی کبھار ہم ایک دو جملے بھی کس جاتے ہیں ۔
یہ بات سچ ہے کہ  کسی نعمت کے چھن جانے کے بعد  ہی اس کا احساس ہوتا ہے۔  جو شخص کسی مرض  یا حادثے کی وجہ سے اندھا ہو گیا ہے اس پوچھئے کہ آنکھوں کی کیا قیمت ہوتی ہے؟؟؟
 مجھے یاد بھی نہیں پڑتا کہ نہ جانے کتنی بار  والدین کے خلاف دل میں عجیب جذبات ابھرے، وقتی طور پر ایسا لگتا کہ والدین ظلم کررہے ہیں، والدہ  مجھ سے محبت نہیں کرتیں، کبھی کبھی عجیب خیالات ابھرتے تھے....... چھوٹا ذہن.....چھوٹی سوچ....... اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھتے خیالات.......کبھی یوں بھی خیال ہوا کہ گھر چھوڑ کہیں دور چلے جائیں گے....... اپنوں سے دور......اس قدر دور کہ نہ میں انہیں ڈھونڈ سکوں اور نہ ہی وہ مجھے.......
اف فف !!!!!... کیسے جی لیتے ہیں وہ لوگ جو اپنے  والدین کے ہی شہر میں  رہ کر ان سے الگ ہیں؟؟؟...... الگ اس معنی میں کہ نہ ان سے کوئی رابطہ ...نہ میل ملاپ....نہ خیرخیریت....نہ دعاء نہ سلام!
اللہ ہمارے والدین  کی حفاظت فرمائے۔ اور ہمیں تاحیات ان کی خدمت کی توفیق عطافرمائے۔آمین۔




۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook



۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی



Tuesday, September 20, 2011

ضمیر فروش مسلمان

ائے گجراتی دیکھ کے تجھ کو شرمائے شیطان

عدل کے ٹھیکیداروں نے تو ایسے ظلم ہیں  ڈھائے
تاتاری کی روح  بھی  جس کو  دیکھ کے  شرما جائے
          کیسے تم  نے  اس کو  دیا  ہے اتنا  بڑا   سمان
ائے گجراتی دیکھ کے تجھ کو شرمائے شیطان

سر ِ راہ  جس  نے  ماں  بہنوں کی عزت کو  لوٹا
بچوں  اور معصوموں پر بھی  قہر ہےجس کا  ٹوٹا
          اپنا  رہبر  اس کو چنا ہے جو  ہے اک حیوان
          ائے گجراتی دیکھ  کے تجھ کو شرمائے شیطان

گلی گلی شہروں شہروں جس نے نفرت ہے بویا
بھارت نے جس کے ظلموں سے اپنا رتبہ کھویا
          پھر بھی اس کے ہاتھ میں تم نےسونپ دیا ایون
ائے  گجراتی  دیکھ  کے  تجھ  کو شرمائے  شیطان

دیش کے رکھوالے ہی دیش کی عزت لوٹ رہے تھے
خاکی  وری  والے   ماں   بہنوں  پر  ٹوٹ  رہے  تھے
          دیش نے جن پر کیا بھروسہ نکلے وہی بے ایمان
          ائے  گجراتی  دیکھ  کے  تجھ  کو  شرمائے  شیطان

زہرِ دہشت  پھیلائے  جو  تم  ہی وہ ناگن ہو
بن لادن کی بدنامی  ہے تم ہی  بن لادن  ہو
          ایک تھا  شیطانوں کا  دادا ،  تم ہو بو شیطان
          ائے گجراتی دیکھ کے تجھ کو شرمائے شیطان



اب بھی اس میں چند اشعار باقی ہیں، ان شاء اللہ فرصت ملی تو انھیں بھی مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

ظؔفر ابن ندوی

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Monday, September 12, 2011

تقلید کی تباہیاں

تقلید کے مضر اثرات
اس بات سے قطع نظر کہ تقلید کی تعریف کیا ہے صرف اس کے بعض مضرات کی نشاندہی کرنا چاہتاہوں۔ بس بغیر کسی دلیل کے یہ جانتے ہوئے کہ اس امر کے خلاف شریعت میں دلائل ہیں کسی کی بات کو مان لینا تقلید کی ایک عام فہم سی تعریف ہے جو کہ واضح ہے۔

تقلید کے بہت سارے اثرات ہیں جن میں سب سے  مضر جو ہیں وہ یہ کہ:
    تقلید نبی کریم ﷺ کی نبوت پر یہ ایک نقب زنی ہے۔ کیوں کہ مقلدوں کے نزدیک نبی سے زیادہ رتبہ ان کے امام کا ہوتاہے۔اس کی  واضح سی نشانی یہ ہے کہ آپ کسی مقلد سے کہیں کہ آپ کا نبی کون ؟ محمد ﷺ یا آپ کا امام؟ وہ فوراً گویا ہوگا محمد ﷺ۔ آپ پوچھیں کہ اگر ان کا کوئی حکم ہو اور اس کے خلاف آپ کو کوئی شخص حکم دے تو آپ کس کی بات مانیں گے؟ جواب دے گا اللہ کے رسول ﷺ کی ۔ اب آپ  کوئی ایسی حدیث اس کے سامنے پیش کردیں جو اس کے مسلک کے خلاف ہو۔ پھر دیکھیں کہ کیسے اس کی جان نکلنے لگتی ہے۔طرح طرح کی تاویلیں کرنے لگے گا۔ کہے گا کہ اپنے عالم سے تو میں نے ایسا سنا تھا، وہ بھی تو ایک عالم ہیں آخر غلط تو نہیں بتائیں گے، اچھا ٹھیک ہے میں اپنے عالم سے پوچھ کر بتاتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔
دور حاضراور ماضی کے مدعیان نبوت کے دعؤوں کے پیچھے اسی تقلید کا ایک اہم کردار رہاہے۔ ظاہر ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ کے فرمودات کے ہوتے ہوئے لوگ غیروں کی بات تسلیم کرلیتے ہیں اس کامطلب جس کے پاس  خود کو منوانے کے جتنے اہم ذرائع ہوں گے  اس کے لئے اس سادہ لوح قوم کو اپنے پیچھے دوڑانا اتنا ہی آسان ہوجائے گا۔ اوریہی ایک بڑا داعیہ ہے جھوٹی نبوت کے دعویداروں کا۔
افسوس کی بات ہے کہ امام اعظم کے ہوتے ہوئے لوگ اپنے اپنے اماموں کے پیچھے اندھا دھند بھاگتے ہیں، اور تعجب ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی موجودگی میں لوگ اوروں کو امام اعظم مانتے ہیں ، وہ بھی ڈھکے چھپے انداز میں نہیں بلکہ ببانگ دہل اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے مسلک کا امام تو امامِ اعظم ہے، اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے جو نبی کریم ﷺ کی کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا امام اعظم مانتے ہیں۔آمین۔
   قائدِاعظم کے ارشادات کی موجودگی میں بھی لوگ نام نہاد قائدِ اعظم تجویز کرتے ہیں، رسول ﷺ سے بڑھ کر اس امت کی قیادت کون کرسکتا ہے۔ افسوس ہے کہ جس کو لوگوں نے قائد ِاعظم بنایا اس کی شخصیت بھی نہیں دیکھی کہ آیا اس کے اعمال اسلامی ہیں یا نہیں؟ آیا وہ صحیح اسلامی تعلیمات کا ماننے والا ہے یا اس کے عقیدے میں انحراف ہے؟
اب آئیے ذرا  پیر پرستوں کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ اس تقلید نے لوگوں کو یہ جرات دے دی کہ نبوت تو بعد کی بات ہے لوگوں نے تو الوہیت تک کو نہیں چھوڑا، رسول اکرم ﷺ سے بڑھ کر بھی پہونچا ہوا بزرگ کوئی ہوسکتا ہے؟ہرگز نہیں۔ لیکن انہوں نے اپنا اپنا پہنچا ہوا پیر بنالیا۔ جن میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ،آج آپ کسی بھی مزار پر جاکر دیکھ لیجئے، اگر آپ کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا تو آپ مزاروں میں کئے جانے والے اعمال کو دیکھ کر برداشت نہیں کرسکیں گے۔ اللہ اس قوم کو ہدایت دے ۔ آمین۔ قیام اور رکوع کی بات چھوڑیں لوگ بے دھڑک ان قبروں کو سجدہ کرتے ہیں اور مزار پر موجود لٹیرے مجاور  ان کی مرادوں کی تکمیل کا یقین دلاتے ہیں۔ کیا یہ ایک قسم سے اللہ کی الوہیت کو للکارنے کا دعوی نہیں ہے؟
اللہ اس قوم کو تقلید کی لعنت سے بچائے اور خالص کتاب وسنت پر چلنے کی توفیق دے آمین۔

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Thursday, August 25, 2011

انّا جی آگے بڑھو !!!!۔

اب یہ بات واضح ہورہی ہے کہ صرف کانگریس ہی نہیں جتنی سیاسی پارٹیاں ہیں سب کو یہ غم گھلائے جارہا ہے کہ اگر ’’ہزارے جی کا لوک پال‘‘ آگیا تو ہماری سیاست کا کیا ہوگا؟ اس دکان کو تو اب بند سمجھنا چاہئے!!!!اب تو گویا ہر کوئی اپنا محاسبہ کررہا ہے۔ اور اپنی اپنی راگ الاپ رہا ہے۔ 

حکومت کی پالیسی کافی حد تک مایوس کن ہے۔ ہزارے کے طریقے سے بھلے ہی لوگوں کو اعتراض ہو لیکن ان کے تقریبا تمام ہی مطالبات بجا ہیں۔دورحاضر میں امید کی یہی ایک کرن ہے۔ کیوں کہ ہم علماء کے لئے تو سیاست گویا شجر ِ ممنوعہ ہے۔ جسے نہ تو ہم خود استعمال کرنا چاہتے ہیں، اورنہ ہی کسی دوسرے کو استعمال کرنے دینا چاہتے ہیں۔ پھر مسلمانوں کی طرف سے اس قسم کی کسی تحریک کی امید بھی نہیں کی جاسکتی ہے۔ جب قوم کے رہنما  ہی نیند کی آغوش میں ہوتے ہیں، اور اٹھنا بھی نہیں چاہتے ہیں ا،  ایسی صورت میں تو  بے چاری عوام کے پاس یہی ایک راستہ بچتا ہےکہ  راہ  زنوں کے پیچھے ہی چل پڑیں۔  پتہ نہیں اس دیوانے راہ زن کا کیا حشر ہوگا؟؟؟؟ 
اللہ ان رشوت خور غداروں سے اس ملک کو بچائے۔ جنھوں نے ملک وقوم کی دولت کو بے تحاشہ لوٹا ہے۔  
میں واضح کردوں کہ میں بھی کرپشن مخالف ہوں، اور  جو  اس کا  مخالف  نہ ہو میری نظر میں اس کے دل میں بھی کوئی چور ہے،  یا  وہ  خود کرپٹ  اورضمیر  کا  دشمن ہے۔ اور میں  اناہزارے کی بہت حد تک تائید کرتا ہوں۔ اس کے باوجود چندباتوں میں مجھے ان سے اختلاف ہے۔

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Sunday, August 21, 2011

آخری عشرہ

آخری عشرہ
 آخری عشرے کی آمد آمدہے۔ اکثر شہروں میں ایک الگ ہی رونق ہے۔ بعض شہروں  میں عید کی خریداری کا بازار اب لگنے کو ہے۔اکثر مساجد میں ان پانچ طاق راتوں کو پرسوز خطاب کے لئے علماء بھی پہونچ چکے ہیں۔ ان سب مصروفیات کے جھمیلوں میں ہم یہی بھول جاتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
ظاہر ہے کہ صبح فجر سے ظہر تک سونا ہے۔ ظہر سے عصر تک فیس بک میں مصروف  رہنا ہے۔ عصر کے بعد مارکیٹ جانا ہے۔ ارے مغرب بعد تو تھوڑا سا ہی وقت ملتا ہے اس میں کیا عبادت ہوگی۔ عشاء کے بعد تو تراویح ہے۔ اور تراویح کے بعد کھانا ہے۔ کھانے کے بعد عالم صاحب ڈیڑھ گھنٹے کا بیان دیتے ہیں۔ کیا زبردست بیان ہے میاں!!! آپ آتے ہیں یا نہیں؟ اور پھر بیان کے بعد چائے اور ناشتے کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔ اب اتنے کام سے تو ہر کوئی تھک جائےگا ناں بھائی؟  اس لئے امام صاحب کے کمرے میں یا پھر کسی کونے میں بیٹھ کر ذرا سستا لیتا ہوں۔ویسے بھی تین بج چکے ہوتے ہیں۔ یہ لیں دس منٹ ہی سستایا تھا کہ وتر کا اعلان۔
ارے میرے بھائی آپ نے اتنا سب کچھ تو کیا لیکن اس مبارک اور نایاب عشرے میں اپنے لئے کیا کیا؟  اپنے لئے اللہ  سے کیا مانگا؟ اپنے ماں باپ کے لئے اللہ سے کیا مانگا؟ اپنے گناہوں کی طرف کبھی نظر نہیں دوڑائی؟ خیر اللہ آپ کی مصروفیات میں کمی فرمائے۔
میری گذارش ہے کہ ہوسکے تو ذرا وقت نکال کر تنہائی میں اللہ کے حضور گڑگڑائیے۔ اپنے گناہوں کامحاسبہ کیجئے۔ اپنی اور اپنے  دوست و احباب کی مغفرت کی دعا کیجئے۔اور خصوصاً اپنی ان قیمتی دعاؤں میں اپنے علمی مسکن منصورہ کی زبوں حالی پر اللہ سے مدد طلب کیجئے۔ کیا خبر کہ اللہ کس کی دعا کو قبول کرلے۔
أللّٰھُــــــمَّ وَلِّ عَلَیْنَا خِیَارَنَا۔ أللّٰھُــــــمَّ وَلِّ عَلَیْنَا خِیَارَنَا ۔ أللّٰھُــــــمَّ وَلِّ عَلَیْنَا خِیَارَنَا ۔ وَاكْفِنَا وَاصْرِفْ عَنَّا شَرَّ أشْرَارِنَا۔ أللّٰھُــــــــمَّ اجْعَلْ وِلَايَتِنَا فِيَمَنْ خَافَكَ وَاتَّقَاكَ وَاتَّبَعَ رِضَاكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن۔ آمین۔

۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook



۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی


Monday, August 15, 2011

کیا ہم آزاد نہیں ہیں؟؟؟


ہر طرف سے یہ شور ہے کہ  ‘‘کیا ہم آزاد ہیں؟؟؟’’
میں کہتا ہوں.................

جی ہاں ... ہم آزاد ہیں!!!
اللہ کی اس نعمت کی ناشکری نہ کریں!!!۔
·      کیا آج ہماری مسجدوں پر بحالت نماز کوئی مسلمان حملہ آور  حملہ کرتا ہے؟
·      کیا لال مسجد کی طرح یہاں بھی کسی غازی کو شہید کیا جاتا  ہے؟
·      کیا یہاں بھی کوئی مسلم بھائی ڈاکٹر عافیہ کی طرح اپنی بہن کو دشمن کے سپرد کرتاہے؟
·      کیا یہاں بھی ایسا ہے  کہ گولی چلانے والا کہہ رہاہو ‘‘لاإلٰہ الا اللہ’’ اور گولی کھاکر مرنے والے کے منہہ سے بھی ایک دل خراش چیخ نکلتی ہے ‘‘لاإلٰہ الا اللہ ’’؟

ہاں ہم بالکل آزاد ہیں۔لیکن معنوی قید کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ہم نے یہ سمجھ لیا کہ حکومت میں ہماری نمائندگی کا قرض مولانا ابوالکلام آزاد نے چکادیا ہے۔ بس اب ہمیں صدیوں تک آرام فرماناہے۔


·      کیا ہم سوچتے ہیں  کہ کہ کوئی ہندو،   سکھ یا  عیسائی مسیحا  بن کر آئے گا؟  اور قوم کے زخم پر مرہم لگائے گا؟؟!!!!۔
·      کیا ہم نے یہ سوچ لیا ہے  کہ مذھب کے نام پر ہمارا  اعتماد  لوٹنے  والے یہ سیاسی لیڈر ہمارے بلکتے ہوئے نونہالوں کے لئے وقت کے فاروق ہوں گے؟
·      ہم نے شاید یہ سمجھ لیا ہے کہ آج کا  ‘‘ انّا ھـــــــــــــــزارے ’’ ہی ہمارے لئے خضر بن کر آگیا ہے۔
رام دیو اور بال کرشن کو  ہم اپنا مسیحا سمجھنے لگے ہیں۔

آخر کیوں نہ سمجھیں؟؟!!!؟قوم کے نمائندے تو خوابِ خرگوش میں ہیں!!!قوم کے نمائندے قوم کا نہیں بلکہ اپنا مستقبل سنوارنے کے فراق میں ہیں۔
یہ کہیں کہ قوم آزاد ہے لیکن قوم کے رہبر ہی غلامی کی قید میں ہیں۔ایسے بھی رہبر  ہوئے ہیں کہ کل کیا کھائیں گے اس کا پتہ نہیں ہواکرتا تھا۔ لیکن آج کے رہبر اتنے دوراندیش ہیں کہ صدیوں کے بعد  ان کی سات پیڑھیاں کیا کھائیں گی اس کا بھی بندوبست ہوچکا ہے
خیر اب صرف انتظار ہے کہ کوئی غیبی مدد آجاوے۔

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Saturday, July 23, 2011

بہت ضروری ہے

شرافتوں سے سنورنا بہت ضروری ہے
خودی میں تیرا نکھرنا بہت ضروری ہے

جہاں کے ظلم سے فرعونیت بھی شرمائے
خلاف  ظلم   بپھرنا  بہت ضروری  ہے

ہے  آخرت  کی  قبر ہی  تو منزل  اول
عذاب قبر سے ڈرنا بہت ضروری ہے

محبتوں کا  حقیقت  میں  لطف جو  چاہو
تودوستوں سے بچھڑنا بہت ضروری ہے

جاری ہے .....



۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook


۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی



Friday, July 22, 2011

یاد ماضی


یادِ ماضی عذ ا ب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

          جب بھی منصورہ کی دلکش یادیں دل کے الجھے ہوئے تاروں کو چھیڑتی ہیں  تو بے ساختہ یہ شعر یاد آجاتا ہے ۔
وہ سہانے پل اب کسے نصیب ؟ شیخ منصور کاانوکھا پن !! ڈاکٹر افضال کا خلوص وپیار کے ساتھ کبھی برہم ہونا تو کبھی خوشی سے قہقہہ زار ہوجانا۔ منصورہ کے عمومی نانا شیخ شفیق کی شفقت!!!!

جمعرات کی ان حسین شاموں کو بھَلا کون بھُلاسکتا ہے۔ ثقافت کی وہ پر لطف  راتیں، تقریر کی باریاں، عصر کے بعد کا کھیل ، صبح کے ترانے۔ ۔ ۔ پندرہ اگست کا مرغا ٹورنامنٹ ،ثقافتی ہفتہ ، سالانہ انجمن اور سالانہ اسپورٹس۔۔۔ نہ جانے کیا کیا؟؟

یہ تو صرف عناوین ہیں جن کا یہ حال ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتیں ،کیا کیا بتاؤں ان سنہرے لمحات کے متعلق؟؟کہنے  لگوں تو الف لیلیٰ کی کہانی  ہوجائے !  اس پاک سرزمین میں بسر شدہ ہر دن ایک کہانی سے وابستہ ہے۔ ہر دن کی کہانی مختلف،کردار انوکھے   اورکہانی من موہنی۔  آہ  ! تجھے کرب زدہ یہ  دل آواز دیتا ہے۔ تیرے بغیر یہ انجمن  اور یہ محفل ِ دنیا اداس کیوں ہے؟ میں نے کتنی بار اس نادان  کوسمجھایا بھی کہ نہ پکار اسے  ۔ پر دل ہے  کہ مانتا ہی نہیں!

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

بکھرے خیالات

نظم
میں آج  نکل آیا ہوں جب اپنے  شہر  سے
کر دور  ہراک قسمِ  بلا  تو  مرے سرسے
ہرلمحہ میں تیری  ہی عبادت میں رہوں گم
مولی   تو   بچانا   مجھے  شیطاں کے ضرر  سے
گستا خیاں جو  احمدِ  مرسل   کی  کرے  ہے
یا رب  نہ  بچا  اس کو کبھی  اپنے  قہر  سے
ممکن  ہی   نہیں  چھولے  اسے  نار   جہنم
وہ آنکھ جو  پر نم  ہو کبھی  نار کے  ڈر سے
موسی ابھی حیران وپریشاں ہی کھڑےتھے
آواز  جو  آئی  تھی  تری  ایک  شجر  سے
ممتاز  کیا  تو نے  ہی  یوں  پیارے  نبی  کو
پتھر  کے  تکلم  سے ، کبھی  شقِّ  قمر  سے
بس ایک دعا  وردِ زباں  ہے  مرا ہر  پل
ہر  شر، ہر اک  بلا ہو سدا دور ظؔفر سے

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

حمد



حمد

فضل تو نے کیا دے کے راہ ِ ھُدا
رشک اس پر کرے ہر غنی و گَدا

حمد  میں  ہیں  مگن  اہل  ارض  و سما
                         نعمتوں  پر  تری  ہر کوئی  ہے   فدا

وَ ا شکُرُوا لِي  تو  تُو نے کہا  ہے مگر
شُکر کیا   میں  ترا  کر سکوں  گا   ادا

یوں ظؔفر  کو دیا تو نے فرح  و سرور
ناز کم  ہے  جو کرتا  رہے  وہ  سدا




۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook



۞۞۞
Follow me on Facebook
۞۞۞
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

ماضی کے دریچوں سے

میرے ماضی کا ایک "خوبصورت" حادثہ

     ایک معتدل سی شام کی بات ہے، حسبِ عادت مغرب کے بعد مسجد کے برآمدے میں بیٹھ کر  اپنی پڑھائی کر رہا تھا۔ میرے فرشتوں کو بھی نہیں معلوم  ہوا ہوگا کہ آج میرے خلاف ایک گھناؤنی سازش  کی بنیاد رکھی جائے گی۔ اتفاق سے کسی ضرورت کے تحت شمال کی جانب بیٹھے ہوئے اپنے ہم سبق کاظم کی طرف نظرگئی تو وہ وہاں موجود نہ تھا، تلاشتا ہوا اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ  تمام ہی ہم جماعت ایک جگہ حلقہ بنائے ہوئے ہیں، قریب پہونچا تو دیکھا کہ ناظمِ محترم تشریف فرما ہیں ، سعادت مندی سمجھ کر بیٹھ گیا۔ گفتگو چوں کہ پہلے سے ہی جاری تھی اس لئے  مجھے اس کے سیاق و سباق کا علم نہیں ہے۔
آپ لو گ اپنے مسائل بتائیں!!
آپ لوگ خاموش کیوں ہیں؟؟
میں اس جامعہ کا نیا ناظم ہوں اور آپ لوگ پرانے طالب ہیں، جب تک آپ لوگ ہمیں یہ نہیں بتائیں گے کہ کیا کیا خامیاں ہیں میں کیسے سدھاروں گا ان خامیوں کو؟؟
آپ لوگ بولتے کیوں نہیں؟؟
دیکھئے آپ لوگ کس بات سے خائف ہیں ؟؟  بلاجھجھک کہیں میں آپ ہی کا ایک محمدی بھائی ہوں مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔
چوں کہ اس سے ایک ہفتہ پہلے انھوں نے گھنٹیوں میں  ردوبدل کروایا تھا اور ہم تمام ساتھی اس سے خائف تھے۔ہم نے یہی کہا کہ ہماری شکایت کھانے پینے یا کسی دیگر ضمنی مسئلے کو لے کر نہیں ہے ۔ بلکہ گھنٹیوں کی تبدیلی سے ہے۔
بحث کی طوالت میں نہیں جانا چاہتا ہوں بعد میں محترم ناظم نے ہمیں بہت ہمدردی سے مشورہ دیا کہ آپ لوگ ایک  شکایت نامہ ناظم تعلیمات کے نام لکھیں تاکہ اس پر کارروائی کی جاسکے،اتنا بھولا انداز تھا ،فرمارہے تھے کہ دیکھئے ایسے انداز سے لکھئے گا کہ اساتذہ کی دل آزاری نہ ہو اورآپ کا کام بھی ہوجائے۔
ہفتہ عشرہ کے بعد میں نے  جماعت والوں سے پوچھ کر شکایت نامے کا ایک مسودہ تیار کیا، سب اس سے متفق ہوئے تو اب اسے لکھنے کی باری آئی ۔ چوں کہ جماعت میں صرف دو ہی طالب تھے جن کو کتابت کا ذوق تھا، اور انہی بد نصیبوں میں میرا بھی نام تھا، میں نے اپنے دوسرے ساتھی سے اس کی پیش کش کی وہ کسی صورت راضی نہ ہوااور ساتھیوں کے اصرار پر میں نے اس شکایت نامہ کو تحریر کردیا۔
ناظم صاحب نے یہیں سے وعدہ خلافیوں کا آغاز شروع کیا۔ کہا تھا کہ یہ شکایت نامہ اساتذہ کو نہیں دکھایاجائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر لازماً  بعض اساتذہ  ہمیں نشانہ بنانے لگے۔ فضیلت ثانی میں ایک محترم استاذ نے تو طلباء کو مارنا شروع کردیا۔ مجھ پر بھی ہاتھ اٹھایا تو میں نے  یہ گستاخی کردی کہ ان کا ہاتھ روک کر گویا ہوا کہ محترم میری غلطی مجھے بتادیں میں اپنا سر آپ کے پیروں کے نیچے رکھ دوں گا لیکن بغیر کسی غلطی کے مجھے ہر گز نہ مارئے گا۔...  بس کیا تھا لعنتوں کی بارش شروع ہوگئی۔ مجھے کافی افسوس ہے میرے استاذ پر کہ انھوں احادیث کے ساتھ خیانت کی۔ صحیح مسلم میں کتاب القسامۃ والمحاربین  کی اکثر احادیث کے استدلال کا رخ صرف میری طرف ہواکرتاتھا۔
خیر یہ پندرہ  دن ایک پہاڑ کی طرح  گذرے ، وہ آتے جاتے ہم پر لعنتیں برساتے۔ پندرہ دن کے بعد ناظمِ محترم  کا ارشاد ہوا کہ آپ لوگوں کی درخواست ناقابل قبول ہے کیوں کہ اس کے پیچھے کسی سازش کا ہاتھ ہے۔ آپ جائیے اور اپنے اساتذہ سے معافی مانگ لیجئے۔ چوں کہ تحریر میری تھی اور جامعہ کا تقریباً  ہر استاذ  میری تحریر سے واقف تھا۔ اسی لئے میں ہی اس  سازش کا ایک اہم حصہ قرار دیاگیا.........
 میں نے ناظمِ محترم سے کہا بھی کہ محترم اگر یہ کسی سازش کا نتیجہ ہے تو وہ تو خود آپ ہی کی سازش ہوگی۔ کیوں کہ آپ ہی کے حکم اور اصرار پر ہم نے یہ شکایت نامہ لکھاتھا!!! جب کوئی جواب نہ بن پڑا  تو  ارشاد فرمایا کہ دیکھو بیٹا یہ میرا مشورہ ہے اسے مان لو۔ میں یہ فیصلہ فی الحال نہیں کرسکتا۔ پھر میں نے یہی کہا کہ جب آپ کا مشورہ ہے تو مان لیتا ہوں۔ اور اس رات کی میٹنگ میں فلمی انداز میں بس تین یا چار احباب کووہ بھی فرداً فرداً ایک کمرے میں بلاکر تفتیش کی گئی۔ میں جان بوجھ پہلے نہ جاکر تیسرے نمبر پر گیا۔ تعجب تو تب ہوا جب میرے بعد کسی اور کو نہیں بلایا گیا۔ مطلب میں ہی تھا ان کا نشانہ۔
خیر! اللہ اللہ کرکے 16 اگست کی صبح  کو جماعت میں وہی استاذِ حدیث مسلم شریف پڑھا رہے تھے۔ اور جان بوجھ کر کئی کئی الفاظ کا ترجمہ و تشریح کئے بغیر ہی آگے بڑھ رہے تھے کہ عادتا میں کچھ بولوں۔ اور جیسے ہی میں نے کہا کہ شیخ! فلاں لفظ کی تشریح میں سمجھ نہیں سکا۔ واللہ اس کے بعد استاذ محترم نے جو کچھ میرے اور میرے والدِ محترم کے خلاف موشگافیاں فرمائی انہیں میں آپ کے سامنے  بولنا نہیں چاہتا۔ تمام طلبا کے سامنے میری اور میرے والدِ محترم  کی عزت کی دھجیاں اڑاکر رکھ دیں۔
یہی میرا آخری دن تھا۔
میں نے گھر جاکر فوراً اپنافیصلہ سنایا کہ  ان اساتذہ سے میں یہی سیکھوں گا؟؟ کیا یہی غلیظ سیاست دین کے نام پر سیکھوں گا؟  مجھے ملّا نہیں بننا ہے۔ اگر آپ مجھے جامعہ سے نکلنے کی اجازت نہ دیں تو میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑ کر جہاں میرا دل کہے چلا جاؤں گا۔

(اور یہی وجہ ہے  کہ مدینہ یونیورسٹی سے میری  منظوری آنے کے بعد بھی میں نہیں گیا۔ کیوں کہ اس میں بھی میرے بعض مخلصین نے سیاست کی تھی، اللہ ہی بچائے ان گندی سیاستوں سے۔ آمین۔)
والد محترم نے مکمل حال سنا پہلے تو مجھے ڈانٹا کہ مجھ سے چھپاکر یہ شکایت نامہ کیوں لکھا؟ مجھے معلوم ہے شکایت کا یہی حشر ہوتا ہے۔ پھر انھوں نے غور کرکے یہ فیصلہ کر دیا کہ ٹھیک ہے فضیلت ثانی کا سال سہی  اگر تمہارے ساتھ یہی ہوتا ہے روزانہ تو تم ہرگز نہیں پڑھ سکتے۔
مجھے اپنے  والد محترم کے فیصلے پر ناز ہے کہ آج میں فکری طور پر آزادہوں۔ لیکن ایک بات ہے میں ان اساتذہ کو قیامت تک نہیں بھول سکتا ہوں جنھوں نے میرے اور میرے والدین کے مکمل ہوتے ہوئے خواب کو چکنا چور کردیا۔

ظفؔر شیر شاہ آبادی

۞۞۞
LIKE& SHARE it on Facebook
۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی

Wednesday, July 20, 2011

پندرہ شعبان کی بدعات



         إن الحمد للہ والصلوۃ والسلام علیٰ رسول اللہ۔ أمابعد ۔فإن خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وشرالأمور محدثاتھا وکل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ
 اللہ نے ہمیں جس عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا ہے وہ   ہے اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر ایک اللہ کی عبادت  ۔ یہاں ایک اصول ذہن نشین کرلیں کہ اسلام نے جن اوقات اور جن صفات کے ساتھ عبادتوں کا حکم دیا ہے ان کے علاوہ کسی مخصوص صفت یا مخصوص وقت میں  کوئی بھی مخصوص عبادت حرام اور ناجائز ہے، چاہے اسے کتنے ہی خلوص کے ساتھ کیوں نہ انجام دیا جائے ۔ایسی عبادتیں کرنے والا ثواب سے محروم اور عذاب کا حقدار ہوگا۔
اس اصول کوسمجھنے کے لئے ایک عام سی مثال ہی کافی ہوگی کہ اگر کوئی شخص فجر میں 2 کی جگہ 4 رکعت پڑھنا چاہے، یا  ظہر کی نماز کو  زوال سے  پہلے ہی پڑھ لے تو کیا ایسے شخص کی نماز ہوگی؟؟  ہرگز نہیں  ۔بلکہ ایسا شخص گنہ گار ہوگا۔کیوں کہ  اس سے  یہی لازم آتا ہے کہ یا تو شریعت ناقص ہے نعوذباللہ یا پھر یہ اپنے آپ میں رسول ﷺ سے زیادہ پرہیزگار ہونے کا دعوی کررہاہے۔ اور یہی چیز بدعت ہے کہ  کسی بھی ایسے کام کو دین سمجھ کر انجام دینا جو شریعت میں نہیں ہے۔ اور اسکی سنگینی کی وجہ سے شریعت نے بدعت کا زبردست رد کیاہے۔ کیوں کہ ایک  زانی یا کسی اور مرتکبِ کبیرہ کی بہ نسبت  ایک بدعتی کو توبہ کی توفیق جلدی نہیں ہو تی کیوں کہ وہ تو اس کو نیکی سمجھ کر کرتا ہے۔ جس کی بنا پر اس کے دل میں توبہ کا خیال آنا مشکل امر ہے ، جب کہ  کبیرہ کا مرتکب اپنا کام گناہ سمجھ کر انجام دیتاہے ، وہ اسے غلط سمجھتا ہے اسی لئے وہ اسے چھپا کر انجام دیتا ہے ۔اور بعد میں اسے افسوس بھی ہوتاہے۔ اور ایسے شخص کے ذہن میں توبہ کا خیال آنا ایک فطری بات ہے۔
جس اسلامی مہینے  سے ہم اور آپ گذر رہے ہیں  یعنی شعبان کا مہینہ ایک ایسا مہینہ ہے جس کی پندرہویں تاریخ میں چند عجیب و غریب بدعات انجام دی جاتی ہیں۔اور اس  رات کو مبارک تصور کیا جاتاہے۔
تو سب سے پہلے ان بدعتیوں کے دلائل اور ان کا استدلال پیش کیا جائے گا ساتھ ہی میں ان کا رد بھی کیا جائے گا اور بعد میں اس  تاریخ میں انجام دئے جانے والے بعض افعال اور عقائد کا ذکر ہوگا۔
پندرہ شعبان کے متعلق روایتیں اور ان کاجائزہ
1: حضرت علی کے واسطے سے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کی جانے والی  ایک موضوع حدیث جس میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : إذا کانت لیلۃ نصف من شعبان فقوموا لیلھا وصوموا نھارھا  ۔ ۔ الخ ۔ ۔ یعنی اس رات کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کیوں کہ اس رات میں مغرب کے بعد سے ہی اللہ تبارک و تعالیٰ دنیاو ی آسمان پر نزول فرماتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ : ألا من مستغفر فأغفر لہ۔ ۔ الخ۔۔ یعنی ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ میں اسے معاف کردوں، ہے کوئی روزی کا طلب گار کہ میں اسے روزی عطاکروں ۔۔۔  یہ سلسلہ صبح تک چلتا رہتا ہے۔
ابن ماجہ کی یہ روایت موضوع ہے کیوں کہ  اس کا ایک راوی  ابوبکر بن عبداللہ بن محمد(ابن ابی سبرۃ) کذّاب اور وضّاع ہے۔
2: ام المؤمنین عائشہ  صدیقہ ؓ کی مشہور روایت جو ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : إن اللہ عزوجل ینزل کل لیلۃ النصف من شعبان  فیغفر الذنوب أکثر من شعر غنم کلب۔
         یعنی اس رات میں اللہ کا نزول ہوتا ہے اور وہ قبیلۂ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد میں گناہ معاف کرتاہے۔اس کے ایک راوی حجاج بن أرطاط جمہور کے نزدیک ضعیف اورمدلس ہیں۔اور امام ترمذی نے فرمایا کہ میں نے امام بخاری کو اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے سنا ہے۔
3: رسول اللہ ﷺ کی  طرف منسوب ایک موضوع اور من گھڑت روایت: من صلی لیلۃ النصف من شعبان ثنتی عشرۃ رکعۃ یقرأ فی کل رکعۃ  قل ھو اللہ احد ثلاثین مرۃ لم یخرج حتیٰ یری مقعدہ من الجنۃ۔  یعنی جو شخص پندرہویں شعبان کی رات کو اس طرح 12 رکعتیں پڑھے کہ ہر رکعت میں 30 مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے تو وہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی جنت  میں اپنا مقام دیکھ لے گا۔
 یہ حدیث انتہائی درجے کی موضوع ہے۔ اس کو علامہ ابن القیم ، علامہ سیوطی اور علامہ ابن الجوزی نے موضوع قرار دیا ہے۔
روایتیں تو بہت ساری ہیں، جو یا تو موضوع ہیں یا ضعیف، اس سلسلے میں کوئی ایک روایت بھی اس قابل نہیں ہے کہ کسی طرح اس کو قابل عمل  مانا جائے۔ علامہ ابن القیم الجوزی نے فرمایا کہ : لایصح منھا شیئ  یعنی اس موضوع میں کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے۔ خود احناف کےبعض  معتبر  علماء نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس مسئلے میں کوئی بھی روایت صحیح نہیں ہے۔جن میں سر فہرست ملا علی قاری اور مولانا تقی عثمانی صاحب ہیں۔
اس رات  کے متعلق بعض گمراہ کن عقائد اور اعمال
1:  سب سے گمراہ کن عقیدہ یہ کہ اس رات میں روحیں اپنے گھروں میں آتی ہیں اور اپنے من پسند چیزوں کو استعمال بھی کرتی ہیں۔یہ سراسر گمراہی ہے اور ہندوانہ عقیدہ ہے جس کا کتاب و سنت سے کوئی  ثبوت نہیں ہے۔
 2: یہ فاسد عقیدہ بھی ہے کہ اس رات کو بندوں کے اعمال  اٹھائے جاتے ہین اور بہت سارے اہم فیصلے کئے جاتے ہیں۔ اوراس کی دلیل کے لئے سورہ دخان کی آیت: إنا أنزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ  کا سہارا لیتے  ہیں۔ کیوں کہ اس کی ایک شاذ تفسیر ہے کہ اس رات سے مراد 15 شعبان کی رات ہے۔جب کہ جمہور مفسرین کے نزدیک اس مراد لیلۃ القدر ہے۔
اولاً تو یہ تفسیر شاذ ہے ۔ اس پر مزید یہ کہ قرآن کی دوسری آیتیں اس کی وضاحت کردیتی ہیں۔ کیوں کہ سورہ بقرہ میں ہے : شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن. جس سے یہ بات واضح ہے کہ قرآن کا نزول رمضان میں ہوا اس لئے لیلۃ مبارکۃ  بھی رمضان ہی کی کوئی رات ہے نہ کہ کسی اور مہینے کی۔
 3: اس رات میں چراغاں کیا جاتا ہے،پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں جوکہ ہندؤوں  اور اہل کتاب کی مشابہت ہے جوکہ صراحتاً ممنوع ہے۔
4: عورتوں کا سج سنور کر قبرستان جانا  جب کہ عورتوں کے لئے  اس طرح زینت کا ظاہر کرنا ممنوع ہے اور اسی طرح قبر کی زیارت کی اجازت صرف مردوں کو دی گئی ہے۔عورتوں کے لئے  وہ بدستور حرام ہے۔
 5: اس رات کا سب سے اہم عمل صلاۃ الفیہ یا سورکعتی نماز جوکہ سراسر بدعت ہے ۔جس روایت سے استدلال کرتے ہیں وہ نہایت درجے کی موضوع  روایت ہے۔ یہ نماز آپ ﷺ کی وفات کے تقریباً 400 سال بعد بیت المقدس میں ایجاد ہوئی ۔ اس نماز کے بارے میں امام نووی ؒ نے فرمایا کہ : یہ ایک مذموم،منکر  اور بدعت ہے۔
اور بہت سارے اعمال ہیں جن کا تذکرہ یہاں باعث تطویل ہوگا۔ مثلاً حلقے بناکر ورد کرنا، لاالہ الااللہ کی ضربیں لگانا وغیرہ اعمال جن کا شریعت سے کوئی بھی ثبوت نہیں ہے۔
یوں تو تمام بدعات اپنی جگہ ایک سنگینی رکھتی ہیں لیکن  یہ  بدعت  تباہ کن ہے۔کیوں کہ اس بدعت نے شریعت کی ایک مبارک ترین رات لیلۃ القدر کی اہمیت کو مٹاکر رکھ دیا۔ جو اہتمام اس رات کے لئے کرنا تھا وہ اب اس بدعت کے سپرد ہوگیا۔اللہ کے رسول اسی بنیاد پر اکثر خطبوں میں یہی فرمایا کرتے کہ : ان کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار۔
اللہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو بدعت جیسی گمراہی سے بچائے۔آمین

.


۞۞۞

LIKE& SHARE it on Facebook



۞۞۞
Follow me on Facebook
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی