Friday, December 28, 2018

ارے ٹھہرئے جناب!


ہر مسلک کے شدت پسند عناصر ہی اس مسلک کے دشمن واقع ہوئے ہیں! اور فی الحال ایسا ہی ہورہا ہے۔ یہ کون سی تُک ہے کہ کتا کاٹ لے تو کتے کو ہم بھی کاٹنے دوڑیں؟!

مولوی بدرالدین اجمل قاسمی نے جو کیا ہے وہ شرم ناک اور قابل مواخذہ ضرور ہے۔ لیکن اس کے جواب میں چند ایک کو مستثنی کردیں تو دیگروں نے جو طوفان کھڑا کیا ہے اسے کسی حال میں بھی اعتدال کا راستہ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ مانو کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے کوئی بھی پیچھے رہنا نہیں چاہتا ہے۔
الحمد للہ چند ایک ذمہ دارانہ اور معتدل تحریریں نظر آئیں، ورنہ وہی طوفان بدتمیزی!

کہیں دیکھا کہ کوئی ابن انسان موصوف کو شیطان ابن شیطان لکھ رہا ہے، اور بعض ابوجہل سے کم پر کسی صورت راضی نہیں ہیں۔ اور انہیں میں سے کچھ تو اب انہیں عالم کہنے کو بھی قریب از حرام قرار دیے جارہے ہیں۔

مجھے اندیشہ ہے کہ جب تک میری یہ تحریر ایسے باشعور نگہبانان ملت کے نظر نواز ہوگی تو وہ میرا نسب نامہ بھی آر ایس ایس اور ابن الوقتی سے جوڑ بیٹھیں گے۔ اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔ 

بہ ہر حال میری اس تحریر سے کوئی اس غلط فہمی کو نہ پال بیٹھے کہ میں مولانا بدر الدین اجمل صاحب کے اس قبیح فعل کا دفاع کر رہا ہوں۔ نہ، ہرگز نہیں! انہوں نے غلط کیا ہے۔ انہیں سربزم اپنی بات پر ندامت کا ظہار کرنا چاہئے! اور سلفی مکتب فکر سے معافی مانگنی چاہئے۔

خیر وہ کیا کریں گے یہ ان کا مسئلہ ہے! لیکن ہمیں جذبات کی رو میں بہ کر اعتدال کو چھوڑنا نہیں چاہئے۔ جرم کا جواب جرم سے دینا عقل مندی ہرگز نہیں ہے

#سبقتِ_لسانی

ساقئ جام کوثر ہمارے نبی

نعت نبی

داورِ روزِ محشر ہمارے نبی
ساقئ جامِ کوثر ہمارے نبی

ان کی گفتار حق، ان کا کردار حق
بالیقیں حق کا مظہر ہمارے نبی

وہ ہیں بدر الدجیٰ، وہ ہیں شمس الضحیٰ 
ماہ و پروین و اختر ہمارے نبی

ان کا ہر انگ خوشبو سے دھلتا ہوا 
تھے سراپا معطر ہمارے نبی

بے کسوں، بے کلوں کا سہارا تھے وہ
شافیِ قلبِ مضطر ہمارے نبی

ہم کو دولت ملی ان سے اسلام کی
دین و ایماں کا محور ہمارے نبی

قاطعِ جہل وہ، ماحیِ شرک وہ 
جن و انساں کا رہ بر ہمارے نبی

دشمنوں کو گلے سے لگایا کیا 
رحمتوں کا پیمبر ہمارے نبی

ان کا ہر لمس برکت کا مظہر ہوا
خیر و برکت کا مصدر ہمارے نبی

اے ظفر وہ معلم ہیں اخلاق کے
عمدہ سیرت کا پیکر ہمارے نبی

آپ ہی تو منصف ہیں، آپ کی عدالت ہے

غزل

آپ سے بچھڑنا اک کرب ہے اذیت ہے
ہاتھ تو ملا لیجے کون سی قباحت ہے

نفرتوں کی دیواریں آؤ  منہدم کر لیں
حکم دے نہیں سکتا، مان لو نصیحت ہے

جرم میرا نکلے گا، یہ یقین ہے مجھ کو
آپ ہی تو منصف ہیں آپ کی عدالت ہے

تحفۃً مجھے اس نے زخم ایسے بھیجے ہیں
داغ  ہے نہ گھاؤ ہے واہ کیا نفاست ہے

زخم بھی زمانے میں کون مفت دیتا ہے
نیکیوں کے بدلے میں یہ ستم غنیمت ہے

آپ کہہ رہے ہیں  کیوں اب تلک میں زندہ ہوں
میری زندگی تو بس موت سے عبارت ہے

آنسوؤں کو خوں کرکے پی رہا ہوں مدت سے
زندگی کی ہر ساعت مانئے قیامت ہے

آپ کی خوشی پر اب میرا حق نہیں کچھ بھی
تب عجب محبت تھی اب عجب عداوت ہے

شعر کی زباں میں اب زخم لکھ رہا ہوں  میں
نہ کوئی کہانی ہے نہ کوئی حکایت ہے

خون میں ترے اک دن زہر اپنا بھر دیں گے
آستیں میں سانپوں کو پالنا حماقت ہے

ہے بری یہ لت میری سچ کو سچ ہی کہتا ہوں
ہاں ظفر بھی باغی ہے سچ اگر بغاوت ہے

ماں

غزل:  ماں

دل کی تکلیف ساری مٹا جاؤ ماں
ایک پل کے لئے مسکرا جاؤ ماں

مدتوں سے ہیں بے خواب آنکھیں مری
سر کو سہلا کے لوری سنا جاؤ ماں

کتنی گستاخیاں مجھ سے سرزد ہوئیں
مامتا سے انہیں تم بھلا جاؤ ماں

پاس آؤ کہ قدموں کو میں چوم لوں
ایک جنت مجھے تم دلا جاؤ ماں

آرزو ہے کہ رب مجھ سے راضی رہے
مجھ پہ اپنی رضا تم جتا جاؤ ماں

تم سے تکرار کرکے پشیمان ہوں
ہار کر پھر مجھے تم جتا جاؤ ماں

غم کے صحرا میں مدت سے بھٹکا ہوں میں
اب تو خوشیوں کا رستہ دکھا جاؤ ماں

تم دعا دو کہ روشن ستارہ بنوں
سرخ رو یوں ظفر کو بنا جاؤ ماں

وہ ناپے ہے زخموں کی گہرائیاں کیوں

غزل

ستاتی ہیں ظالم یہ پروائیاں کیوں
مجھے کاٹ کھاتی ہیں تنہائیاں کیوں 

بپا ہوگا پھر کوئی طوفان شاید
وہ لینے لگے ہیں یوں انگڑائیاں کیوں

خیالوں میں خوابوں میں جو بس چکے تھے
اب ان کی ہی چبھتی ہیں پرچھائیاں کیوں

وہ دیکھے مرا ظرف اگر دیکھنا ہے
وہ ناپے ہے زخموں کی گہرائیاں کیوں

یہ آنکھیں  تو کچھ اور ہی کہہ رہی ہیں
چھپاتے ہیں مجھ سے وہ سچائیاں کیوں

انہیں آئنہ تو دکھایا نہیں ہے؟
کہ پھیکی پڑیں ساری رعنائیاں کیوں

ظفر اپنے ایمان کی بھی خبر لو
ہر اک موڑ پر اتنی  رسوائیاں کیوں

مگر حشر تک جاوداں ہیں محمد


       *نعت نبی ﷺ*

ہدایت بہ ہر انس و جاں ہیں محمد
نبوت کے حتمی نشاں ہیں محمد

نبی کا ہے دشمن جو بدعت کرے ہے
وہ چاہے کہے میری جاں ہیں محمد

وہ شارح ہیں تفسیرِ قرآن بھی ہیں
یوں قرآن میں ہی نہاں ہیں محمد

وہ قدوہ ہیں اور رحمتِ عالمیں ہیں
چنیدہ ہیں خیرِ زماں ہیں محمد

کبھی اپنے خادم کو اف تک نہ بولیں
محاسن کے ایک آسماں ہیں محمد

انہیں موت اگرچہ ملی ہے ظفر جی
مگر حشر تک جاوداں ہیں محمد

Friday, June 15, 2018

چاند برائے فروخت

#چاند_برائے_فروخت
15 جون 2018

یہ لو! اب مفتیان کرام کا سیلاب امڈ پڑا ہے! 
یار "گجب گجب" اصول بتائے اور بنائے جارہے ہیں!
درجن بھر افراد کی گواہی تو گئی بھاڑ میں! اب "بھکت " یہ سوال داغے جارہے ہیں کہ "کیا آپ نے بہ ذات خود چاند دیکھا؟"
" آپ کے علاقے میں کسی نے دیکھا؟"

تصویر: گوگل


اماں یار جنھوں نے دیکھا ان گوشت پوست کے پیکروں کو تو "بزرگانِ دین" نے "مردہ" اوہ معاف کیجئے گا "کالعدم" ہی "گھوشت" کردیا ہے۔ اب دیگروں کو کیا مرنے کا شوق چڑھا ہے جو اوکھلی میں سر رکھیں!؟ 
ایک بھکت نے تو یہاں تک ارشاد فرما دیا: 
"چوں کہ شعبان 29 دن کا تھا اس لئے رمضان 30 کا ہی ہوگا۔" 
وہ جناب اسی پر نہیں ٹھہرے بلکہ پھر فقہ کا ایک "ہلالی اصول" بیان فرما دیا اور گویا ہوئے: 
"پے در پے دو ماہ 29 دن کے نہیں ہوتے!" 
سبحان اللہ! مفتی صاحب اب تک کس غار میں پردہ فرمائے ہوئے تھے؟ اب تک کے سارے جھگڑے ختم ہوگئے ہوتے اگر آپ پہلے ظہور فرماتے!
خیر! یہ چاند بھی نا بڑا بے حس نکلا! 
اسے ذرا بھی خیال نہ آیا کہ "خیر امت" اس کے ایک دیدار کے لئے "سماجی روابط کے جادوئی جال میں "تختۂ کلید " جیسے ترقی یافتہ اسلحے سے ایک دوسرے کی عزت اور شہرت اور نہ جانے کس کس چیز کو تار تار کرنے کو تیار ہے۔ اور چاند ہے کہ اسے نخرے کی پڑی ہے! اسی اثناء کسی نے کہہ کیا دیا کہ ہم نے اس ظالم کی ایک جھلک کا دیدار کر لیا ہے۔ بس اب کیا تھا! جنگ جاری ہوگئی! جو ہنوز جاری ہے۔
"کیا تمھیں کل ہی چہرہ دکھانا ضروری تھا! ایک شام اور انتظار ہوجاتا تو کون سی قیامت آجاتی!"
 اس سرزنش پر اس بے حس کو کچھ بھی فرق نہیں پڑا۔ مغرب سے قبل جلوۂ حسن کا ظہور ہوا تھا جو دیر عشاء تک "خیر امت " کا منہ چڑانے میں لگا رہا۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ "لو دیکھ لو! میرے دیدار کے لئے مرے جارہے تھے!"
خیر، "ان کا حسن ان کی مرضی!"
 آج جی بھر کے دیدار کا شرف حاصل ہوگیا! مجھے لگا کہ شاید قصہ یہیں تمام ہوگا! 
لیکن نہیں جناب عمر تمام ہوجائے گی پر یہ قصہ نا تمام ہی رہے گا! 
پھر اب اسکرین سیاہ کرنے کا فائدہ نہیں ہے! آپ ایک عدد فیس بک اور ایک عدد واٹس اپ لے آئیں۔ اور اس ناتمام قصے کو تختۂ کلید کی مدد سے تمام کرتے رہیں! 
#عید_سعید
تحریر: ظفر شیر شاہ آبادی


Friday, October 13, 2017

TV डिबेट या गली का झगड़ा

यूंं तो पहले ही दूर दर्शन अर्थात टीवी बहुत कम देखा करता था, अौर जब कभी देखता था तो चंद गिने चुने चैनलों को ही देखता था। मझे समाचार से ज्यादा डिबेट देखना अच्छा लगता था। हालांकि यह बहुत पुराने समय की बात नहीं है, फिर भी आज से कुछ वर्षों पहले ही टीवी पर किसी भी विषय को लेकर चर्चा होती तो उस चर्चा में उपस्थित  सभी अतिथिगण बहुत भद्र अौर शालीन हुआ करते थे।
अब डिबेट चलते हुए किसी भी चैनल के सामने जाने से ही मन सिहरने लगता है। जी हां मैं सत्य बोल रहा हूं।
आज अब डिबेट अौर चर्चा बाजारू हो गई है। क्या पता कब कोई रंगीन महाराज जी क्रोधित होकर महिला पर सरे आम हाथ उठा दें। फिर क्या बच्चों को हम यही शिक्षा देंगे। आने वाली नसलें जब तक अपने आप में खोई हुई हैं, सोई हुई हैं वही ठीक है अन्यथा वह यही सब आचरण सीखेगी।

आज के डिबेट डिबेट न हुए गली नुक्कड़ में सिर धुंते जुवे बाजों की आपसी लड़ाई होगई! झूठा व्यक्ति यह जानते हुए भी अपनी ढिटाई पर अड़ा रहता है कि वह गलती पर है। फिर आए दिन झूठ को सच दिखाने कि इस प्रयास को देख कर यही लगता है कि अमुक चैनल बिक चुका है अौर अमुक चैनल सत्तारूड़ दल की रखेल है! महाशय आप बुरा न मानें, रखेल से बी नीच यदि कोई शब्द मेरी जान कारी में होता तो मैं वही लिखता।

आज के चर्चा पहले से ही गठित होते हैं। कौन लड़ेगा, अौर किस को जीतना हे यह सेट पर उपस्थित अतिथि गण को भी पता होता है, अौर दर्शक गण तो ख़ैर अब चालाक हो चुके हैं, उन्हें भी पता चल ही जाता है कि इस का अंत क्या होगा।

Friday, September 29, 2017

رنگ بدلتا انسان

منیہاری، کٹیہار۔


عنوان دیکھ کر چونک گئے!؟ جی ہاں آپ نے ٹھیک ہی پڑھا ہے۔ رنگ بدلتا انسان! 
ہائی اسکول میں سائنس اور جغرافیہ میں جان داروں کی ایک صلاحیت کے بارے میں پڑھا تھا۔ جسے "توافق" کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صلاحیت ہے جس کی مدد سے ایک جان دار خود کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنے ماحول کے تقاضے کے مطابق خود کو ڈھال سکتا ہے۔ اور اپنے اندر ضروری تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس وقت کتابوں میں کئی مثالیں پڑھنےکو ملی تھیں۔ لیکن عملی طور پر ان میں سے بس رنگ بدلتے گرگٹ کا ہی مشاہدہ کر سکا تھا۔ کہ خود کو محفوظ رکھنے کے لئے گرگٹ اپنے رنگ کو اپنے ماحول کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ کہاوتوں سے سبق لیتے ہوئے ہم یہی جانتے ہیں کہ کوا جب بھی چالاکی دکھاتے ہوئے اپنا رنگ بدل کر ہنس بننا چاہے گا وہ ذلیل و رسوا ہوگا۔
تف ہے ہم انسانوں پر! کہ ہم کووں کو ہنس بننے پر تو کوستے ہیں لیکن بہ وقت ضرورت خود رنگ بدلنے میں ذرا بھی شرم نہیں کرتے! ایسے انسانوں کو جعل ساز اور کرتب باز بھی کہا جاتا ہے۔ اور تاریخ میں بھی انہیں ایسے بے شمار حسین القاب نوازے جاتے ہیں۔
دور حاضر میں بھی ایک کرتب باز انسان کو امت اسلامیہ کی تاریخ میں انہی ناموں سے یاد کیا جائے گا۔ جو ہر موقع پر اپنا رنگ بدلتا رہتا ہے۔ اور اس سے زیادہ افسوس اس شخص کے اندھے عقیدت مندوں پر جو ہر رنگ میں ان کی حمایت اور دفاع میں جان کی بازی لگاتے نظر آتے ہیں۔
ایک زمانے میں موصوف محترم کی سعودی عرب سے اچھی خاصی الفت تھی۔ جہاں کی امداد سے موصوف کے ادارے اور روزگار بہ حسن و خوبی رواں دواں تھے۔ پھر یکایک ایک روز پتہ نہیں سعودی عرب نے ان کی شان عالی میں ایسی کیا گستاخی کردی کہ وہی سعودی عرب اب کفرستان بن گیا۔ ان کی نظر میں جو ملک کبھی اسلام کا خادم تھا موصوف نے اور ان کے عقیدت مندوں نے اسے امریکہ، ہیود اور عیسائیوں کا خادم و غلام قرار دیا۔ اب قبلہ بدل چکا تھا۔ اس لئے ان کی نظروں میں ایران جیسا مسلم دشمن ملک اسلام کا ہیرو اور محافظ قرار پایا۔

ان کے خوب صورت کرتوت کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ موقع پرستی اور تلون مزاجی کوئی مقدس عمل ہو۔ اسی لئے یہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مشہور زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش کے سرغنہ البغدادی کے نام موصوف محترم نے ایک خط لکھ کر ان کے اعمال کو سراہا۔ اور انہیں امیر المؤمنین تک کہہ ڈالا۔ شاید انہیں یہ بھی احساس نہ ہوا کہ اپنی ہوس کی خاطر انہوں نے اسلام کی شبیہہ بگاڑنے کی کوشش کی۔ اور گویا انہوں نے دنیا والوں کے اس الزام کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے ( معاذ اللہ)۔

سعودی عرب کے خلاف ان کے پیٹ کا مروڑ انہیں کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔ اور ہندوستانی مسلمانوں کو سعودی کے "ظالموں" سے اور ان کے‌ "ظلم" سے آگاہ کرنے لگے۔ گویا یہ ہند نہ ہوا عرب ہوگیا۔ یا کہ اب ہند میں کوئی ظالم نہ رہا اور یہاں مکمل امن قائم کرنے کے بعد موصوف کو خارجہ نظریات و منصوبوں کے تحت سعودی عرب میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری الہام کی گئی ہے۔

ظلم کے خلاف بولنا غلط ہرگز نہیں ہے! پھر چاہے ظالم مقدس ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن منتخب ظالموں کو نشانہ بنانا اور دیگر کو معصوم قرار دینا بہ ذات خود ایک ظلم ہے۔ موصوف سعودی عرب کے خلاف تو کھلی تلوار ہیں، لیکن فرعون وقت کو وہ منصف قرار دے رہے رہیں۔ ہزاروں مسلمانوں کے قتل کے ذمہ دار شخص کی وہ تعریف کرتے ہیں۔ اور ان کے نظام پر قصیدہ خواں ہیں! اور طرہ یہ ہے کہ موصوف ایک مولوی ہیں، اور بہت معتبر ادارے سے تعلیم یافتہ ہیں۔

ان کے اندھے عقیدت مندوں سے میرا سوال ہے کہ موصوف محترم کے مطابق کیا آپ بھی اس زمانے کے فرعون و نمرود کو منصف مانتے ہیں؟! اگر نہیں تو آپ کو احتجاج کرنا چاہئے۔ اور اپنی عقیدت کا قبلہ بدلنا چاہئے۔ اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے۔

Friday, January 27, 2017

تبت یدا ہوگئے

جو     فدا یانِ    راہِ      ہدا    ہو گئے
سارے   حق  ان  کے  مانو  ادا  ہوگئے

ہو کے  امی  بھی  وہ  رہ  نما  ہو  گئے
کشتیٔ     علم    کے   نا خدا   ہو   گئے

جو تھے دشمن کبھی میرے  سرکار کے
حسنِ   اخلاق    پر    وہ   فدا   ہو گئے

جب  سے رستہ ملا مصطفی کا مجھے  
کفر   کے   سارے   رستے  جدا   ہو گئے

اس کے بد بخت ہاتھوں کی گستاخیاں
تا  قیامت     وہ   تبت     یدا    ہو  گئے

 شاہِ   بطحا    کی   ہے  تربیت  یہ ظفؔر
ایک  ہی  صف  میں  شاہ  و گدا ہو گئے