Friday, June 15, 2018

چاند برائے فروخت

#چاند_برائے_فروخت
15 جون 2018

یہ لو! اب مفتیان کرام کا سیلاب امڈ پڑا ہے! 
یار "گجب گجب" اصول بتائے اور بنائے جارہے ہیں!
درجن بھر افراد کی گواہی تو گئی بھاڑ میں! اب "بھکت " یہ سوال داغے جارہے ہیں کہ "کیا آپ نے بہ ذات خود چاند دیکھا؟"
" آپ کے علاقے میں کسی نے دیکھا؟"

تصویر: گوگل


اماں یار جنھوں نے دیکھا ان گوشت پوست کے پیکروں کو تو "بزرگانِ دین" نے "مردہ" اوہ معاف کیجئے گا "کالعدم" ہی "گھوشت" کردیا ہے۔ اب دیگروں کو کیا مرنے کا شوق چڑھا ہے جو اوکھلی میں سر رکھیں!؟ 
ایک بھکت نے تو یہاں تک ارشاد فرما دیا: 
"چوں کہ شعبان 29 دن کا تھا اس لئے رمضان 30 کا ہی ہوگا۔" 
وہ جناب اسی پر نہیں ٹھہرے بلکہ پھر فقہ کا ایک "ہلالی اصول" بیان فرما دیا اور گویا ہوئے: 
"پے در پے دو ماہ 29 دن کے نہیں ہوتے!" 
سبحان اللہ! مفتی صاحب اب تک کس غار میں پردہ فرمائے ہوئے تھے؟ اب تک کے سارے جھگڑے ختم ہوگئے ہوتے اگر آپ پہلے ظہور فرماتے!
خیر! یہ چاند بھی نا بڑا بے حس نکلا! 
اسے ذرا بھی خیال نہ آیا کہ "خیر امت" اس کے ایک دیدار کے لئے "سماجی روابط کے جادوئی جال میں "تختۂ کلید " جیسے ترقی یافتہ اسلحے سے ایک دوسرے کی عزت اور شہرت اور نہ جانے کس کس چیز کو تار تار کرنے کو تیار ہے۔ اور چاند ہے کہ اسے نخرے کی پڑی ہے! اسی اثناء کسی نے کہہ کیا دیا کہ ہم نے اس ظالم کی ایک جھلک کا دیدار کر لیا ہے۔ بس اب کیا تھا! جنگ جاری ہوگئی! جو ہنوز جاری ہے۔
"کیا تمھیں کل ہی چہرہ دکھانا ضروری تھا! ایک شام اور انتظار ہوجاتا تو کون سی قیامت آجاتی!"
 اس سرزنش پر اس بے حس کو کچھ بھی فرق نہیں پڑا۔ مغرب سے قبل جلوۂ حسن کا ظہور ہوا تھا جو دیر عشاء تک "خیر امت " کا منہ چڑانے میں لگا رہا۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ "لو دیکھ لو! میرے دیدار کے لئے مرے جارہے تھے!"
خیر، "ان کا حسن ان کی مرضی!"
 آج جی بھر کے دیدار کا شرف حاصل ہوگیا! مجھے لگا کہ شاید قصہ یہیں تمام ہوگا! 
لیکن نہیں جناب عمر تمام ہوجائے گی پر یہ قصہ نا تمام ہی رہے گا! 
پھر اب اسکرین سیاہ کرنے کا فائدہ نہیں ہے! آپ ایک عدد فیس بک اور ایک عدد واٹس اپ لے آئیں۔ اور اس ناتمام قصے کو تختۂ کلید کی مدد سے تمام کرتے رہیں! 
#عید_سعید
تحریر: ظفر شیر شاہ آبادی


Friday, October 13, 2017

TV डिबेट या गली का झगड़ा

यूंं तो पहले ही दूर दर्शन अर्थात टीवी बहुत कम देखा करता था, अौर जब कभी देखता था तो चंद गिने चुने चैनलों को ही देखता था। मझे समाचार से ज्यादा डिबेट देखना अच्छा लगता था। हालांकि यह बहुत पुराने समय की बात नहीं है, फिर भी आज से कुछ वर्षों पहले ही टीवी पर किसी भी विषय को लेकर चर्चा होती तो उस चर्चा में उपस्थित  सभी अतिथिगण बहुत भद्र अौर शालीन हुआ करते थे।
अब डिबेट चलते हुए किसी भी चैनल के सामने जाने से ही मन सिहरने लगता है। जी हां मैं सत्य बोल रहा हूं।
आज अब डिबेट अौर चर्चा बाजारू हो गई है। क्या पता कब कोई रंगीन महाराज जी क्रोधित होकर महिला पर सरे आम हाथ उठा दें। फिर क्या बच्चों को हम यही शिक्षा देंगे। आने वाली नसलें जब तक अपने आप में खोई हुई हैं, सोई हुई हैं वही ठीक है अन्यथा वह यही सब आचरण सीखेगी।

आज के डिबेट डिबेट न हुए गली नुक्कड़ में सिर धुंते जुवे बाजों की आपसी लड़ाई होगई! झूठा व्यक्ति यह जानते हुए भी अपनी ढिटाई पर अड़ा रहता है कि वह गलती पर है। फिर आए दिन झूठ को सच दिखाने कि इस प्रयास को देख कर यही लगता है कि अमुक चैनल बिक चुका है अौर अमुक चैनल सत्तारूड़ दल की रखेल है! महाशय आप बुरा न मानें, रखेल से बी नीच यदि कोई शब्द मेरी जान कारी में होता तो मैं वही लिखता।

आज के चर्चा पहले से ही गठित होते हैं। कौन लड़ेगा, अौर किस को जीतना हे यह सेट पर उपस्थित अतिथि गण को भी पता होता है, अौर दर्शक गण तो ख़ैर अब चालाक हो चुके हैं, उन्हें भी पता चल ही जाता है कि इस का अंत क्या होगा।

Friday, September 29, 2017

رنگ بدلتا انسان

منیہاری، کٹیہار۔


عنوان دیکھ کر چونک گئے!؟ جی ہاں آپ نے ٹھیک ہی پڑھا ہے۔ رنگ بدلتا انسان! 
ہائی اسکول میں سائنس اور جغرافیہ میں جان داروں کی ایک صلاحیت کے بارے میں پڑھا تھا۔ جسے "توافق" کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صلاحیت ہے جس کی مدد سے ایک جان دار خود کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنے ماحول کے تقاضے کے مطابق خود کو ڈھال سکتا ہے۔ اور اپنے اندر ضروری تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس وقت کتابوں میں کئی مثالیں پڑھنےکو ملی تھیں۔ لیکن عملی طور پر ان میں سے بس رنگ بدلتے گرگٹ کا ہی مشاہدہ کر سکا تھا۔ کہ خود کو محفوظ رکھنے کے لئے گرگٹ اپنے رنگ کو اپنے ماحول کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ کہاوتوں سے سبق لیتے ہوئے ہم یہی جانتے ہیں کہ کوا جب بھی چالاکی دکھاتے ہوئے اپنا رنگ بدل کر ہنس بننا چاہے گا وہ ذلیل و رسوا ہوگا۔
تف ہے ہم انسانوں پر! کہ ہم کووں کو ہنس بننے پر تو کوستے ہیں لیکن بہ وقت ضرورت خود رنگ بدلنے میں ذرا بھی شرم نہیں کرتے! ایسے انسانوں کو جعل ساز اور کرتب باز بھی کہا جاتا ہے۔ اور تاریخ میں بھی انہیں ایسے بے شمار حسین القاب نوازے جاتے ہیں۔
دور حاضر میں بھی ایک کرتب باز انسان کو امت اسلامیہ کی تاریخ میں انہی ناموں سے یاد کیا جائے گا۔ جو ہر موقع پر اپنا رنگ بدلتا رہتا ہے۔ اور اس سے زیادہ افسوس اس شخص کے اندھے عقیدت مندوں پر جو ہر رنگ میں ان کی حمایت اور دفاع میں جان کی بازی لگاتے نظر آتے ہیں۔
ایک زمانے میں موصوف محترم کی سعودی عرب سے اچھی خاصی الفت تھی۔ جہاں کی امداد سے موصوف کے ادارے اور روزگار بہ حسن و خوبی رواں دواں تھے۔ پھر یکایک ایک روز پتہ نہیں سعودی عرب نے ان کی شان عالی میں ایسی کیا گستاخی کردی کہ وہی سعودی عرب اب کفرستان بن گیا۔ ان کی نظر میں جو ملک کبھی اسلام کا خادم تھا موصوف نے اور ان کے عقیدت مندوں نے اسے امریکہ، ہیود اور عیسائیوں کا خادم و غلام قرار دیا۔ اب قبلہ بدل چکا تھا۔ اس لئے ان کی نظروں میں ایران جیسا مسلم دشمن ملک اسلام کا ہیرو اور محافظ قرار پایا۔

ان کے خوب صورت کرتوت کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ موقع پرستی اور تلون مزاجی کوئی مقدس عمل ہو۔ اسی لئے یہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مشہور زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش کے سرغنہ البغدادی کے نام موصوف محترم نے ایک خط لکھ کر ان کے اعمال کو سراہا۔ اور انہیں امیر المؤمنین تک کہہ ڈالا۔ شاید انہیں یہ بھی احساس نہ ہوا کہ اپنی ہوس کی خاطر انہوں نے اسلام کی شبیہہ بگاڑنے کی کوشش کی۔ اور گویا انہوں نے دنیا والوں کے اس الزام کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے ( معاذ اللہ)۔

سعودی عرب کے خلاف ان کے پیٹ کا مروڑ انہیں کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔ اور ہندوستانی مسلمانوں کو سعودی کے "ظالموں" سے اور ان کے‌ "ظلم" سے آگاہ کرنے لگے۔ گویا یہ ہند نہ ہوا عرب ہوگیا۔ یا کہ اب ہند میں کوئی ظالم نہ رہا اور یہاں مکمل امن قائم کرنے کے بعد موصوف کو خارجہ نظریات و منصوبوں کے تحت سعودی عرب میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری الہام کی گئی ہے۔

ظلم کے خلاف بولنا غلط ہرگز نہیں ہے! پھر چاہے ظالم مقدس ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن منتخب ظالموں کو نشانہ بنانا اور دیگر کو معصوم قرار دینا بہ ذات خود ایک ظلم ہے۔ موصوف سعودی عرب کے خلاف تو کھلی تلوار ہیں، لیکن فرعون وقت کو وہ منصف قرار دے رہے رہیں۔ ہزاروں مسلمانوں کے قتل کے ذمہ دار شخص کی وہ تعریف کرتے ہیں۔ اور ان کے نظام پر قصیدہ خواں ہیں! اور طرہ یہ ہے کہ موصوف ایک مولوی ہیں، اور بہت معتبر ادارے سے تعلیم یافتہ ہیں۔

ان کے اندھے عقیدت مندوں سے میرا سوال ہے کہ موصوف محترم کے مطابق کیا آپ بھی اس زمانے کے فرعون و نمرود کو منصف مانتے ہیں؟! اگر نہیں تو آپ کو احتجاج کرنا چاہئے۔ اور اپنی عقیدت کا قبلہ بدلنا چاہئے۔ اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے۔

Friday, January 27, 2017

تبت یدا ہوگئے

جو     فدا یانِ    راہِ      ہدا    ہو گئے
سارے   حق  ان  کے  مانو  ادا  ہوگئے

ہو کے  امی  بھی  وہ  رہ  نما  ہو  گئے
کشتیٔ     علم    کے   نا خدا   ہو   گئے

جو تھے دشمن کبھی میرے  سرکار کے
حسنِ   اخلاق    پر    وہ   فدا   ہو گئے

جب  سے رستہ ملا مصطفی کا مجھے  
کفر   کے   سارے   رستے  جدا   ہو گئے

اس کے بد بخت ہاتھوں کی گستاخیاں
تا  قیامت     وہ   تبت     یدا    ہو  گئے

 شاہِ   بطحا    کی   ہے  تربیت  یہ ظفؔر
ایک  ہی  صف  میں  شاہ  و گدا ہو گئے

Saturday, January 7, 2017

فیلڈ ورک

کسی بھی کامیاب سیاست دان کی کامیابی اس کی زمینی محنت یعنی فلیڈ ورک کے بہ قدر ہوتی ہے۔ 
زمینی ورک کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو بدعنوان اور مفاد پرست سیاست دانوں کا فیلڈ ورک اور دوسرا جو ایمان داری کے دعوے کے ساتھ میدان میں اترنے والوں کا فیلڈ ورک! 

اول الذکر کے لئے فیلڈ ورکس بہت مختصر اور مختلف طریقے کے ہوتے ہیں۔ وہ عوام کے طبقات کے اعتبار سے فیلڈ ورک کا انتخاب کرتے ہیں۔ بالکل ان پڑھ اور غریب و بے کس عوام کے لئے ان کا فیلڈ ورک بس انتخاب سے چند ساعات قبل چند ٹکڑے پھینک جاتے ہیں۔ اور وہی عوام جو پانچ سال تک حکومت کو کوستی رہتی ہے انہی ٹکڑوں پر پل پڑتے ہیں۔ ایمان ویمان ظرف ورف سب بک جاتا ہے۔ اور جب تک یہ نشہ اترتا ہے تب تک ان شاطر رہنماؤں کی قسمت لکھی جاچکی ہوتی ہے۔ پھر عوام مینڈکوں کی طرح ٹرٹراتے پھرتے ہیں۔ اور انہیں رہنماؤں کو کوستے ہیں جن سے کبھی ضمیر و ظرف کا سودا کیا تھا۔

میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ بعض لوگ تو اس طرز حکومت پر ایمان لاچکے ہیں۔ یعنی ان کا ایمان ہے کہ ان بد عنوانوں کو کبھی بھی ہرایا نہیں جاسکتا ہے۔ اس لئے خواہ مخواہ اپنے ووٹ برباد کرنے سے بہ تر ہوگا کہ اپنا ضمیر بیچ کر وقتی طور پر ہی سہی کچھ فائدہ تو ہوجائے۔

یہ تو صرف ایک طریقہ ہے۔ ورنہ ان کے کوزے میں نہ جانے اور کتنے طریقے ہیں۔ کبھی بین المذاہب نفرت بھڑکا کر،  کبھی ایک ایک ہی مذہب کے مختلف فرقوں کے مابین غلط فہمیاں بڑھا کر۔ کبھی خوف کو عام کرکے۔ اور کبھی صاف شبیہ کے امیدوار کے خلاف سازش کرکے۔
اور ایک ہوائی محنت بھی ہے۔ جو مختلف ذرائع ابلاغ میں جھوٹی تشہیر کے ذریعے عوام کو بہکاتے ہیں۔

اور ماشاء اللہ عوام اتنی "اسمارٹ" ہے کہ جب سب کچھ ختم ہوجاتا ہے تب سمجھ پاتی ہے کہ اسے کوئی الو بنا گیا ہے۔

خیر اتنے کار آمد زمینی محنتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہوگی۔ اور ان کے تمام طریقوں کے مد مقابل مضبوط و کار آمد طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔

ظاہر ہے ایک ایمان دار رہنما عوام کو پیسوں کی لالچ نہیں دے گا۔ مدمقابل کے اس پینترے کو نیست و نابود کرنے کے لئے سب سے پہلے عوام سے رابطہ بنانا ہوگا۔ جذباتی تقریروں کے ساتھ ساتھ مدمقابل کی ناکامیوں پر ایک ایک کرکے نشان لگانا ہوگا۔ عوام آپ پر کیوں بھروسہ کرے یہ بھی انہیں سمجھانا ہوگا۔ اور ان کے ضمیر کو جھنجھوڑنا ہوگا۔
اس کام کے لئے خود کی محنت کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ طور پر محنت کرنے والوں کی ایک بڑی جماعت کی ضرورت ہے۔ جو ہر علاقے سے ہوں۔ اور وہ اپنے ہی علاقے میں عوام کو ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کریں۔
نکڑ ناٹک، شاعری، اور آج کے دور میں سوشل میڈیا۔ خصوصا واٹس ایپ وغیرہ۔ 
یہ کارکنان بازاروں اور عوامی جگہوں پر جاکر لوگوں کو نت نئے طریقوں سے سمجھائیں۔

اور مدمقابل کے پیسوں کا جواب اس طرح بھی دیا جاسکتا ہے کہ انتخابی تشہیر کے شروعاتی دور سے کچھ رفاہی کام بھی کئے جائیں۔

وہ مذہبی منافرت پھیلائیں گے۔ آپ کو مذہب سے اوپر اٹھنا ہے۔ ہر مذہب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش اور مظاہرہ کرنا ہے۔

مد مقابل کی خامیوں اور بدعنوانیوں کے ثبوت بھی ساتھ رکھیں۔ اور عوام کے سامنے پیش کریں۔ اور عوام کے لئے اپنے مفاد سے دست بردار ہونا پڑے تو وہ بھی قبول کرلیں۔

کہیں کچھ پرانے رہنما جو آپ کی جماعت سے نہیں ہیں، لیکن وہ مقبول ہیں۔ اور مثبت محنت ہوئی تو ان کے جیتنے کے آثار زیادہ ہیں تو وہاں اپنے امیدوار نہ کھڑے کریں۔ بلکہ ان کی حمایت کریں۔ گرچہ وہ آپ کے حریف ہی کیوں نہ ہوں۔ 

اور بھی بہت سی باتیں ہیں۔ جن کے لئے طویل و عریض مضمون لکھنا ہوگا۔

Monday, December 26, 2016

گاؤں کی پر سکون زمیں چاہئے مجھے


 موجِ سخن فیس بک گروپ کے 166 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔

ختمِ رسل کی شرعِ متیں چاہئے مجھے
فرقوں کی مغز ماری نہیں چاہئے مجھے

مجھ کو سمجھ سکے وہ قریں چایئے مجھے
سیرت سے ہم سفر بھی حسیں چاہئے مجھے

یا رب مجھے بھی آہنی جذبہ نواز دے
خود سے بھی لڑ سکوں وہ یقیں چاہئے مجھے

 دنیا کی جستجو میں تجھے بھول چکا میں
سجدوں میں ہو مگن وہ جبیں چاہئے مجھے

شہروں کے شور و غل سے بہت اوب چکا ہوں
گاؤں کی پر سکون زمیں چاہئے مجھے

مظلومیت کا میں ہوں علَم نام ہے حلَب
انصاف کو عمر سا امیں چاہئے مجھے

  دنیا میں نعمتیں تو بہت تو نے دیں مجھے
عُقبیٰ میں تیری خلدِ بریں چاہیے مجھے

تیری نوازشوں کا طلب گار ہے ظفؔر 
احسان اب کسی کا نہیں چاہئے مجھے

سفاک دیکھنا ہو تو بشار دیکھنا

 موجِ سخن فیس بک گروپ کے 165 ویں فی البدیہہ عالمی طرحی مشاعرے میں لکھی گئی غزل۔



سفاک دیکھنا ہو تو بشّار دیکھنا
فرعون صفت ظالم و خوں خوار دیکھنا

مسلک الگ ہے ان کا تو مر جانے دیجئے
ہم کو فقط ہے مسند و دستار دیکھنا

مقصد فقط ہے تجھ کو ستانے کا یہ صنم
غصے کے وقت زردیٔ رخسار دیکھنا

دھوکے بہت ملے ہیں اسی کار و بار میں
اب دوستی سے قبل ہے کردار دیکھنا

میرے بغیر تجھ کو سکوں مل سکے گا کیا
میں بھی تڑپ رہا ہوں مرے یار دیکھنا

کردار یاں پہ کون تلاشے ہے ناصحا
اب ہم سفر بھی ہم کو ہے زر دار دیکھنا

جملوں کے شہ سوار نے نوٹوں کو رد کیا
کیا اور گل کھلائے گی سرکار دیکھنا

میں کیا کہوں کہ آج سراپا ہی گوش ہوں
سرگوشیوں میں مجھ کو ہے اظہار دیکھنا

ہنستے ہو تم جو آج ظفؔر پر تو ہنس بھی لو
رسوائی نا ملے سرِ بازار دیکھنا

Friday, December 16, 2016

حلب کا فرقہ کیا ہے؟

حلب پر میں کیا کہوں! اور کیا لکھوں!!؟ ویڈیوز دیکھنے کے بعد اب کچھ کہنے کے لئے بچا ہی کیا ہے! 

لوگ اپنے اپنے طرز پر چند پرسوز تحریریں لکھیں گے۔ نئے نئے #ہیش_ٹیگ بنیں گے۔ کچھ ایام تک یوں ہی یہ سلسلہ چلے گا۔ پھر برما کی نسل کشی کی طرح شام بھی جل چکا ہوگا۔ اور تب تک ہم سبھوں کو کوئی نہ کوئی نیا موضوع مل ہی جائے گا۔ اور قوم کی بے حسی میں اضافہ ہوتا ہی جائے گا۔

ہمیں ہر ماہ اپنے مخالف فرقوں پر دھواں دھار تقریریں کرنے کی عادت سی پڑی ہوئی ہے۔ ہم اسی میں بالکل کمفرٹیبل ہیں۔

 گذشتہ چند سالوں میں فیس بک اور ٹویٹر پر یہی ہوتا آرہا ہے۔ ہم اپنی مسندوں کو بچانے کے چکر میں قوم کو خود بانٹ رہے ہیں۔ قوم میں فروعی مسائل پر اتحاد قیامت تک شاید ناممکنات میں سے ہے۔ لیکن ملی اتحاد ممکن ہے۔ جس کی کئی مثالیں ماضی میں موجود ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج شام کی اس بدترین حالت میں ہم فرقہ فرقہ کھیل رہے ہیں! 

ہند میں حال ہی میں مسلم پرسنل لاء کو لے کر جو باتیں ہوئیں۔ اس وقت بھی سب فرقہ فرقہ کھیل رہے تھے۔ بھئی یہ کھیل تو چلتا رہے گا۔ لیکن کھیل کھیل میں دشمن آپ سے کھیل لے گا۔ اور یہ ضرور یاد رکھیں کہ یہ حالات آج شام میں ہیں کل کو آپ کا شہر بھی حلب بن سکتا ہے! پھر بھی کھیلتے رہو! میں بھی خواہ مخواہ بکے جارہا ہوں۔

Friday, November 11, 2016

کیوں ہو پرواہ مجھے سچ ہے وظیفہ میرا

ْ
                 تابعِ سنت و قرآں ہے عقیدہ میرا
                میں مسلمان ہوں ایماں ہے سلیقہ میرا

                نت نئے ہیں یہاں بدعات و خرافات بہت
                ان سے نفرت ہے کہ سنت ہے وطیرہ میرا

                گرچہ ہے میرا مخالف یہ زمانہ سارا
                کیوں ہو پرواہ مجھے سچ ہے وظیفہ میرا

                اب تو مسلک کی لڑائی کو ذرا رہنے دیں
                ورنہ پھر ڈوب ہی جائے گا سفینہ میرا

                مرے انداز پہ انگشت نمائی اس کی
                شاید اس نے نہیں دیکھا ہے طریقہ میرا

                میری تقدیر میں جو ہے وہ ملے گا مجھ کو
                چھین لے گا وہ سمجھتا ہے نصیبہ میرا

                ہو میسر مجھے جنت میں نبی کی صحبت
                کر لے منظور الہی یہ عریضہ میرا

                مرے دشمن کے فریبوں سے ہوئے ہو بد ظن
                سچ کو جانو تو سہی پڑھ لو صحیفہ میرا

              ان کو بتلا دو ظفؔر میرا نسب کیسا ہے
              خیرِ امت ہوں، ہے اسلام قبیلہ میرا

Saturday, November 5, 2016

مجھ کو اونچائی تلک یہ فیصلہ لے جائے گا


شیر شاہ آبادی انٹلیکچوئیل گروپ کے طرحی مشاعرے میں پیش کی گئی غزل

ایک دن یہ فخر تیرا مرتبہ لے جائے گا
تجھ سے تیرے دوستوں کا دائرہ لے جائے گا

اس کی محفل میں نہ جانا وہ بڑا بے ذوق ہے
 وہ تری ہر حس ترا ہر ذائقہ لے جائے گا

مت ملانا اس کی نظروں سے کبھی اپنی نظر
اک نظر میں تیرے دل کا جائزہ لے جائے گا

 تو سناتا ہے جسے اپنا سمجھ کر ہر غزل
ہر غزل کا وہ ردیف و قافیہ لے جائے گا

ٹھوکروں سے لے سبق اے شیر شہ آبادی سن
سمتِ منزل تجھ کو تیرا تجربہ لے جائے گا

دوریاں اپنوں سے تیری نا فنا کردیں تجھے
تجھ کو دلدل میں ترا یہ فاصلہ لے جائے گا

اب دیارِ غیر کو میں بھی کہوں گا خیر باد
مجھ کو اونچائی تلک یہ فیصلہ لے جائے گا

پست ہمت ہے وہ خود کیا مشورہ دے گا مجھے
وہ  مشیرِ    کار  میرا  حوصلہ    لے  جائے گا

سنت  و قرآن  ہی  بس  ہے  صراطِ  مستقیم
بابِ  جنت  تک یہی اک  راستہ  لے  جائے  گا

راستے دشوار ہیں پھر بھی ظفؔر چلتا ہی جا
منزلوں    تک  پیر   کا یہ  آبلہ   لے جائے   گا